بند کریں
ادب مضامین

مزید عنوان

اردو ادب میں نیا اضافہ

ڈیبی

میں نے سوچا کہ میں ڈیبی کی کہانی ضرور لکھوں گی۔ اُن پاکستانی عورتوں کے لیے جو عورتوں کو آزادی نسواں کے سنہرے جال میں پھنسا کر اُس ازلی اور ابدی سکون سے محروم کرنا چاہتی ہیں جو عورت کا حق ہے

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

مرشدِاقبال مولانا روم

علم کی محفل سجی ہے۔ معلم علم کی دولت بانٹ رہاہے اور متعلم سو جان سے نثار لفظوں کے سحر میں کھوئے ہیں۔عقل و دانش کی باتیں ہورہی ہیں ، چاروں طرف کتابوں کے ڈھیر لگے ہیں اور فقہ و دین کی بحث چھڑی ہے۔ ایسے میں کہیں سے کوئی دیوانہ ، قلندرانہ شان سے چلاآتاہے

"مضمون" میں شائع کیا گیا

پردیس کے رنگ

۔قانون شکن اور غیر منظم معاشرے سے نکل کر جب میں لاہور ہائیکورٹ بار کے وفد کے ہمراہ مانچسٹر ائیرپورٹ پر اترا تونظم و ضبط اور انگریزوں کی اصول پرستی کی شکل میں انقلاب کی اصل صورت دکھائی دی۔کہنے کو تو ہمارا تعلق ایسے خطے سے تھا جہاں دہشت گردی کا راج ہے

"آپ بیتی" میں شائع کیا گیا

انسان شناس

موسم بہار کی آمد آمد تھی رنگ برنگے پھول تتلیوں کے ساتھ کھیل رہے تھے ،تازہ ہوا کے جھونکے آوارہ بادلو ں کی طرح ہر جگہ چکر لگا رہے تھے ۔یونیورسٹی کےگارڈن میں کافی گہما گہمی تھی،یونیورسٹی کے لڑکے اور لڑکیوں کا جھرمٹ موسم کی صباحت سے کافی محظوظ ہو رہے تھے

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

جنت کی تلاش

جنوری کی کہر میں لپٹی شام تھی۔موونگ چیئر پر جھولتے جھولتے مجھے احساس ہی نہیں ہوا کہ شام کب ڈھلی اور اندھیرا کب پھیلا۔میں شہر یار حسن خان جسے اندھیروں سے کبھی پیار نہیں رہا تھا۔

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

نیلم ویلی

نیلم وادی یوں ہمکلام ہوتی ہے،میرارنگ اورطلسم کوئی بیان نہیں کر سکتااسی لئے دنیا میرےوجود سےآگاہ نہیں اور میں کسی نظر کیلئے نہیں کھلتی صرف اپنےآپ کیلئے اپنے اوپر جھکے بادل کیلئے یا کبھی کبھی کسی کوہ نورد کیلئے

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

انگریزی زبان میں پاکستانی ادب

پاکستانی ناول پاکستان کی سماجی اور ثقافتی زندگی کو پیش نظر رکھ کر لکھے جا رہے ہیں۔ یہ اپنے لوگوں کی خصوصیات‘ ان کے مذہبی سماجی اور دینی پس منظر کو سامنے رکھتے ہیں

"مضمون" میں شائع کیا گیا

رائیگاں

اگرچہ جبران اور تہمینہ کی ملاقات کچھ ہی عرصہ پہلے ہوئی تھی مگر وہ دونوں ایک دوسرے کوبہت اچھی طرح سے سمجھنے لگے تھے یوں اُن کی محبت جذبات سے زیادہ احساسات سے سینچی جارہی تھی

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

گھائل

یاد ہے ایک بار ہمارا جھگڑاہوگیا تھا۔ تم نے کہا جارہی ہوں، اب کبھی تم سے بات نہیں کرونگی۔ میں بھی طیش میں آگیا اور کہا جاؤ مجھے بھی تم سے بات کرنے کا کوئی شوق نہیں ہے۔ ہم لوگ تین دن ناراض رہے

