Aik Ajab Hi Silsala Tha Main Na Tha

اک عجب ہی سلسلہ تھا میں نہ تھا

اک عجب ہی سلسلہ تھا میں نہ تھا

مجھ میں کوئی رہ رہا تھا میں نہ تھا

میں کسی کا عکس ہوں مجھ پر کھلا

آئنے کا آئنہ تھا میں نہ تھا

میں تمہارا مسئلہ ہرگز نہ تھا

یہ تمہارا مسئلہ تھا میں نہ تھا

پھر کھلا میں دونوں کے مابین ہوں

اک ذرا سا فاصلہ تھا میں نہ تھا

ایک زینے پر قدم جیسے رکیں

تری رہ کا مرحلہ تھا میں نہ تھا

وہ جو اک گم کردہ رہ تھا دشت میں

وہ تو میرا رہنما تھا میں نہ تھا

اونچی نیچی راہ محو رقص تھی

ڈگمگاتا راستہ تھا میں نہ تھا

تم نے جس سے سمت پوچھی دشت میں

وہ کوئی قبلہ نما تھا میں نہ تھا

یہ کہانی تھی مگر میری نہ تھی

وہ جو مرد ماجرا تھا میں نہ تھا

میں تو اپنی شاخ سے تھا متصل

پات جو وقف ہوا تھا میں نہ تھا

خود سے مل کر بجھ گیا تھا میں تو کل

دیپ جو شب بھر جلا تھا میں نہ تھا

میں نہ تھا کہتا تھا جو ہر بات پر

وہ تو کوئی دوسرا تھا میں نہ تھا

میں تو احمدؔ کب سے محو یاس ہوں

کل جو محفل میں ہنسا تھا میں نہ تھا

محمد احمد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(464) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Mohammad Ahmad, Aik Ajab Hi Silsala Tha Main Na Tha in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 28 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.3 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Mohammad Ahmad.