Arz Hunar Bhi Wajah Shikayat Ho Gayi

عرض ہنر بھی وجہ شکایات ہو گئی

عرض ہنر بھی وجہ شکایات ہو گئی

چھوٹا سا منہ تھا مجھ سے بڑی بات ہو گئی

دشنام کا جواب نہ سوجھا بجز سلام

ظاہر مرے کلام کی اوقات ہو گئی

دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف

اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی

یا ضربت خلیل سے بت خانہ چیخ اٹھا

یا پتھروں کو معرفت ذات ہو گئی

یاران بے بساط کہ ہر بازئ حیات

کھیلے بغیر ہار گئے مات ہو گئی

بے رزم دن گزار لیا رتجگا مناؤ

اے اہل بزم جاگ اٹھو رات ہو گئی

نکلے جو میکدے سے تو مسجد تھا ہر مقام

ہر گام پر تلافئ مافات ہو گئی

حد عمل میں تھی تو عمل تھی یہی شراب

رد عمل بنی تو مکافات ہو گئی

اب شکر ناقبول ہے شکوہ فضول ہے

جیسے بھی ہو گئی بسر اوقات ہو گئی

وہ خوش نصیب تم سے ملاقات کیوں کرے

دربان ہی سے جس کی مدارات ہو گئی

ہر ایک رہنما سے بچھڑنا پڑا مجھے

ہر موڑ پر کوئی نہ کوئی گھات ہو گئی

یاروں کی برہمی پہ ہنسی آ گئی حفیظؔ

یہ مجھ سے ایک اور بری بات ہو گئی

حفیظ جالندھری

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(854) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Hafeez Jalandhari, Arz Hunar Bhi Wajah Shikayat Ho Gayi in Urdu. This famous Urdu Shayari is a , and the type of this Nazam is Urdu Poetry. Also there are 104 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.4 out of 5 stars. Read the poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Hafeez Jalandhari.