بند کریں
ادب مضامین

مزید عنوان

اردو ادب میں نیا اضافہ

حضرت لقمان پر اتہام

حضرت لقمان ایک شخص کے غلام تھے جو ان کو اپنے تمام غلاموں میں حقیرترین سمجھتا تھا۔ وہ امیرا پنے غلاموں کو باغ سے پھل توڑنے کے لیے بھیجاکرتا تھا۔ لقمان بھی ان کے ساتھ جایا کرتے تھے ۔ وہ بظاہر سیاہ فام تھے لیکن بباطن بڑے نیک سیرت اوردانش مند۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

ایک بہرے کا بیمار پڑوسی کی عیادت کوجانا

ایک بہرے آدمی کو کسی نے بتایا کہ تمہارا ہمسایہ بیمار ہے ۔ بہرے نے دل میں کہا کہ میں اس بیمار کی باتوں کو کیا سمجھوں گا۔ لیکن بہر صورت عیادت کے لیے جانا ضروری ہے ۔ جب میں دیکھوں گا کہ اس کے لب ہلتے ہیں تو اپنی عقل سے قیاس کرکے اس کی بات سمجھ جاؤں گا۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

جون ایلیا۔۔۔

نادرِ روزگار تھے ہم تو: (حصہ چہارم)

"مضمون" میں شائع کیا گیا

موت کا علاج کسی کے پاس نہیں

جب حضرت سلیمان علیہ السلام شاہی پررونق افروز ہوئے تو سب پرندے ان کو مبارک باددینے کے لیے حاضر ہوئے اور پھر آپ کے سامنے اپنی عقل وہنر (خدادادصلاحیتوں ) کااظہار کرنے لگے۔ یہ اظہار خودستائی اور تکبر کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس لیے کہ وہ ہدایت پھیلانے کے کام میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے کام آسکیں۔

"مضمون" میں شائع کیا گیا

حضرت لقمان اور ان کاآقا

حضرت لقمان اگرچہ ایک شخص کے غلام تھے لیکن خدا کی یاد سے کبھی غافل نہ ہوتے تھے۔ ان کاآقا ان کے مرتبہ سے واقف ہوگیا تھا اور ان کا دل سے احترام کرتا تھا۔

"مضمون" میں شائع کیا گیا

درہم کے بدلے دینار

امام ابوعمروعبدالرحمن بن عمروالا وزاعی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میں عیدالفطر کی شب میں اپنے گھر میں بیٹھا ہوا تھا کہ کسی شخص نے میرے دروازے پر دستک دی۔ میں باہر آیاتو دیکھا کہ میرا ہمسایہ کھڑا ہے میں نے کہا کہو بھائی کیسے آنا ہوا۔ اس نے کہا۔

"مضمون" میں شائع کیا گیا

ذکر خیر باقی چھوڑا

حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شہزادے کو اس کے باپ کی وراثت میں سے بہت ساخزانہ ملا۔ اس نے وہ خزانہ رعایا پر خرچ کردیا اور سخاوت سے کام لیا۔ خوشبو صرف عود کی لکڑی سے نہیں آتی بلکہ اسے آگ پر رکھنے سے خوشبو پھیلتی ہے ۔ اگر بڑا بننا چاہتے ہوتو سخاوت کرو کیونکہ ایک دانہ بکھیرنے سے کچھ نہیں اُگے گا۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

آوٴ نیکی کرتے ہیں

اب اس نے کھانا بنانا بھی چھوڑ دیا تھا.. لگتا تھا کہ گھر سے لذیذ پکوان کی خوشبوئیں ہی غائب ہو گئے تھیں۔ لیکن وہ کرے بھی تو کیا کہ اب ہاتھ نے ساتھ چھوڑ دیا تھا.. آج دل کر رہا تھا کہ زردہ بنایا جائے کسی طرح خود کو تیار کیا۔ باورچی خانے میں جاکر پتیلی نکالی..

"مضمون" میں شائع کیا گیا

بے خوف درویش

ایک بادشاہ شکار کے لیے نکلا ہوا تھا۔ وہ جنگل سے گزر رہا تھا۔ کہ اس کی نظر ایک درویش پر پڑی جو اپنے حال میں مست بیٹھا تھا۔ بادشاہ اس درویش کے قریب سے گزرا لیکن اس نے آنکھ اٹھا کر بھی اس کی طرف نہ دیکھا اور یہ بات بادشاہ کو بہت ناگوار گزری۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

اللہ عزوجل کی قدرت اسباب کی محتاج نہیں

اللہ عزوجل کی جانب سے جوفیض اور عطا ملتی ہے اس کی دو اقسام ہیں۔ اول فیض اقدس اور دوم فیض مقدس۔ فیض اقدس وہ فیض ہے جس میں استعداد شرط نہیں اور فیض مقدس

