بند کریں
ادب مضامین

مزید عنوان

اردو ادب میں نیا اضافہ

قیمتی

وہ ہر پندھرواڑے باقاعدگی سے اتوار کے روز دو بجے دوپہر کی گاڑی نمبر2سے سوار ہوتی اور پھر دو ہفتے بعد جمعہ کی شام چار بجے والی ٹرین سے واپس امرتسر آجاتی تھی۔جاتے سمے ہاتھ میں کتابیں ٹفن کیریئرز کئی قسم کی ٹوکریاں اور ہینڈ بیگ ہوتے جو واپسی میں خالی ہوتے۔

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

بات تو کچھ بھی نہیں‌ تھی

کہ بات تو کچھ بھی نہیں تھی مگر پتہ نہیں اس کو شاید الحام جو جاتے تھے۔ بھلا سیدھی سادھی گھریلو عورتوں کو بھی الحام ہوتے ہیں۔! چمٹ گئی آسیب کی طرح اس کی محبت مجھے۔ بہت دلکش انداز میں مسکراتے ہوئے میں نے فریم میں لگی اپنی شادی کی تصویر کو چھواء۔، تھی خوبصورت۔!

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

مٹی کی مونالیزا

سینما ہال کے بک سٹال پر کھڑے میں اس میٹھے رس کی گرم خوشبو سونگھتا ہوں اور ایک آنکھ سے انگریزی رسالے کو دیکھتے ہوئے دوسری آنکھ سے ان عورتوں کو دیکھتا ہوں جنہیں میں نے فلم شروع ہونے سے پہلے سب سے اونچے درجوں کی ٹکٹوں والی کھڑکی پر دیکھا تھا

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

یو۔ای۔ٹی کا سالانہ مشاعرہ

یو۔ای۔ٹی لٹریری سوسائٹی کے زیر ِ اہتمام سالانہ مشاعرہ جناب انور معسود کی صدارت میں بروز منگل، مورخہ 12 مئی 2015 کو منعقد ہو رہا ہے۔

"ادبی خبریں" میں شائع کیا گیا

کیتھرین اور وال سٹریٹ کی شام

گھر کا خرچ چلانے کے لیے سکول سے آنے کے بعد ہم تنکوں سے ٹوکریاں اور ہیٹ بناتے تھے جو لاہور کا ایک تاجر ہم سے خرید لیتا تھا۔

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

نیلم احمد بشیر کا خصوصی انٹرویو

وقت ہی جینے کا ڈھنگ سکھاتاہے
نیلم احمدبشیرکو کاغذقلم کے رشتے نے تنہائی کے کرب سے آزاد کیا

"انٹرویوز" میں شائع کیا گیا

احمد فراز ․․․․

دبنگ، شریر، متلوّن، عشق پیشہ
جسے آخری دم تک اپنی خوبیوں کی تشہیر سے گریز رہا

"آپ بیتی" میں شائع کیا گیا

یوم مزدور مشاعرہ

انجمن ترقی پسند مصنفین لاہور کے زیرِ اہتمام مشاعرہ

"ادبی خبریں" میں شائع کیا گیا

عروسہ اور گڑیا کا گھر

عروسہ کے چچا اپنی بیٹی زینب کے لیے بہت خوبصورت گڑیا کا گھر لائے۔گھر دو منزلہ تھا۔ایک مرکزی دروازہ تھا۔جو کھل بھی سکتا تھا اور یند بھی ہو سکتا تھا۔دوسری منزل پر جانے کے لیے سیڑھیاں بنی ہوئی تھیں۔ایک کچن تھا

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

دبنگ، شریر، متلون، عشق‌پیشہ۔ احمد فراز

جسے آخر دم تک اپنی خوبیوں کی تشہیر سے گریز رہا

"ادبی خبریں" میں شائع کیا گیا

عزم کی داستان

ثمرین کا سٹاپ گھر سے تقریبا دس منٹ کے فاصلے پر تھا آج ثمرین کو کالج سے بہت دیر ہو گئی تھی لہذا ثمرین نے اپنے قدموں کی رفتار دتیز کر لی راستے میں نازش بھی مل گئی جو کہ ثمرین کی کلاس فیلو تھی

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

شریف

شریف نے تاسف سے سوچا! خالی برتن صاف ستھرا باورچی خانہ اس کی گواہی دے رہاتھا۔ مرے مرے قدموں سے وہ نکڑ والی دوکان سے پاوٴ بھر دودھ لینے چلد یا۔ برسات کی نمی سے گھلتے ہوئے دو رس دودھ میں ڈبوتے ہوئے اپنی ماں بُری طرح یاد آئی۔

