Sare Khawab Kaleeshe Hain

سارے خواب کلیشے ہیں

پورچ کے چِپسی فرش پر

ڈاکیا خط پھینک کر چلا جاتا ہے

آنکھوں کے شہر میں

کسی دور افتادہ گاؤں کا

پس ماندہ لینڈ اسکیپ ابھر آتا ہے

دیواریں بغیر پلستر کے

ننگی سچائیوں کے ساتھ

افسردہ بچپن کی یادیں لیے

دھوپ میں استادہ ہیں

سورج ایک گوشے سے اٹھ کر

دوسرے گوشے میں بیٹھ جاتا ہے

اور ہم روشنیاں تلاش کرتے ہوئے

سایوں میں ڈھل جاتے ہیں

شام کا جادو

خوابوں کی سمفنی میں تبدیل ہو جاتا ہے

آنکھیں ایک بار

وقت کے اندھے کنویں میں گر جائیں

تو انھیں نکالنے کے لیے

ڈول ڈول عمر کا سارا پانی باہر انڈیلنا پڑتا ہے

پاؤں کی مَیل دھوئی جا سکتی ہے

لیکن ٹَیٹو کی طرح

بدن کی جلد پر نقش ہوئے

آبائی مناظر

کھرچنے سے مٹائے نہیں جا سکتے

اپنے علاقے سے نکلے ہوئے ہم،

کوئی شہر فتح کر پائے نہ محبت جیت سکے

مفتوح انسان

پرچھائیوں کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں

اندھیرے میں دیکھنے کے لیے

کاکروچ بننا ضروری ہے

جس کی مرکب آنکھوں کی بینائی

انسان کی بصارت سے کئی گنا تیز ہوتی ہے

رات کی جھاڑیوں میں

ستارے جگنوؤں کی طرح چمکتے ہیں

یہ ٹیکنالوجی بہت سے درختوں کو سکھائی جا رہی ہے

جلد ہی چھاؤں دھوپ میں بدل جائے گی

منہ سے روشنی نکالنے والی چڑیا

اب کہیں دکھائی نہیں دیتی

اگلی فصل کے لیے

پیڑوں پر کوئی پھل باقی نہیں

دن اور رات کے سنگم پر

اب کوئی شفق رنگ دریا نہیں بہتا

سارے خواب کلیشے ہیں

دھول اور دھوئیں کے کارنیوال میں

موت گیت کی طرح گونجتی ہے

اور محبت کی آواز

کہیں سنائی نہیں دیتی ۔۔۔۔!

نصیر احمد ناصر

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(448) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Naseer Ahmed Nasir, Sare Khawab Kaleeshe Hain in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 28 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.7 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Naseer Ahmed Nasir.