Ju Kaal Zameen Per Pare Hue The Ju Ab Zameen Main Pare Hue Hain

جو کل زمیں’’ پر‘‘ پڑے ہوئے تھے جو اب زمیں’’ میں‘‘ پڑے ہوئے ہیں

جو کل زمیں’’ پر‘‘ پڑے ہوئے تھے جو اب زمیں’’ میں‘‘ پڑے ہوئے ہیں

نَجانے قبروں پہ اُن کی ہم کیوں چراغ لے کر کھڑے ہوئے ہیں

تُو روز جن کو عبادتوں کے صلے میں یزداں سے مانگتا ہے

کسی کے تاجِ عمَل میں دیکھو! وہ سب نگینے جَڑے ہوئے ہیں

نہ رُوح کو ہے پتہ ہمارا، نہ جسم ہی ہم کو جانتا ہے

ہم ایک صحرائے اجنبیّت میں گردنوں تک گڑے ہوئے ہیں

ہوائے تازہ ہماری بستی کے موسموں کی بھی کچھ خبر لے

یہاں کے انسان، پیڑ، پودے گلے ہوئے ہیں، سڑے ہوئے ہیں

ہمیں تو محرومیوں کے لشکر کی پیش قدمی کا ڈر نہیں ہے

ہم اپنے بچپن میں مُفلسی کی تمام جنگیں لڑے ہوئے ہیں

کچھ اس لئے بھی دِیے جلانے سے عشق سا ہم کو ہو گیا ہے

ہم اِس نگر کی اندھیری گلیوں کی ٹھوکروں میں بڑے ہوئے ہیں

ہمارے مابین اب جدائی کا فیصلہ وقت کر چکا ہے

محبتوں کے شجر سے دو پات اِس لئے تو جھڑے ہوئے ہیں

تمہی بتاؤ کہ اب تعلُّق کی ناؤ کیسے بچے گی واصفؔ

تم اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہو، ہم اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں

جبار واصف

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(768) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Jabbar Wasif, Ju Kaal Zameen Per Pare Hue The Ju Ab Zameen Main Pare Hue Hain in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Social, Sufi Urdu Poetry. Also there are 30 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.7 out of 5 stars. Read the Love, Social, Sufi poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Jabbar Wasif.