بند کریں
ادب مضامین

مزید عنوان

اردو ادب میں نیا اضافہ

بے کار آنسو

ایک کتانزع کے عالم میں تھا اور اس کا آقاپاس بیٹھا آنسو بہا رہاتھا فرط رنجم وغم سے اس کی ہچکی بندھی گئی تھی روتا جاتا تھا اور کہتا تھا کہ ہائے ! مجھے پر تو آسمان ٹوٹ پڑا میں مارا گیا میں کیا کروں کدھر جاؤں کون سے جتن کروں کہ میرے عزیز ہزار جان کتے کی جان بچ جائے ۔ اس کے مرنے کے بعد میں کیوں کرجیوں گا ۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

امام صاحب کا حق

شاہ سلیمان پھلواری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ شروع شروع میں جب میں نے لاہور کی شاہی مسجد کو دیکھا تو اس میں بڑے بڑے پیپل کے درخت تھے ۔ یہاں ایک زمانہ میں رنجیت سنگھ کے گھوڑے بندھتے تھے یہ مسجد شہنشاہ اورنگیزیب کی بنوائی ہوئی ہے۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

مسلمان کبھی بزدل نہیں ہوتا

ایک دفعہ مروکے شہر سے ایک نوجوان حضرت سید ابوالحسن علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ المعروف داتا گنج بخش کی خدمت میں حاضر ہوااور عرض کی کہ

"حکایات" میں شائع کیا گیا

شکاری اور دانا پرندہ

ایک شکاری کے جال میں چھوٹا سا پرندہ پھنس گیا۔ وہ اس کو ذبح کرنے لگا تو پرندے نے کہا کہ اے بزرگ سردار مجھ جیسے چھوٹے سے پرندے کو آپ کھابھی جائیں گے تو آپ کا کچھ نہیں بنے گا۔ اب تک آپ اتنے اونٹ گائیں اور بھینسیں کھا چکے ہیں۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

سکندر رومی کا جواب

کہا جاتا ہے کہ کسی نے سکندر اعظم سے پوچھا کہ آپ نے دنیا کے اتنے ملک کس طرح فتح کرلیے ؟ آپ سے پہلے جو بادشاہ گزرے ہیں ان کے پاس بھی خزانوں اور لشکروں کی کمی نہ تھی لیکن ایسی شاندار فتوحات ان میں سے بھی حاصل نہیں ہوئیں۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

ادب

حجاج بن یوسف ثقفی سے منقول ہے کہ اس نے کو توال (اپنے پہرہ دار ) کو حکم کیا کہ رات میں شہر کا گشت کیا کرے اور عشاء کے بعد جس کو (پھرتا ہوا ) پائے قتل کردے۔ پہرہ دار نے رات میں گشت کیا اور تین لڑکوں کو پایا جو جھومتے ڈولتے ہوئے جارہے تھے اور

"حکایات" میں شائع کیا گیا

غیب سے گواہی

بغداد میں ہر طرف حضرت سمنون رحمتہ اللہ علیہ کی پارکبازی اور ولایت کے چرچے ہورہے تھے اور ہر کوئی آپ کی صحبت سے فیض حاصل کرنے کا متمنی تھا۔ لوگ آپ کی محفل میں شرکت کو بہت بڑی سعادت سمجھتے تھے ۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

عقل کی بدولت

بچپن میں ایک لڑکا منصور عباسی کے ساتھ پڑھا کرتا تھا جب منصور بادشاہ ہوگیا تو وہ ملنے آیا یہ شخص زیادہ پڑھا لکھا تو نہ تھا مگر بہت عقل مند تھا۔ منصور نے اسے دیکھا تو قریب بلایا اور نزدیکی عطا کی ۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

خونخوار ڈاکواور قیدی

ایک دفعہ قوم غز کے خونخوار ڈاکوؤں نے ایک گاؤں پر چھاپہ مارا اور وہاں کے دوسربرآوردہ آدمیوں کو اپنا قیدی بنالیا ۔ پھر انہوں نے ان دنوں میں سے ایک کے ہاتھ پاؤں باندھ دیئے اور ان کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو وہ بڑی لجاجت سے بولا اے بلند رتبہ بادشاہو ! تم مجھے کیوں تلوار کے گھاٹ اتار رہے ہو ۔ آخر میں نے کیا گناہ کیا ہے ۔ جو تم میرے خون کے پیاسے ہوگئے ہو۔ میں تو ایک مسکین درویش ہوں اور مجھ کو قتل کرکے تم کو کوئی دنیاوی فائدہ بھی حاصل نہیں ہوسکتا ۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

سونے کے کنکر

حضرت حیوہ بن شریح رحمتہ اللہ علیہ بڑے باکمال ولی اللہ تھے ۔ اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے ہر وقت آپ کی آنکھوں سے آنسو بہتے رہتے تھے ۔ غربت کی وجہ سے کئی کئی روز فاقوں میں گزر جاتے تھے ۔ آپ کے ایک مرید جناب خالد بن عبدالعزیز بیان فرماتے ہیں کہ

