Beronqi Se Kocha E Bazar Bhar Gaye

بے رونقی سے کوچہ و بازار بھر گئے

بے رونقی سے کوچہ و بازار بھر گئے

آوارگان ـ شہر کہاں جا کے مر گئے

آشوب ـ آگہی میں گماں کی بساط کیا

وہ آندھیاں چلیں کہ یقیں تک بکھر گئے

میں خود ہی بد نُمو تھا کہ مٹی میں کھوٹ تھا

کھِل ہی نہیں سکا، مرے موسم گزر گئے

اب آئے جب میں حال سے بے حال ہو چکا

سب چاک میرے سِل گئے، سب زخم بھر گئے

جشن ِ بہار ِ نو کا ہُوا اہتمام جب

ہم ایسے چند لوگ بہ مژگان ِ تر گئے

دل سا مکان چھوڑ کے دنیا کی سمت ہم

اچھا تو تھا یہی کہ نہ جاتے، مگر گئے

تنہا ہی کر گئی یہ بدلتی ہوئی سرشت

سب دل میں رہنے والے ہی دل سے اتر گئے

اب کچھ نہیں کریں گے خلاف ِ مزاج ہم

اکثر یہ خود سے وعدہ کیا، پھر مُکر گئے

اچھے دنوں کے میرے رفیقان _خوش دلی

اس بے دلی کے دور میں جانے کدھر گئے

اس عہد_ بد لحاظ میں ہم سے گداز قلب

زندہ ہی رہ گئے تو بڑا کام کر گئے

عرفان اب سناؤ گے جا کر کسے غزل

وہ صاحبان ِ ذوق، وہ اہل ِ نظر گئے

عرفان ستار

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(573) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Irfan Sattar, Beronqi Se Kocha E Bazar Bhar Gaye in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 92 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.2 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Irfan Sattar.