بند کریں
ادب مضامین

مزید عنوان

اردو ادب میں نیا اضافہ

ظلم کی سیاہ رات

سکھوں نے اسکے سامنے ذبح کردیا
دُکھیاں ماں ایک ہی بات کہتی ” ہندوؤں اور سکھوں پراعتبار نہ کرنا

"مضمون" میں شائع کیا گیا

مطلب کے رشتے

جس بھائی کیلئے جوانی برباد کی وہ میرے قتل پر آمادہ ہوگیا

"مضمون" میں شائع کیا گیا

حب جاہ میں مبتلا انسان

مور کی صفت اور مزاج
اور حضرات ابراہیم علیہ السلام کی اسے مارنے کی حکمت

"حکایات" میں شائع کیا گیا

بھٹکے قدم

وہ کہنے لگی ” مجھے زہر لادیں میں خود کشی کرنا چاہتی ہوں

"مضمون" میں شائع کیا گیا

بدشکل شہزادے کی سمجھ داری

ایک شہزادہ بدصورت تھا اور اس کا قد بھی چھوٹا تھا۔ اس کے دوسرے بھائی نہایت خوبصورت اور اچھے ڈیل ڈول کے تھے۔ ایک بار بادشاہ نے بدصورت شاہزادے کی طرف ذلّت اور نفرت کی نظر سے دیکھا۔ شہزادہ نے اپنی ذہانت سے باپ کی نگاہ کو تاڑ لیا اور باپ سے کہا ”اے ابّا جان! سمجھ دار ٹھگنا لمبے بیوقوف سے اچھا ہے۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

راز اس وقت تک راز سے

جب تک تمہارے دل میں ہے

"حکایات" میں شائع کیا گیا

فضول خرچی حسرت کا باعث ہوگی

حضورنبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ نصیحت کے لئے دوفرشتے ہمیشہ عمدہ منادی کرتے ہیں کہ اے اللہ ! دنیا میں بخیل کو ماسوائے تباہی وبربادی کے کچھ عطانہ فرما اور خرچ کرنے والوں کو اچھا صلہ دینا۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

دل سے مانگی دعا

غریب لڑکی کی غیرت جاگی اور باس کو کھری کھری سنادیں

"مضمون" میں شائع کیا گیا

آزاد لوگوں کی صفت

حضرت شیخ رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بڑے مشہور عقل مند اور معاملہ فہم سے لوگوں نے دریافت کیاکہ جن درختوں کو اللہ عزوجل نے پھل دار کیا اور بلند کیا ہے ان میں صرف سرو کے درخت کو ہی کیوں آزاد کہتے ہیں؟

"حکایات" میں شائع کیا گیا

جواں ہمت بزرگ

مصروف زندگی کے باوجود دوسروں کی خوشیوں میں بھرپور شرکت کرتے

"مضمون" میں شائع کیا گیا

نیک بندوں کی بستی

یہ نیک بندوں کی انوکھی بستی تھی جہاں سارے نیک لوگ ہی بستے تھے۔گناہ کے تصور سے ہی خوف کھانے والے اور گناہگاروں کے لیے غضب ناک نیک بندے۔کسی کی معمولی سی لغزش کو معاف نہیں کیا جاتا تھا۔ان کا خیال تھا کہ معمولی غلطیوں کو نظر انداز کیا گیا تو بڑے گناہ جنم لینا شروع کر دیں گے اور دھرتی ناپاک ہو جائے گی۔یہ نیک بندے اپنے عقائدمیں کسی قسم کے اجتہادکو اور مذہبی فرائض کی ادائیگی میں معمولی کوتاہی کو بھی برداشت نہیں کرتے تھے۔

"مضمون" میں شائع کیا گیا

خاموشی تیرے لئے باعث عزت ہے

حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ مصرایک بستی میں ایک گوڈری پوش فقیر رہتا تھا اور وہ کسی سے کوئی بات نہ کرتا تھا۔ اس کی یہ خاموشی دیگر لوگوں کے لئے اس کی بزرگی کی دلیل بن گئی تھی اور لوگ اسے اللہ عزوجل کانیک بندہ جان کرہر وقت پروانوں کی طرح اس کے گرد منڈلاتے رہتے تھے ۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

اپنے بہترین اخلاق کے ذریعے متاثر کیاجاسکتا ہے

مرشد نے جب مرید کی بات سنی تواپنے ہاتھ دعا کے لئے اٹھائے اور کہا: الہٰی ! یہ شہزادہ بہت اچھا ہے اسے ہمیشہ خوش وخرم رکھنا ۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

پُر اسرار شخص

راشد نے کہا ” ویگن سے اُترتے ہوئے رقم چھپالینا

"مضمون" میں شائع کیا گیا

انسان کی اصلی غذا

اے شخص ! تو جس چیز میں بھی غور کرے گا تو دیکھے گا کہ وہ اپنی ہم جنس کے ساتھ چلتی ہے۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

حصول مقبولیت کاراز

اے میرے عزیز ! جس حقیقت کے تم طلبگار ہوا گر تم اپنی خودی اور نفس کے چھلکے کی ایک تہہ توڑ دو تو تمہارے قدم اس حقیقت کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔ تم یقین رکھو کہ وہ حقیقت معنوی بھی چھلکے کی ایک تہہ کی موٹائی کے برابر تمہاری جانب متوجہ ہوجاتی ہے ۔ اگر تم اپنے چھلکے کی دوسری تہہ سے نکل آتے ہوتو اس کے بھر دوسرے پرد ہ کا نقاب اٹھ جاتا ہے ۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

حضور نبی کریم ﷺ کی حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو نصیحت

حضور نبی کریم ﷺ نے شیر خدا حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اے علی (رضی اللہ عنہ ) تم اللہ کے شیر ہولیکن تم اس پر بھروسہ نہ کرو ۔نخل امید کے سایہ میں رہ کہ اس بے مثال کی نزدیکی اپنے کمال اور نیکی کی بنیاد پر نہیں بلکہ اپنی محبت کے ذریعے حاصل کرو۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

وہ شرمندہ کرگیا!

جوس لوجوس!ٹھنڈے ٹھارجوس،بھائی صاحب جوس لے لو!مسجدسے نکلتے ہی میرے کانوں سے یہ آوازٹکرائی تومیں نے دیکھاایک آدمی جوکہ ضعیف العمرہونے کے ساتھ ساتھ ایک ہاتھ سے بھی محروم تھا،سائیکل پربیٹھااپنے قریب سے گزرتے ایک آدمی کومخاطب تھا،مگراس شخص نے جب بابا جی کی بات کی طرف بالکل بھی توجہ نہ کی تواس معذورکے لہجے میں اب لجاجت آگئی۔

"مضمون" میں شائع کیا گیا

انتظار کی رات

اسکے بیٹے ہی اسکی متاع حیات تھے

"مضمون" میں شائع کیا گیا

مہنگی کبوتریاں

اکبرے کو ایک ہی ڈرتھا کہ کبوتریاں راستہ نہ بھول جائیں

"مضمون" میں شائع کیا گیا