Hijar Zada Aankhon Se Jab Ansoo Niklay Khamoshi Se

ہجر زدہ آنکھوں سے جب آنسو نکلے خاموشی سے

ہجر زدہ آنکھوں سے جب آنسو نکلے خاموشی سے

کسی نے سمجھا رات سمے دو دیپ جلے خاموشی سے

میں بھی آگ لگا سکتا ہوں اس برسات کے موسم میں

تھوڑی دور تلک وہ میرے ساتھ چلے خاموشی سے

شام کی دھیمی آنچ میں جب خورشید نہا کر سو جائے

منظر آپس میں ملتے ہیں خوب گلے خاموشی سے

برف کی پرتیں جب بھی دیکھوں میں اونچی دیواروں پر

جسم سلگنے لگتا ہے اور دل پگھلے خاموشی سے

چاہت کے پھر پھول کھلیں گے آپ کی یہ خوش فہمی ہے

کپڑے میرے سامنے موسم نے بدلے خاموشی سے

دن کے اجالوں میں شاید میں خود سے بچھڑا رہتا ہوں

رات کی تاریکی میں اک خواہش مچلے خاموشی سے

جب بھی نادیدہ سپنوں نے من آنگن میں رقص کیا

تیری یاد کے جگنو چمکے رات ڈھلے خاموشی سے

ملک سخن کے شہزادوں کی صف میں کھڑا ہو جائے گا

گر ترے لہجے کی دھڑکن خوشبو اگلے خاموشی سے

رفیق خیال

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(554) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Rafique Khayal, Hijar Zada Aankhon Se Jab Ansoo Niklay Khamoshi Se in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad Urdu Poetry. Also there are 41 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.5 out of 5 stars. Read the Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Rafique Khayal.