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

چند لمحوں کی داستان

آج اسے گزرے ہوئے دوسرا دن تھا مگر آنسو تھے کہ تھمتے ہی نہ تھے ۔ آخر ماں کیسے بھول سکتی تھی اپنی اکلوتی اولاد کو۔ اور جب بیٹے کی قلب و روح کو اطراف میں مسلسل گھومتے ہوئے دیکھتی

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

پاگل

مانی اُس گنجے اور ہلکی پھلکی گندی داڑھی والے نوجوان کو پکڑ کر سردارمبارک خان کے پاس لایا تھا۔ نیلے رنگ کی بوسیدہ شلوار قمیض میں مجنوں نظر آنے والے اُس نوجوان کی داڑھی خاک سے اَٹی پڑی تھی

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

اک جوتا

آج دس سال بعد اپنے شہر کو لوٹا تو ہر طرف تبدیلی ہی تبدیلی میرا استقبال کرنے کو موجود تھی،سڑکیں کشادہ اور صاف ستھری ،پل اور زمینی راستوں کی بھرمار تھی۔ اسٹیشن پر نظر آتے ہر شخص کے ہاتھ میں موبائل فون نظرآرہاتھا

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

اپریل فول

”ٹرن ، ٹرن ۔“۔فون کی گھنٹی کافی دیر سے بج رہی تھی صالحہ کچن میں کام کر رہی تھی ۔تیز تیز قدم اٹھا کر فون تک پہنچی ۔”اسلام علیکم !“حسب معمول فون اٹھاتے ہی کہا”وعلیکم اسلا م ۔آنٹی ایک بری خبر ہے ۔“

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

مری ہوئی روحیں

گھٹن زدہ معاشرے میں محبت و اُلفت کی صدائیں ظلم و نفرت کے آتش فشاں میں جل کر راکھ بن چکی ہیں کبھی کبھی اسی راکھ میں محبت کی چنگاری دوبارہ بھڑک کر اپنے وجود کے ہونے کا احساس دلاتی ہے

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

کشمیر اداس ہے

کشمیر جتنا آج اداس ہے پہلے کبھی نہ تھا - پہلے تو تقسیم کا مسئلہ تھا مگر اب تقسیم در تقسیم ایک المیہ ہے ، کشمیر کا ایک حصہ بھارتی فوجوں کی موجودگی سے اداس ہے معروف مصنف محمود ہاشمی کا خصوصی انٹرویو

"انٹرویوز" میں شائع کیا گیا

اسلام آباد سے باغ، سدھن گلی اور مظفر آباد تک

پاکستان رب تعلالی کا دیا ہوا وہ تحفہ ہے جہاں‌ ہر خطے کا اپنا ہی حسن ہے ہر علاقے کی اپنی ثقافت اور اپنی۔۔۔

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

رنگ باتیں‌ کریں اور باتوں‌ سے خوشبو آئے۔۔۔!

حمزہ کو آنکھوں کا کینسر تھا۔ ڈاکٹرز کہہ چکے تھے کہ بینائی جاتی رہے گی اور زندہ رہنے کی خاطر۔۔۔!!

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

پاک ٹی ہاؤس

یہ مقام نہ صرف مشہور ادبی و فنی شخصیات کی بیٹھک تھی بلکہ یہ قہوہ خانہ لاہور اور ملک بھر کے۔۔۔

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

’’کاش میں‌ بیٹی نہ ہوتی‘‘

ویران سا ایک گھر ہے۔ درودیوار کی حالت خستہ ترین ہو چکی ہے۔ گھر کی چھت پر کھجور کی چٹائی پے دوزانوں۔۔۔

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

یہیں پہ تھا مرا بچپن یہیں کہیں پر تھا۔۔۔

گلزار صاحب سے ملتے ہوئے ہمیشہ مجھے یہی احساس رہا کہ جیسے میں‌ برگد کے کسی انتہائی شفیق اور۔۔۔

"افسانہ" میں شائع کیا گیا