"حکایات" میں شائع کیا گیا

یارِ غار

جب ہجرت کے سفر میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور نبی کریم ﷺ کے ساتھ غار ثور کی طرف جارہے تھے تو حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کبھی حضور ﷺ کے آگے چلتے اور کبھی پیچھے چلنے لگتے یہ دیکھ کر حضور نبی کریم ﷺ نے پوچھا

"حکایات" میں شائع کیا گیا

قاتل

میں تیز بھاگ رہا تھا پولیس میرے پیچھے تھی میں ایک گلی سے دوسری گلی ہوتے ہوئے مین روڈ پر آگیا تھا ۔روڈ پر بہت ٹریفک تھی میں نے جلدی سی سڑک عبور کی اور پھر دوسری سڑک نکل آیا ایک بس میں جلدی سے گھس گیا سیٹ تو نہیں ملی مگر پولیس کے ہاتھ لگنے سے محفوظ ہو گیا اب پولیس سے میں بہت دور نکل چکا تھا ۔میری آنکھوں میں خون اُترا ہوا تھا

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

نیک صحبت

ایک دفعہ ایک آدمی کعبہ کے گرد طواف کے دوران یہ دعا کررہاتھا ۔ یااللہ میرے بھائیوں کو نیک بنادے اس سے پوچھا گیا کہ

"حکایات" میں شائع کیا گیا

قبولیت دعا

مدینہ منورہ کی گلی میں ایک جوان آدمی تیزی سے چلاجا رہا تھا۔ اس نے کپڑوں میں ایک شراب کی بوتل چھپارکھی تھی ۔ وہ کسی کی نظروں میں آئے بغیر جلدازجلد اپنی منزل پر پہنچ جانا چاہتا تھا ۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

حقیقت

ایک دفعہ حضرت جنید بغداری رحمتہ اللہ علیہ کے ایک مرید کے دل میں خیال آیا کہ اب میں کمال کو پہنچ گیا ہوں اس لیے اب میرے لیے صحبت سے تنہائی بہتر ہے ۔ چنانچہ اس نے گوشہ نشینی اختیار کرلی ۔ جب رات ہوئی توایک اونٹ ان کے پاس لایا جاتا تھا اور

"حکایات" میں شائع کیا گیا

لعل اور پتھر

ایک بادشاہ اپنے لاؤلشکر کے ساتھ سفر کررہا تھا۔ ایک شب اس نے ایک جگہ پڑاؤ کیاتو اس کے بیٹے کے تاج سے ایک لعل گرگیا۔ بادشاہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو شہرادے سے کہا ، اے بیٹے تواپنا لعل اس وقت تک تلاش نہ کرسکے گا جب تک ایک ایک پتھر کو خوب توجہ سے نہ دیکھے گا۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

انصاف

سلطان جلال الدین ابو الفتح ملک شاہ ایک دن ایک ندی کے کنارے شکار کھیلنے کے لیے نکلا۔ اور اس سے فارغ ہوکر ایک باغ میں آرام کرنے کے لیے اترا۔ اسی اثناء میں اس کا خاص دربان ایک گاؤں گیا اور ایک گائے جدندی کے کنارے چررہی تھی پکڑ کر ذبح کرائی اور

"حکایات" میں شائع کیا گیا

سجدہٴ شکر

بنی اسرائیل میں ایک عابد تھا جو چار سوسال سے عبادت الٰہی میں مشغول تھا۔ ایک دن اس نے مناجات میں کہا کہ یاخدا ! اگر تو پہاڑوں کو پیدا نہ کرتا تو تیرے بندگان کے لئے زمین کاسفرآسان ہوجاتا۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

واقعہ اذان

ایک دفعہ رنجیت سنگھ کے پاس سکھ لوگوں کا وفد پیش ہوااور کہنے لگے کہ ہم نے سنا ہے کہ مسلم لوگ اپنے بچوں کے کان میں اذان دیتے ہیں وہ مسلم ہوجاتے ہیں۔

"مضمون" میں شائع کیا گیا

دوست کا تحفہ

ایک دفعہ حضرت یوسف علیہ السلام کا ایک پرانا دوست دور دراز کے کسی علاقے سے ان کی ملاقات کو آیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئے ۔ چونکہ دونوں گہرے دوست تھے اس لئے بے تکلفی اور محبت کے گاؤ تکیے پر ٹیک لگا کر بیٹھے ۔ دوست نے یوسف علیہ السلام سے ان کے بھائیوں کے ظلم اور حسد کا حال پوچھا تو آپ نے جواب دیا :

"حکایات" میں شائع کیا گیا