Jaatay Jaatay Raah MeiN Os Ne Munh Se OThaya JuN NahiN Parda

جاتے جاتے راہ میں اس نے منہ سے اٹھایا جوں ہی پردا

جاتے جاتے راہ میں اس نے منہ سے اٹھایا جوں ہی پردا

راہ کے جانے والوں نے بھی منہ اس کا پھر پھر کے دیکھا

قیس ملے تو اس سے پوچھوں کیا ترے جی میں آئی دوانے

شہر کو تو نے کس لیے چھوڑا کیوں کے خوش آیا تجھ کو صحرا

صبح سے لے کر شام تلک یاں یہ وہ گلی ہے جس میں پھریں ہیں

چاک گریباں موے پریشاں ہم سے ہزاروں عاشق رسوا

اس نے مزا کیا پایا ہوگا دو چلو مے پینے کا یاں

جس میکش کے ہاتھ نہ آیا غبغب ساغر ساعد مینا

سوختگی نے غم کی اثر جو دل میں کیا ہے ہونے لگا ہے

تھوڑا تھوڑا رنگ دھوئیں کے سبزہ ہماری خاک سے پیدا

اک ٹھوکر میں مردے ہزاروں اٹھ بیٹھیں ہیں گور سے ووہیں

لیتا ہے وہ وقت خرامش پانو سے اپنے کار مسیحا

جاتے ہیں نا کسی کے گھر ہم اور نہ کوئی کچھ دیتا ہے ہم کو

قطع کیے ہیں ہم نے دونوں پائے طلب اور دست تمنا

آنکھ لڑانا سامنے آنا منہ دکھلانا اور چھپ جانا

یہ بھی ادا ہے کوئی ظالم مان خدا کو مت دے ایذا

مصحفیؔ اس دلچسپ زمیں میں طبع کرے گر تیری رسائی

خامہ ترا کچھ کند نہیں ہے ایک غزل تو اور بھی لکھ جا

غلام ہمدانی مصحفی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(949) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ شاعری

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Ghulam Hamdani Mushafi, Jaatay Jaatay Raah MeiN Os Ne Munh Se OThaya JuN NahiN Parda in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad, Social Urdu Poetry. Also there are 51 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 5 out of 5 stars. Read the Sad, Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Ghulam Hamdani Mushafi.