JAB SE TUM KO DEKHA HA

جب سے تم کو دیکھا ہے

جب سے تم کو دیکھا ہے خود کو کبھی نہیں دیکھا

ہو میری سوچ کا محور تُم

تُمہی میرے دِل کا چراغ

تُم کِسی ویرانے سے گزرو

ایک پل میں ہوجائے باغ

پھول کو اگر چُھو لو

مُسکرا اُٹھے وہ بھی

رات کو اگرنِکلو

جگمگا اُٹھے وہ بھی

پھول ہوں میں باغوں کا

اورمیری مہک تُم ہو

ننھا سا پرندہ ہوں

اورمیری چہک تُم ہو

تُم سے اے میری جاناں

کُچھہ نہیں کہا اب تک

میں تو چُپ ہی رہا اب تک

اب میں تم سے کہتا ہوں

پرتُم سے کہہ نہیں سکتا

بات دراصل یہ ہے

بِن تیرے رہ نہیں سکتا

تُم اگر ہاں کہہ دو تو خود میں لوٹ آؤں مَیں

کہ

جب سے تم کو دیکھا ہے خود کو کبھی نہیں دیکھا

محمدعاصم نقوی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(550) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ شاعری

Your Thoughts and Comments

Urdu Poetry of Syed Muhammad Asim Naqvi, JAB SE TUM KO DEKHA HA in Urdu. Also there are 6 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.4 out of 5 stars. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Syed Muhammad Asim Naqvi.