بند کریں
ادب مضامین

مزید عنوان

اردو ادب میں نیا اضافہ

عزم کی داستان

ثمرین کا سٹاپ گھر سے تقریبا دس منٹ کے فاصلے پر تھا آج ثمرین کو کالج سے بہت دیر ہو گئی تھی لہذا ثمرین نے اپنے قدموں کی رفتار دتیز کر لی راستے میں نازش بھی مل گئی جو کہ ثمرین کی کلاس فیلو تھی

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

شریف

شریف نے تاسف سے سوچا! خالی برتن صاف ستھرا باورچی خانہ اس کی گواہی دے رہاتھا۔ مرے مرے قدموں سے وہ نکڑ والی دوکان سے پاوٴ بھر دودھ لینے چلد یا۔ برسات کی نمی سے گھلتے ہوئے دو رس دودھ میں ڈبوتے ہوئے اپنی ماں بُری طرح یاد آئی۔

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

اور اسمٰعیل مرگیا۔۔۔

پتہ نہیں کیا ہو گیا تھا ۔ ۔۔ کیوں میں نے اس کی بددعا دے دی تھی۔ پہلے بھی تو ایسا کرتا تھا۔ جواکھیلتا تھا۔ ۔۔ہاتھ اٹھاتا تھا۔ پتہ نہیں کیوں۔۔ پتہ نہیں کیوں۔ ارے کوئی اس کو رلاوٴ۔۔ بھری جوانی میں بیوہ ہو گی بے چاری۔

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

ستارہ اور سفر

عوامی ایکسپریس اپنی پوری رفتار سے بھاگتے ہوئے چھوٹے چھوٹے اسٹیشن چھوڑ رہی تھی۔میرے سامنے کی سیٹ پر ایک لڑکا کھڑکی پر سر رکھے سو رہا تھا ۔ اس کا نیلے رنگ کا بیگ اس کے پاس ہی رکھا تھا۔ریل کا دروازہ کھلا تھا جس میں اابو ایک آدمی کے ساتھ کھڑے تھے

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

حسن پاگل کر دیتا ہے

اور ہم تو پیدا ہوتے ہی حسن کے عاشق ہو گئے تھے ۔کہ ہم نے اپنے ارد گرد حسین چہرے ہی دیکھے تھے۔مگر حسن صرف چہروں میں ہی تو نہیں ہوتا ۔ ہمیں تو ہر حسیں شے لبھاتی تھی ۔ چاہے وہ حسن کسی بھی رنگ وروپ میں ہو،پھولوں میں ہو ،ستاروں میں ہو ، انسان کی صناعی میں ہو ،خود انسان میں ہو یا اس کی تصویر میں ہو

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

حیات قائداعظم پر مکمل انسائیکلوپیڈیا

۔ اس کتاب میں انہوں نے حروف تہجی کی ترتیب سے 2069 عنوانات لکھے ہیں اور ان عنوانات کے تحت وہ ایک ایک جزو اور نقطہ لکھا گیا ہے جس کا کہ قائداعظم سے تھوڑا بہت بھی تعلق ہے۔ انسائیکلوپیڈیا میں چونکہ فہرست نہیں ہوتی

"تبصرہ کتب" میں شائع کیا گیا

شاعری اور اسلامی تفکر۔۔علامہ اقبال

دسمبر 1937ء میں ایک دن میں اور میرے ایک دوست کسی کام سے جارہے تھے کہ سنٹرل ٹریننگ کالج کے پاس ہمیں ایک خوش پوش نوجوان نے ٹھہرا لیا۔ ان دنوں یوم اقبال منانے کی تحریک کا بڑا چرچا تھا

"اردو ادب" میں شائع کیا گیا

ڈیبی

میں نے سوچا کہ میں ڈیبی کی کہانی ضرور لکھوں گی۔ اُن پاکستانی عورتوں کے لیے جو عورتوں کو آزادی نسواں کے سنہرے جال میں پھنسا کر اُس ازلی اور ابدی سکون سے محروم کرنا چاہتی ہیں جو عورت کا حق ہے

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

مرشدِاقبال مولانا روم

علم کی محفل سجی ہے۔ معلم علم کی دولت بانٹ رہاہے اور متعلم سو جان سے نثار لفظوں کے سحر میں کھوئے ہیں۔عقل و دانش کی باتیں ہورہی ہیں ، چاروں طرف کتابوں کے ڈھیر لگے ہیں اور فقہ و دین کی بحث چھڑی ہے۔ ایسے میں کہیں سے کوئی دیوانہ ، قلندرانہ شان سے چلاآتاہے