"حکایات" میں شائع کیا گیا

حقیقی نفع

سلطان قزل ارسلان ایک ایسے مضبوب قلعہ میں رہتا تھا جسے کوئی دلیر سے فوج بھی فتح کرنے کی ہمت نہ رکھتی تھی ۔ اس قلعہ کی بلندی کوہ الوند سے برابری کا دعویٰ کرتی تھی اور ۔۔۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

عشق میں محویت کے باعث بے بس ومعذور ہیں

ایک نہر کے کنارے اونچی دیوار تھی جس پر ایک مصیبت کامارا ہوا پیاسا بیٹھا تھا۔ یہ ایک مست اور بے چین عاشق تھا جو پیاس اور پانی کی طلب سے کمزور لاغرہوچکا تھا

"حکایات" میں شائع کیا گیا

اللہ عزوجل کی بارگاہ میں بندوں کا حال

حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ اس حکایت میں ایک بادشاہ کا قصہ بیان کرتے ہیں کہ اس نے اپنے مشیروں سے کہا کہ فلاں شخص کی تنخواہ دوگنی کردو کیونکہ وہ کبھی شاہی دربار سے غیر حاضرنہیں ہوا اور ہر وقت میرے حکم کا منتظر رہتا ہیت جبکہ باقی تمام لوگ شاہی دربار میں بھی کھیل تماشوں میں مشغول ہوتے ہیں اور اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی برتتے ہیں۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

اللہ کی پکڑ سے چھڑانے والا کوئی نہیں

حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ ا س حکایت میں ایک سپاہی کا قصہ بیان کرتے ہیں کہ اس بدبخت نے ایک فقیر کے سر پر پتھر ماردیا۔ فقیر میں بدلہ لینے کی سکت نہ تھی اس لئے فقیر نے وہی پتھر پکڑکر محفوظ کرلیا۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

انسان گزیدہ

رابعہ میری بہت اچھی دوست ہے وہ ایک اولڈ ہوم میں اکاوٴنٹنٹ کے فرائض انجام دیتی ہے۔ میں ان کے آفس پہنچی ، رابعہ موجود نہ تھی اس کی کولیگ نے مجھے انتظار کرنے کو کہا کہ وہ آدھ گھنٹے تک آجائے گی۔رابعہ سے رابطہ کیا تو اس نے بھی انتظار کا کہا۔

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

جھوٹی آبرو کے لئے بناوٹ نہ کرو

داناؤں کا قول ہے کہ ہمیشہ محسنوں کے مہمان بنونہ کہ ایسے شخص کے جو تمہاری کمائی کمینگی سے وصول کرے۔ ایسے پیرروشنی نہیں دے سکتے جو تمہیں تاریک بنادیں۔ جب اس کے باطن میں نور نہیں تو دوسرے اس سے کیسے روشنی حاصل کرسکتے ہیں؟

"حکایات" میں شائع کیا گیا

بدکاری ظالم پر لعنت ہمیشہ برستی رہتی ہے

حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک وزیر نے بادشاہ کے خزانے کو بھرنے کے لئے لوگوں کے گھروں کو برباد کرنا شروع کردیا ۔ داناؤں نے کہا کہ جو شخص اللہ عزوجل کو ناراض کرے اس لئے کہ مخلوق اس سے راضی ہو اللہ عزوجل اسی مخلوق کو اس کی تباہی پر مامور فرما دیتا ہے ۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

شناخت کے لئے نور باطن چاہئے

شناخت کے لئے نورباطن چاہئے جو زہد کی پہچان کرسکے۔ یہ نورایسا ہے جو تقلید اور کجی سے پاک ہوتا کہ انسان کو بغیر اس کاکام دیکھے یابغیر اس سے بات کئے پہچان سکے۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

برائی کے بدلہ بھلائی کرنا جو انمردوں کا شیوہ ہے

حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک جنگل میں ایک غریب شخص کا گدھا کیچڑ میں پھنس گیا ایک تو جنگل تھااور اوپر سے موسم بھی خرات تھا ۔ سردی کے موسم میں تیز ہوا چل رہی تھی اور بارش برس رہی تھی ۔ اس مصیبت میں مبتلا ہونے پروہ شخص سخت مشتعل ہوااور غصہ میں اس نے گدھے سے لے کر اس ملک کے بادشاہ تک سب کو برابھلا کہہ دیا ۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

اپنے وقار اور مرتبہ پر قائم رہ

حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک سیاہ گوش ایک شکاری پرندہ جس کے کان لمبے نوک دار اور کھڑے رہتے تھے جوکہ بلی سے ذرا بڑا ہوتا ہے اس سے لوگوں نے پوچھا کہ تو شیر کے ساتھ رہنا کیوں پسند کرتا ہے ؟

"حکایات" میں شائع کیا گیا