"عمران خان صرف تقریر کرسکتا ہے" !

پتہ نہیں وہ کونسا کاغذ کا ٹکڑا ہے جو اِنہیں مجبور کرتا ہے کہ سچ نہ بولو، نہ سنو اور اگر بولو تو آدھا سچ جو کہ جھوٹ کے مترادف ہوتا ہے بات جب عمران خان کی کارکردگی کی ہوگی تو بات شروع سے ہوگی،

مریم مسعود بدھ اپریل

Imran Khan Sirf Taqreer Kar Skata Hai
” لاک ڈاؤن کیوں نہیں کرتا “
"عمران خان صرف تقریر کرسکتا ہے"
آگیاپھر غربت کا رونا رونے “
” لو پھر زکاتہ مانگ لی “
یقین کریں بغضِ عمران کرونا سے بھی زیادہ خطرناک وائرس ہے جو کچھ صحافی حضرات میں بُرے طریقے سے پھیل چکا ہے
پتہ نہیں وہ کونسا کاغذ کا ٹکڑا ہے جو اِنہیں مجبور کرتا ہے کہ سچ نہ بولو، نہ سنو اور اگر بولو تو آدھا سچ جو کہ جھوٹ کے مترادف ہوتا ہے
بات جب عمران خان کی کارکردگی کی ہوگی تو بات شروع سے ہوگی، بات 2018 سے نہیں تب سے ہوگی جب سے یہ ملک کی جڑیں کمزور کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے، جب ملک کا دیوالیہ نکل گیا خان کے ہاتھ میں تھما کے کہا گیا ‘لو اب چراغ رگڑو اور ہمیں خوشحال کردو’ وہ بھی چیتا اس آس پر چل پڑا کہ محنت کروں گا نیت صاف ہے اللہ ساتھ دے گا، اللہ ساتھ تو دے گا انشاءاللہ مگر آزمائشیں لے گا۔

(جاری ہے)


چلیں اب بات شروع کرتے ہیں 2018 سے خان آیا تو وہ آفات آئیں جو پہلے کبھی نہ آئیں، حکومت میں لوگ آتے ہیں تو 5 ماہ الیکشنز کی تھکن اتارتے ہیں، سکون کرتے ہیں مگر اس اللہ کے بندے نے پہلے دن آفس سنبھالا تو پتہ چلا کہ اسکی سوچ سے زیادہ تباہی مچی ہوئی ہیں
1: معاشی کرائسز:
معاشی کرائسز کی بات کریں تو ملک ڈیفالٹ ہوچکا تھا، ادائیگیوں کیلئے پیسہ نہیں تھا اور IMF کے پاس فوری جاتے تو بوجھ غریب نہ سنبھال پاتا، مگر اس نے ہمت نہ ہاری اپنا نفس مارا اور کٹورا پکڑ کے مختلف ممالک سے پیسہ مانگا تاکہ IMF کے قہر سے بچ سکیں، ایکسپورٹس 0 تھیں، ریزورز ایسے تھے کہ اپنا جنگ کی حالت میں دفاع کرنا بھی ناممکن تھا، ہر ادارہ خسارے میں اس سب کے باوجود آج صرف ڈیڑھ سال میں خسارے بھی کم اور روپیہ بھی مضبوط ہوتا جارہا ہے
2: فارن پالیسی:
فارن پالیسی کی بات کریں تو ہر ملک ساتھ چھوڑ چکا تھا، پاکستان کو دنیا میں دہشتگرد ریاست سمجھا جاتا تھا حتیٰ کہ ریاض سمٹ میں اسلامی دنیا کے واحد ایٹمی ملک کے وزیراعظم کو تقریر کرنا تو دور کسی نے منہ تک نہ لگایا، امریکی صدر گالیاں دیتا تھا، مودی کا پاکستان دہشتگردی ریاست کا بیانیہ عام ہوچکا تھا، بلکہ ہمارے اپنے تین بار کے وزیراعظم نے ہی اپنے ملک کو دہشتگرد ملک اور اپنی فوج کو دہشتگردوں کی حمایتی فوج کہہ دیا تھا
مگر آج صرف ڈیڑھ سال میں ساری گیم الٹ چکی ہے، وہی امریکی صدر کہتا ہے “پاکستان عظیم ملک ہے، عظیم لوگ ہیں اور وزیراعظم عمران خان میرے عظیم دوست ہیں” آج وہی ملک اسلامی دنیا کا مرکز بن چکا ہے اور اسی مودی کا بیانیہ اسی پر الٹ پڑچکا ہے، دنیا میں ہٹلرثانی اور انتہاپسند مشہور ہوچکا ہے۔


