Khamosh Hoon Main Lab Pay Shikayat Tu Nahi Hai

خاموش ہوں میں لب پہ شکایت تو نہیں ہے

خاموش ہوں میں لب پہ شکایت تو نہیں ہے

فریاد کروں یہ مری عادت تو نہیں ہے

جو موج غم و درد اٹھی ہے مرے دل میں

ہنگامہ تو بے شک ہے قیامت تو نہیں ہے

شاید مجھے مل جائے مرے درد کا درماں

امید سہی چین کی حالت تو نہیں ہے

فرصت میں مجھے یاد بھی کر لیجیے اک دن

یہ عرض محبت کی علامت تو نہیں ہے

مل جائے سر راہ کسی موڑ پہ کوئی

اک حادثہ بے شک ہے رفاقت تو نہیں ہے

انصاف جسے حق کا طرف دار کہیں سب

اس ملک میں قائم وہ عدالت تو نہیں ہے

کیوں گھر سے نکلتے ہوئے ڈرتے ہیں یہاں لوگ

اس شہر میں قانون حفاظت تو نہیں ہے

اللہ رضا پر تری راضی ہی رہوں گی

ہو شکوہ زباں پر یہ جسارت تو نہیں ہے

آباد رہا دل میں وہی ایک سبیلہؔ

اب غیر کو آنے کی اجازت تو نہیں ہے

سبیلہ انعام صدیقی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(623) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Sabeela Inam Siddiqui, Khamosh Hoon Main Lab Pay Shikayat Tu Nahi Hai in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 23 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.7 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Sabeela Inam Siddiqui.