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

اور اسمٰعیل مرگیا۔۔۔

پتہ نہیں کیا ہو گیا تھا ۔ ۔۔ کیوں میں نے اس کی بددعا دے دی تھی۔ پہلے بھی تو ایسا کرتا تھا۔ جواکھیلتا تھا۔ ۔۔ہاتھ اٹھاتا تھا۔ پتہ نہیں کیوں۔۔ پتہ نہیں کیوں۔ ارے کوئی اس کو رلاوٴ۔۔ بھری جوانی میں بیوہ ہو گی بے چاری۔

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

ستارہ اور سفر

عوامی ایکسپریس اپنی پوری رفتار سے بھاگتے ہوئے چھوٹے چھوٹے اسٹیشن چھوڑ رہی تھی۔میرے سامنے کی سیٹ پر ایک لڑکا کھڑکی پر سر رکھے سو رہا تھا ۔ اس کا نیلے رنگ کا بیگ اس کے پاس ہی رکھا تھا۔ریل کا دروازہ کھلا تھا جس میں اابو ایک آدمی کے ساتھ کھڑے تھے

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

حسن پاگل کر دیتا ہے

اور ہم تو پیدا ہوتے ہی حسن کے عاشق ہو گئے تھے ۔کہ ہم نے اپنے ارد گرد حسین چہرے ہی دیکھے تھے۔مگر حسن صرف چہروں میں ہی تو نہیں ہوتا ۔ ہمیں تو ہر حسیں شے لبھاتی تھی ۔ چاہے وہ حسن کسی بھی رنگ وروپ میں ہو،پھولوں میں ہو ،ستاروں میں ہو ، انسان کی صناعی میں ہو ،خود انسان میں ہو یا اس کی تصویر میں ہو

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

حیات قائداعظم پر مکمل انسائیکلوپیڈیا

۔ اس کتاب میں انہوں نے حروف تہجی کی ترتیب سے 2069 عنوانات لکھے ہیں اور ان عنوانات کے تحت وہ ایک ایک جزو اور نقطہ لکھا گیا ہے جس کا کہ قائداعظم سے تھوڑا بہت بھی تعلق ہے۔ انسائیکلوپیڈیا میں چونکہ فہرست نہیں ہوتی

"تبصرہ کتب" میں شائع کیا گیا

شاعری اور اسلامی تفکر۔۔علامہ اقبال

دسمبر 1937ء میں ایک دن میں اور میرے ایک دوست کسی کام سے جارہے تھے کہ سنٹرل ٹریننگ کالج کے پاس ہمیں ایک خوش پوش نوجوان نے ٹھہرا لیا۔ ان دنوں یوم اقبال منانے کی تحریک کا بڑا چرچا تھا

"اردو ادب" میں شائع کیا گیا

ڈیبی

میں نے سوچا کہ میں ڈیبی کی کہانی ضرور لکھوں گی۔ اُن پاکستانی عورتوں کے لیے جو عورتوں کو آزادی نسواں کے سنہرے جال میں پھنسا کر اُس ازلی اور ابدی سکون سے محروم کرنا چاہتی ہیں جو عورت کا حق ہے

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

مرشدِاقبال مولانا روم

علم کی محفل سجی ہے۔ معلم علم کی دولت بانٹ رہاہے اور متعلم سو جان سے نثار لفظوں کے سحر میں کھوئے ہیں۔عقل و دانش کی باتیں ہورہی ہیں ، چاروں طرف کتابوں کے ڈھیر لگے ہیں اور فقہ و دین کی بحث چھڑی ہے۔ ایسے میں کہیں سے کوئی دیوانہ ، قلندرانہ شان سے چلاآتاہے

"مضمون" میں شائع کیا گیا

پردیس کے رنگ

۔قانون شکن اور غیر منظم معاشرے سے نکل کر جب میں لاہور ہائیکورٹ بار کے وفد کے ہمراہ مانچسٹر ائیرپورٹ پر اترا تونظم و ضبط اور انگریزوں کی اصول پرستی کی شکل میں انقلاب کی اصل صورت دکھائی دی۔کہنے کو تو ہمارا تعلق ایسے خطے سے تھا جہاں دہشت گردی کا راج ہے

"آپ بیتی" میں شائع کیا گیا