Woh Dekhnay Mujhe Aana To Chahta Hoga

وہ دیکھنے مجھے آنا تو چاہتا ہوگا

وہ دیکھنے مجھے آنا تو چاہتا ہوگا

مگر زمانے کی باتوں سے ڈر گیا ہوگا

اسے تھا شوق بہت مجھ کو اچھا رکھنے کا

یہ شوق اوروں کو شاید برا لگا ہوگا

کبھی نہ حد ادب سے بڑھے تھے دیدہ و دل

وہ مجھ سے کس لیے کسی بات پر خفا ہوگا

مجھے گمان ہے یہ بھی یقین کی حد تک

کسی سے بھی نہ وہ میری طرح ملا ہوگا

کبھی کبھی تو ستاروں کی چھاؤں میں وہ بھی

مرے خیال میں کچھ دیر جاگتا ہوگا

وہ اس کا سادہ و معصوم والہانہ پن

کسی بھی جگ میں کوئی دیوتا بھی کیا ہوگا

نہیں وہ آیا تو جالبؔ گلہ نہ کر اس کا

نہ جانے کیا اسے درپیش مسئلہ ہوگا

حبیب جالب

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(3763) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Habib Jalib, Woh Dekhnay Mujhe Aana To Chahta Hoga in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 76 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.6 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Habib Jalib.