بند کریں
شاعری امیر فاروق آ بادیدکان کے نظارے
دکان کے نظارے
شاعر : امیر فاروق آ بادی
دکان کے نظارے

دیکھو یارو کیا کیا ہیں دکان کے نظارے
بوتل چائے اور نان کے نظارے
گندی مندی ٹکی اور پکوان کے نظارے
ٹوٹے پھوٹے برتن اور سامان کے نظارے
دیکھو یارو کیا کیا ہیں دکان کے نظارے
سکول میں سجی ہے اک دکان میاں
بکتے ہیں یاں ٹکی اور نان میاں
دیکھاہے یاں حیرت کا سامان میاں
کرسی ومیز نہ کوئی شان میاں
دیکھو یارو کیا کیا ہیں دکان کے نظارے
چنگیر ہے نہ کوئی پلیٹ وہاں
کسی بندے کا نہیں ریٹ وہاں
کچھ بھرتے ہیں کھڑے ہو کر پیٹ وہاں
کئی کھا کے ہوتے ہیں لم لیٹ وہاں
دیکھو یارو کیا کیا ہیں دکان کے نظارے
کچھ دیوانے ہیں صرف پور چور کے
کوئی کھائے نان چٹنی میں کھور کھور کے
کوئی تلوائے ٹکی نان پر توڑ کے
کوئی ڈالے نان جیب میں مروڑ کے
دیکھو یارو کیا کیا ہیں دکان کے نظارے
سوچتا ہوں یہ کوئی لٹو ہے کہ ٹکی ہے
شکل میں کتنی بھدی اور تیکھی ہے
اندر سے کچی اور ذائقے میں پھیکی ہے
دو روپے کی چیز سات روپے میں بکی ہے
دیکھو یارو کیا کیا ہیں دکان کے نظارے
یاںاک ہستی کی ہے جان ٹکی
رکھتے ہیں جیب میں وہ نان ٹکی
بن گئی ہے ان کی پہچان ٹکی
کیا خوب ملی ہے تجھے شان ٹکی
دیکھو یارو کیا کیا ہیں دکان کے نظارے


کس شان سے نان کو جیب سے نکالتے ہیں
پھر عجب انداز سے منہ میں ڈالتے ہیں
پھر شاہانہ اداﺅں سے منہ مارتے ہیں
ہمارے جذبات کو بھی ابھارتے ہیں
دیکھو یارو کیا کیا ہیں دکان کے نظارے

کوئی پیئے چائے اور کوئی کوکا کولا
کوئی سادہ پانی اور تسبیح پر مولا مولا
کسی نے بے سود جیب کو ٹٹولا
کسی نے سچ میں بٹوہ کھولا
دیکھو یارو کیا کیا ہیں دکان کے نظارے
کسی نے پی لی کسی اور کی چائے
کوئی دیکھ کے چائے کو ہاتھ ملائے
کوئی ویسے ہی پہنچے بن بلائے
کوئی بیٹھا کرسی کو آگے پیچھے ہلائے
دیکھو یارو کیا کیا ہیں دکان کے نظارے

کہیں دنیا میں نیک بے نمازی دیکھے
کئی چور ، چغل خور نمازی دیکھے
کہیں سستی کاہلی کے عادی دیکھے
لکھتا وہی ہے جو امیر فاروق آبادی دیکھے
دیکھو یارو کیا کیا ہیں دکان کے نظارے
امیر فاروق آ بادی © جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

(0) ووٹ وصول ہوئے