"مضمون" میں شائع کیا گیا

پردیس کے رنگ

۔قانون شکن اور غیر منظم معاشرے سے نکل کر جب میں لاہور ہائیکورٹ بار کے وفد کے ہمراہ مانچسٹر ائیرپورٹ پر اترا تونظم و ضبط اور انگریزوں کی اصول پرستی کی شکل میں انقلاب کی اصل صورت دکھائی دی۔کہنے کو تو ہمارا تعلق ایسے خطے سے تھا جہاں دہشت گردی کا راج ہے

"آپ بیتی" میں شائع کیا گیا

انسان شناس

موسم بہار کی آمد آمد تھی رنگ برنگے پھول تتلیوں کے ساتھ کھیل رہے تھے ،تازہ ہوا کے جھونکے آوارہ بادلو ں کی طرح ہر جگہ چکر لگا رہے تھے ۔یونیورسٹی کےگارڈن میں کافی گہما گہمی تھی،یونیورسٹی کے لڑکے اور لڑکیوں کا جھرمٹ موسم کی صباحت سے کافی محظوظ ہو رہے تھے

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

جنت کی تلاش

جنوری کی کہر میں لپٹی شام تھی۔موونگ چیئر پر جھولتے جھولتے مجھے احساس ہی نہیں ہوا کہ شام کب ڈھلی اور اندھیرا کب پھیلا۔میں شہر یار حسن خان جسے اندھیروں سے کبھی پیار نہیں رہا تھا۔

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

نیلم ویلی

نیلم وادی یوں ہمکلام ہوتی ہے،میرارنگ اورطلسم کوئی بیان نہیں کر سکتااسی لئے دنیا میرےوجود سےآگاہ نہیں اور میں کسی نظر کیلئے نہیں کھلتی صرف اپنےآپ کیلئے اپنے اوپر جھکے بادل کیلئے یا کبھی کبھی کسی کوہ نورد کیلئے

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

انگریزی زبان میں پاکستانی ادب

پاکستانی ناول پاکستان کی سماجی اور ثقافتی زندگی کو پیش نظر رکھ کر لکھے جا رہے ہیں۔ یہ اپنے لوگوں کی خصوصیات‘ ان کے مذہبی سماجی اور دینی پس منظر کو سامنے رکھتے ہیں

"مضمون" میں شائع کیا گیا

رائیگاں

اگرچہ جبران اور تہمینہ کی ملاقات کچھ ہی عرصہ پہلے ہوئی تھی مگر وہ دونوں ایک دوسرے کوبہت اچھی طرح سے سمجھنے لگے تھے یوں اُن کی محبت جذبات سے زیادہ احساسات سے سینچی جارہی تھی

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

گھائل

یاد ہے ایک بار ہمارا جھگڑاہوگیا تھا۔ تم نے کہا جارہی ہوں، اب کبھی تم سے بات نہیں کرونگی۔ میں بھی طیش میں آگیا اور کہا جاؤ مجھے بھی تم سے بات کرنے کا کوئی شوق نہیں ہے۔ ہم لوگ تین دن ناراض رہے

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

چند لمحوں کی داستان

آج اسے گزرے ہوئے دوسرا دن تھا مگر آنسو تھے کہ تھمتے ہی نہ تھے ۔ آخر ماں کیسے بھول سکتی تھی اپنی اکلوتی اولاد کو۔ اور جب بیٹے کی قلب و روح کو اطراف میں مسلسل گھومتے ہوئے دیکھتی

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

پاگل

مانی اُس گنجے اور ہلکی پھلکی گندی داڑھی والے نوجوان کو پکڑ کر سردارمبارک خان کے پاس لایا تھا۔ نیلے رنگ کی بوسیدہ شلوار قمیض میں مجنوں نظر آنے والے اُس نوجوان کی داڑھی خاک سے اَٹی پڑی تھی

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

اک جوتا

آج دس سال بعد اپنے شہر کو لوٹا تو ہر طرف تبدیلی ہی تبدیلی میرا استقبال کرنے کو موجود تھی،سڑکیں کشادہ اور صاف ستھری ،پل اور زمینی راستوں کی بھرمار تھی۔ اسٹیشن پر نظر آتے ہر شخص کے ہاتھ میں موبائل فون نظرآرہاتھا

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

اپریل فول

”ٹرن ، ٹرن ۔“۔فون کی گھنٹی کافی دیر سے بج رہی تھی صالحہ کچن میں کام کر رہی تھی ۔تیز تیز قدم اٹھا کر فون تک پہنچی ۔”اسلام علیکم !“حسب معمول فون اٹھاتے ہی کہا”وعلیکم اسلا م ۔آنٹی ایک بری خبر ہے ۔“

"افسانہ" میں شائع کیا گیا