بند کریں
ادب مضامین

مزید عنوان

اردو ادب میں نیا اضافہ

جون ایلیا۔۔۔

نادرِ روزگار تھے ہم تو: (حصہ دوم)

"مضمون" میں شائع کیا گیا

جون ایلیا۔۔۔

نادرِ روزگار تھے ہم تو: (حصہ اول)

"مضمون" میں شائع کیا گیا

سات چور

ایک بندے کو خیال آیا کہ اللہ ہروقت اپنااحسان جتاتا رہتا ہے ‘ کبھی کہتا ہے کہ کھانا دیتا ہوں کبھی کہتا ہے کہ روٹی دیتا ہوں‘ کبھی کہتا ہے کہ روٹی دیتا ہوں‘ کبھی کہتا ہے کہ صحت اور تندرستی دیتا ہوں۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

لالچی کے لئے اپنا دروازہ نہ کھولو

حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بادشاہ کے بارے میں مجھے علم ہوا کہ اس نے عیش وعشرت میں رات کودن کررکھا تھا اور کہہ رہاتھا کہ دنیا میں ہمارے لئے اس سے بہتر کوئی وقت نہیں ہوتا

"حکایات" میں شائع کیا گیا

کینگرو کی ماں کب تک خیر منائے گی!

(یاد کیجیے … ویسٹ انڈیز میں منعقدہ کرکٹ ورلڈ کپ 2007ء، جہاں فائنل میں آسٹریلیا نے سری لنکا کو ہرایا تھا، جب کہ بھارت اور پاکستان پہلے ہی راؤنڈ میں مقابلے سے باہر ہو گئے تھے۔ بھارت کو بنگلا دیش نے اور پاکستان کو آئرلینڈ نے مات دی تھی۔ اب آگے پڑھیے۔)

"مضمون" میں شائع کیا گیا

ہر جُوتے کے دِن پھرتے ہیں

(پہلے یاد کیجیے ، سابق امریکی صدر بُش کی پریس کانفرنس۔پھر عراقی صحافی ؛ منتظرالزیدی اور اُس کا دس نمبر کا جُوتا۔ اب آگے پڑھیے )

"مضمون" میں شائع کیا گیا

پاکیزہ خاتون

زیب النساء بیگم برصغیر پاک وہند کے مغلیہ دور کی وہ پاک اور نیک خاتون ہیں جنہوں نے صحیح معنوں میں اپنے والد بزرگوار شہنشاہ محی الدین اور۔۔۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

اُونٹ پہاڑے کے نیچے

دو … ایکم دو، دو دُونی چار، دو تِیا چھ، دو چَوک … کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں (یوں بھی میں کبھی کبھی ہی سوچتا ہوں) کہ ہمیں یہ پہاڑے کیوں رٹائے جاتے ہیں؟

"مضمون" میں شائع کیا گیا

دنیا بھر کے راستے واستے

کسی بھی منزل تک پہنچنے کی اوّلین شرط ہے راستہ۔ شہروں میں راستے اِس لیے بنائے جاتے ہیں کہ وقت بے وقت کھدائی کے لیے کوئی معقول جگہ میسر ہو، اَور۔۔۔

"مضمون" میں شائع کیا گیا

نٹ کھٹ روزہ دار

کھاناپینا ہمارے لیے کتنا ضروری ہے، اِس کا علم ہمیں تب ہوا، جب ہم سے پہلا روزہ رکھوایا گیا۔

"مضمون" میں شائع کیا گیا

ملائکہ کی غذا صرف عشق خداوندی ہے

ایک بادشاہ کاغلام شہوت پرست اور بے وقوف تھا۔ وہ اپنے آقا کی معمولی خدمت بھی انجام نہیں دیتا تھا۔ وہ غلام اپنے آقا کابدخواہ۔۔۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

میرا بیٹا۔ سجاد حیدر خاں

نام ہے سجاد حیدر خاں، عرف ہے” چھجو“۔ اپنی بہن سے سال ہوا سال چھوٹا ہے۔ لکھنو میں پیدا ہوا تھا اور جائے ولادت کے اعتبار سے اُس کو مجھ پر فضلیت حاصل ہے۔

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

مدھم چراغ

وہ چٹان پر بنی جھونپڑی کے دروازے پر کھڑی تھی۔ ڈوبتے سورج کی آخری کرنیں اپنی روشنی سمیٹ کر شام ہونے کا اعلان کر رہی تھیں۔

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

تقدیر بگڑنے پر کوئی ہنر کام نہیں آتا

حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ایران کے ایک شہراردبیل کاایک پہلوان فنون سپہ گری میں اس قدر ماہر اور شہ زور تھا کہ لوہے کے بیلچے کو تیرسے چھیددیا کرتا تھا۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

کامل کے ساتھ معاملہ کرنے میں ہوش سے کام لو

(حضرت شیخ فریدالدین عطار حمتہ اللہ علیہ کے قول کی تفسیر)

"حکایات" میں شائع کیا گیا

آرام کی قدر اسی کو ہے جس نے کوئی تکلیف دیکھی ہو

حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بادشاہ کشتی پر سوار تھا۔ کشتی میں ایک عجمی لڑکا بھی سوار تھا۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

سوکھے کیکر

میں سکاٹ لینڈ کے خوبصورت شہر گلاسگو میں چاچا حکم دین کے بیٹے کے ہمراہ ان کے گھر کے سامنے کھڑا تھا،

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

بے پھل درخت پر کوئی بھی پتھر نہیں مارتا

حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ راہ سلوک کے چند سوار میرے پاس آئے اور ان کی ظاہری حالت اچھی تھی۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

یقین کامل کی دولت نصیب ہوگئی

ایک صحرا میں ایک عبادت گزار عابد قیام پذیر تھا۔ کچھ حاجی وہاں سے گزرے تو اسے گرم ریت پر عبادت میں مصروف دیکھ کر حیران رہ گئے کہ صحراکی گرمی ہلاک کرنے والی تھی

"حکایات" میں شائع کیا گیا

عقلمندی کا تقاضا

حجرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کے مکان کی چھت پر بھڑوں نے اپنا چھتا لگا لیا ۔ اس شخص نے ارادہ کیا کہ وہ اس چھتے کو توڑ دے لیکن اس کی بیوی آڑے آگئی اور اسے کہنے لگی کہ

"حکایات" میں شائع کیا گیا