Main Darya Hoon Mere Sath Chalo

میں دریا ہوں، میرے ساتھ چلو

کنارو! کھڑے کھڑے کیا دیکھتے ہو

میرے ساتھ چلو

صدیوں کا ٹھہراؤ میرے سنگ بہتا ہے

تم بھی چلو

میرے پیدائشی ساتھیو

تم وہ جڑواں ہو

جو کبھی ایک دوسرے سے نہیں مِلے

تم سمجھتے ہو کہ میری وجہ سے

کتنا غلط سوچتے ہو

اے ایک دوسرے کو دُور دُور سے دیکھنے والو !

یہ میں ہی ہوں

جو تمہارے دوار آئے

دور دراز کے مسافروں کو باہم ملاتا ہوں

اور کشتیوں کو آر پار گزرنے دیتا ہوں

کس سفاکی سے وہ میرا سینہ چیرتی ہیں

آؤ میری لہروں سے اپنے مٹیالے، ریتیلے جسم رگڑو

میری گیلاہٹوں اور نرماہٹوں سے

پُرلطف زمانوں کا ادراک کرو

میرا لمس ہر چھونے والے وجودکے لیے یکساں ہے

میں دائیں اور بائیں کی تخصیص نہیں رکھتا

آؤ میرے ساتھ چلو!

میں شہروں اور مُلکوں سے گزرتا ہوں

سرحدیں میرا راستہ نہیں روکتیں

میرے پانیوں سے محبت کی داستانیں جنم لیتی ہیں

کتنے پُل میرے اوپر قائم ہیں

عقیدے مجھ میں اشنان کرتے ہیں

تہذیبیں میرے مرنے پر خودکشی کر لیتی ہیں

میں جغرافیے کا امین

اور تاریخ کا چشم دید گواہ ہوں

جلی ہوئی کتابوں، کٹی ہوئی لاشوں

اور آبادیوں کی ساری کیچڑ سے اٹ کر بھی چلتا رہتا ہوں

بہت بھر جاؤں

تو شاعروں کی آنکھوں اور نظموں سے رسنے لگتا ہوں

میں زندہ آثارِ قدیمہ ہوں

میں سندھو ہوں، ڈینیوب ہوں

لیکن جب دجلہ و فرات میں ڈھلتا ہوں

تو پیاس کا عظیم استعارہ بن جاتا ہوں

میرا کوئی ایک نام نہیں

میں وقت کا سیال سیاح ہوں

اور سنگلاخ سرزمینوں پر نت نئے ناموں سے سفر کرتا ہوں

رکنا میری موت ہے

مجھے کسی میوزیم میں محفوظ

اور کسی یادگاری چیز میں مجسم نہیں کیا جا سکتا

میری تہ میں چھپے دکھوں کی بازگشتیں

ہواؤں کی طرح خاموش راستوں میں سنائی دیتی ہیں

اور میرے گیتوں کی صدائیں

قدیم مقادِس کی محراب دار غلام گردشوں میں

اور پشمینہ پوشوں، صومعہ نشینوں کے دلوں میں گونجتی ہیں

اے میری حفاظت پر معمور دائمی ساتھیو!

آرام سے میرے ساتھ چلو

مجھے کسی سے کوئی خطرہ نہیں

سوائے لگاتار تیز بارشوں کے

جو کبھی کبھی مجھے غصہ سے لبا لب کر دیتی ہیں

اور میں تمہارا حفاظتی حصار توڑ کر

بستیوں، کھیتوں، چراگاہوں

اور ہموار نشیبی علاقوں کی طرف جا نکلتا ہوں

تمہارے ساتھ انہیں بھی ڈبو دیتا ہوں

لیکن دھوپ نکلتے ہی

اپنے راستے پر واپس آ جاتا ہوں

اور تم پھر سے مجھے گھیر لیتے ہو

عظیم بہادرو، مجھے تمہاری وفاداری پر کوئی شک نہیں

تم کٹ کر بھی مجھ میں گرتے ہو

ہم گردو!

میں ہمیشہ بلند و بالا شاداب پہاڑوں،

سوکھی چمڑی والی بوڑھی مرتفع سطحوں،

گھنے جنگلوں، میدانوں

اور ریتلے صحراؤں سے ہوتا ہوا

کھارے سمندر سے جا ملتا ہوں

جہاں بھیگی ہوئی نمکین ہوائیں میرا استقبال کرتی ہیں

اور میرے پانیوں کی مٹھاس

جھاگ آلود کسیلی کڑواہٹ میں بدل جاتی ہے

اور تم دو ازلی جدائی زدہ، سدا کے فراقیے

مجھے وصالِ بحر میں چھوڑ کر

ایک مستقل الوداعی پوز میں ایستادہ ہو جاتے ہو

لیکن اب میں دیکھ رہا ہوں

عہد بہ عہد، سال بہ سال

میری آبی سطح گر رہی ہے

اور میرا گلوکوز لیول خطرناک حد تک کم ہو تا جا رہا ہے

بہتے بہتے میرا بہاؤ ہانپنے لگتا ہے

اور میں سمندر تک پہنچنے سے پہلے ہی سوکھنے لگا ہوں

اور کہیں کہیں تو

بڑھتی ہوئی کروی حرارت نے

مجھے زیرِ زمین جانے پر مجبور کر دیا ہے

اور تم بھی

ملاحوں، مچھیروں اور مچھلیوں کی فکرت میں

روز بروز مجھ سے پیچھے ہٹتے جا رہے ہو

آب نشینو!

میرا راستہ بھی عجیب ہے

ہمیشہ اوپر سے نیچے کی طرف

کاش میں کبھی آسمان کی طرف جا سکتا

تو بادلوں میں سے گزرتے ہوئے

ست رنگی کمان بن جاتا

میرے ساتھ تم بھی رنگوں میں لتھڑ جاتے

بادلوں سے بھی آگے، اور آگے

لاجوردی خلاؤں سے گزر کر

شاید ہم کسی ایسی دنیا میں پہنچ جاتے

جہاں اتنی آلودگی، اتنی گھٹن نہ ہوتی

جہاں یہ نسا جال نہ ہوتا

جہاں تم کھل کر سانس لے سکتے

اور میں بھی آسانی سے

رواں رہتا

اور وقت کی طرح

سدا بہتا !!

(مشمولہ "سرمئی نیند کی بازگشت")

نصیر احمد ناصر

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(517) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Naseer Ahmed Nasir, Main Darya Hoon Mere Sath Chalo in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 28 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.8 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Naseer Ahmed Nasir.