3: مہنگائی:
مہنگائی موزوں ہو تو باقی مشکلات اپنی جگہ مگر مہنگائی سب سے بڑی مصیبت تھی غریب آدمی کا جینا مشکل ہوا پڑا تھا، کچھ میڈیا اور اپوزیشن کا پروپیگنڈہ اتنا تھا کہ ہر چھوٹا نوازشریف دکان پہ بیٹھ کر حکومت کو دو گالیاں دے کر گاہک سے من پسند قیمت بٹور لیتا تھا، مگر اس مسئلےپر بھی خود وزیراعظم نے توجہ دی تو فروری کے ہی اعدادوشمار میں پتہ چلتا ہے کہ یہ کنٹرول ہوچکی ہے، آنے والے دنوں میں مزید کم ہوگی انشاءاللہ
4: کشمیر/ بھارت:
اور جب بات مشکلات کی ہورہی ہے تو مسئلہ کشمیر اور بھارتی منافقت کو کیسے بھول سکتے ہیں ؟ جب خان حکومت میں آیا تو بھارت میں الیکشن سیزن تھا اور آپ سب واقف ہی ہیں وہاں پاکستان مخالف چورن بِکتا ہے، مودی نے اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کیلئے پلوامہ ڈرامہ رچایا جسے خان نے منہ توڑ جواب دیا اور کہا “ہم جواب دینے کا سوچیں گے نہیں، ہم جواب دیں گے” اور دنیا نے ہمارا جواب دیکھا
پانچ اگست کو کشمیر میں ظلم اور پھر آزاد کشمیر پر حملے کی دھمکیوں کا بھی خان نے اقوامِ متحدہ میں دوٹوک جواب دیا “اللہ کے سوا کوئی خدا نہیں، اور ہم مقابلہ کریں گے” اور اپنی پوری جان لگا کر دنیا کو مسئلہ کشمیر سمجھایا۔


پھر مشکلات کا سفر یہاں بھی ختم نہیں ہوا، اب یہ کروناوائرس نامی وبا پھیلی تو سب کو اپنی جان کی فکر ہے مگر خان کو اُس غریب کی جان کی فکر ہے جو دو وقت روٹی کے پیسے نہ ملے تو کرونا سے بچ گیا تو بھوک سے مر جائے گا
ہمارا میڈیا پچھلے دس دن سے پروپیگنڈہ کررہا ہے کہ لاک ڈاؤن کیوں نہیں کررہے ؟ آج پڑوسی ملک کی حالت دیکھ کے سمجھ جائیں کہ خان نے لاک ڈاؤن کیوں نہیں کیا، کیونکہ جب غریب ملک بند ہوں تو غریب بھوک سے مر جاتا ہے پچھلے ڈیڑھ سال سے وہ معیشت مستحکم کرنے کیلئے اتوار کو بھی دفتر میں بیٹھتا ہے اور آج جب معیشت سنبھلی ہے تو مکمل لاک ڈاؤن کردے ؟ آپ مثالیں دیتے ہیں امیر ممالک کی وہ برداشت کرسکتے ہیں ہم نہیں کرسکتے، جب آپ کی بہتری کیلئے فنڈ مانگتا ہے تو بھکاری بولتے ہو جب آپ کیلئے راتیں جاگتا ہے تو پاگل بولتے ہو مگر وہ کہتا ہے “پاکستان کو ٹھیک کرنے کیلئے تھوڑا پاگل پن ضروری ہے”
بات یہاں ختم کرتی ہوں کہ وہ جس کا نام ‘عمران احمد خان نیازی’ ہے نا وہ پیدا ہی جیتنے کیلئے ہوا تھا، کرلو بغض بنا لو جھوٹی ہیڈلائنز، کرلو گھنٹے گھنٹے کے شوز جتنا ہو سکے پروپیگنڈہ کرلو، اسکا اللہ حامی و ناصر جن کی نیتیں صاف ہوتی ہیں انکے سفر میں انکا ہمسفر اللہ خود ہوتا ہے، وہ تو انشاءاللہ جیتے گا اور اسکی جیت میں ہماری جیت ہے۔


اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو !

Your Thoughts and Comments

Imran Khan Sirf Taqreer Kar Skata Hai is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 01 April 2020 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.