Sabt Hai Chehron Pay Chop Ban Main Andhera Ho Chuka

ثبت ہے چہروں پہ چپ بن میں اندھیرا ہو چکا

ثبت ہے چہروں پہ چپ بن میں اندھیرا ہو چکا

دیکھنے آئے ہو کیا لوگو تماشا ہو چکا

آبرو کے سرخ موتی پھر سے کالے پڑ گئے

جسم کے اندر لہو کا رنگ پیلا ہو چکا

حسرتوں کے پیڑ سب کے سر سے اونچے ہو گئے

آرزو کا زخم پہلے سے بھی گہرا ہو چکا

پھر مجھے نادیدنی زنجیر پہنائی گئی

علم تک مجھ کو نہیں اور میرا سودا ہو چکا

بر سر پیکار اپنے آپ سے ہوں کیا کروں

میرا دشمن بھی مری مٹی سے پیدا ہو چکا

کیسے ٹوٹے ہیں دلوں کے باہمی رشتے نہ پوچھ

ہے نگر آباد اور ہر شخص تنہا ہو چکا

تم کہے جاتے ہو ایسی فصل گل آئی نہیں

اور اگر میں یہ کہوں سو بار ایسا ہو چکا

کون ہوں میں اپنی صورت بھی نہ پہچانی گئی

آئینہ تکتے ہوئے مجھ کو زمانہ ہو چکا

دیکھنا یہ ہے کہ اس کے ماورا کیا چیز ہے

یہ امید و بیم کا دفتر پرانا ہو چکا

کب تلک دل میں جگہ دو گے ہوا کے خوف کو

بادباں کھولو کہ موسم کا اشارہ ہو چکا

اب زباں سے بھی کہو شہزادؔ کیوں خاموش ہو

دل میں جو کچھ تھا وہ آنکھوں سے ہویدا ہو چکا

شہزاد احمد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(561) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Shahzad Ahmed, Sabt Hai Chehron Pay Chop Ban Main Andhera Ho Chuka in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 101 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.4 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Shahzad Ahmed.