نواز شریف کا حکمرانوں کو پانچ سال دینے کا فیصلہ

پی ٹی آئی کے حکمرانوں نے ہوش مندی سے کام نہ لیا تو مسلم لیگیوں کی نئی نسل میں سے بہت سے نوشاد حمید کی ٹیم کی طرح ان کے سامنے خم ٹھونک کر کھڑے ہو جائیں گے۔

ہفتہ نومبر

Nawaz shareef ka hukmraanon ko panch saal dainay ka faisla
فرخ سعید خواجہ
لاہور سمیت پنجاب بھر میں جس طرح سموگ کی چادر نے ہر چیز کو ڈھانپ لیا ہے اور سموگ کے سبب نزلہ، زکام، الرجی اور امراض چشم کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے اسی طرح وزیراعظم عمران خان کے وزارت عظمٰی سنبھالنے کے بعد لاہور کے دوروں میں پنجاب کے حکمرانوں کو داد اورشہہ دینے جبکہ پی ٹی آئی کی حلیف مسلم لیگ (ق) پنجاب کے صدر اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کو ہلہ شیری دینے کا جو انداز اپنایا ہے اس نے صوبہ پنجاب کی سیاست میں تلخی گھول دی ہے۔

وزیراعظم پاکستان سے وفاقی و صوبائی وزراء تک اپوزیشن کو رگیدنے پر لگے ہوئے ہیں۔تقاریر ہوں یا ٹاک شوز ان کی زبانیں شعلے اگل رہی ہیں۔ ان کی ایک رٹ ہے کہ اپوزیشن نے پنجاب اسمبلی کا جو احتجاج کیا اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

(جاری ہے)

حالانکہ صرف پچھلے سال کی وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا کی بجٹ تقریر نکلوا کر دیکھ لی جائے کہ پی ٹی آئی نے جو احتجاج کیا تھا وہ اس سال کے احتجاج جیسا ہی تھا کہ مختلف۔

البتہ اس وقت کی حکمران جماعت مسلم لیگ ن نے اتنی جارحیت نہیں دکھائی تھی جتنی اس برس کی حکمران جماعت نے دکھائی۔ حقیقت یہ ہے بجٹ تقریر کے موقع پر پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے احتجاج کے مقابلے میں پی ٹی آئی اور ق لیگ کے ارکان اسمبلی صوبائی وزراء فیاض الحسن چوہان، چودھری ظہیر الدین، میاں محمود الرشید، اور سمیع اللہ چودھری کی قیادت میں اینٹ کا جواب پتھر سے دیتے رہے۔

سپیکر ڈائس کے سامنے اسمبلی سٹاف کی میزوں پر چڑھ کر نعرے مارنے والوں میں مسلم (ن) پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) کے ارکان شامل تھے۔ جوابی نعرے بازی اور وزیر خزانہ کو تالیاں بجا کر داد دینے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔بلاشبہ بعض اپوزیشن ارکان کی جانب سے میزیں الٹانے کی کوشش بھی ہوئی تاہم ارکان اسمبلی کے میزوں پر چڑھے ہونے کے باعث میزیں الٹائی نہ جا سکیں۔

البتہ اجلاس ختم ہونے کے بعد کس نے کارروائی ڈالی۔ اس کا کوئی ٹھوس ثبوت سامنے آ سکے یا نہ آ سکے لیکن بجٹ تقریر کی رپورٹنگ کرنے والے بیشتر رپورٹر اصل حقیقت سے آشنا ہیں۔ حکومت اور حکمران جماعت نے تشدد اور توڑ پھوڑ کے پراپیگنڈہ میں گوئیبلز کوشکست دے دی ہے۔
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر پرامن مسلم لیگی کارکنوں کو روکنے کے لئے پولیس نے احتساب عدالت سے کئی کئی سو گز دور رکاوٹیں کھڑی کر دیں تھیں ۔

پورے علاقے میں کرفیو کا سماں تھا۔ مسلم لیگی کارکن اپنے لیڈر کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے آنا شروع ہو گئے تھے ، پولیس نے ان کو روکنے کی کوشش کی تاہم پولیس کے لاٹھی چارج اور مارپیٹ کے باوجود بہت سے کارکن رکاوٹیں عبور کرکے احتساب عدالت کے باہر جمع ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ ان میں ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سابق ارکان اسمبلی ، لارڈ مئیر، ڈپٹی مئیرز، یونین کونسلوں کے چئرمین، وائس چئرمین، کونسلر، ڈسٹرلت ممبرز اور کارکن ان میں شامل تھے۔

پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں حمزہ شہباز کے علاوہ کسی کو نہ بخشا گیا،سابق وفاقی وزیر تجارت اسر مسلم لیگ ن لاہور کے صدرپرویز ملک ، اور جنرل سیکریڑی لاہورخواجہ عمران نذیر جیسے لیڈروں کو بھی نہیں بخشا گیا۔ دھکم پیل اور لاٹھی چارج سے زخمی ہونے والے پرویز ملک اور وحید گل بیہوش ہو گئے۔ کہا جاتا ہے کہ مسلم لیگ ن کے کارکن دودھ پینے والے مجنوں ہیں۔

حالانکہ تمام کارکنوں پر یہ مثال صادق نہیں آتی کیونکہ مشرف آمریت کے مقابلے میں اسی شہر لاہور کے کارکنوں نوشاد حمید، سلمی بٹ، تنویر عالم بٹ ،شیخ شاہد اقبال، سردار نسیم ، رانا سرور، بودی پہلوان، دلشاد شاہ، اماں شاہدہ، پروین اختر، راحت شوکت راحت افزا، رخسانہ کوکب، شاہجہاں بلے، ڈاکٹر آفتاب بٹ، افتخار شیخ، اسغر کوکب، عتیق الرحمان ،شہزادی کبیراور ان جیسے بہت سے دیگر کارکن تھے جنہوں نے مشرف کے آمرانہ دور میں تشدد کا سامنا کیا اور اپنی قوت برداشت کا نہ صرف لوہا منوایا بلکہ دلیری سے قید و بندکی صعوبتیں کاٹنے کے ریکارڈ بھی قائم کئے تھے۔

پی ٹی آئی کے حکمرانوں نے ہوش مندی سے کام نہ لیا تو مسلم لیگیوں کی نئی نسل میں سے بہت سے نوشاد حمید کی ٹیم کی طرح ان کے سامنے خم ٹھونک کر کھڑے ہو جائیں گے۔
اپوزیشن جماعتیں ہوں یا حکمران جماعتیں ان کا آپس میں ملنا جلنا، مذاکرات کرنا، اتحاد بنانا جمہوری سیاست کاخاصہ رہاہے۔ سیاست میں مذاکرات کے دروازے بند نہیں کئے جاتے البتہ اپوزیشن جماعتوں کے سر جوڑ کر بیٹھنے کے ارادے پر سیخ پا ہونے والے حکمران یقیناً خوفزدہ ذہنیت کے حامل ہیں ۔

اپوزیشن کی مجوزہ اے پی سی کی اس بری طرح مخالفت کہ گویا آسمان گرنے لگا ہے کم از کم ہماری سمجھ سے تو بالا تر ہے۔ایک اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ جناب وزیراعظم نے اپنی 75 دن کی حکومت کے دوران اپوزیشن کو بار بارسڑکوں پر نکلنے کے لئے اشتعال دلایا ہے، کنٹینر دینے کی پیشکش کی ہے۔لگتا یوں ہے کہ حکمرانوں نے سیاست میں اصولوں کے جو اعلیٰ و ارفع مقاصد بیان کئے تھے، عوام کو خوشحالی کے جو خواب دکھائے تھے ان سب کو پانچ سال میں پورا کرنا انہیں ممکن دکھائی نہیں دے رہا،سو وہ چاہتے ہیں کہ اپوزیشن ایجی ٹیشن کی طرف جائے اور حکومت پہ پروپیگنڈہ کرے کہ ہمیں کام کرنے کا وقت ہی نہیں دیا گیا۔

مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف نے حکمرانوں کی اشتعال انگیزی کی کوششوں کا شکار ہو کر موجودہ سیاست میں گند گھولنے کی بجائے حکمرانوں کو پانچ سال دینے کا فیصلہ کرکے تدبر کا ثبوت دیا ہے۔ عوام مہنگائی سے بلبلا اٹھی ہے جبکہ حکمرانوں کی طرف سے مزید مہنگائی ہونے کی خبر پر سنائی جا رہی ہے۔ سابق حکمرانوں کا احتساب کر کے اپنے حامیوں کو خوش ضرور کیا جا سکتا ہے۔

لیکن بڑھتی ہوئی بجلی کی لوڈشیڈنگ ، بجلی ، گیس ، پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ بالآخر پی ٹی آئی کے حامیوں کو چپ رہنے پر مجبورکر دے گا۔ گلی کوچوں، دفاتر اور دکانوں پر جب حکومت کی پالیسیوں پرتنقید ہو گی تو پی ٹی آئی کے کارکن اس کا دفاع نہیں کر سکیں گے سو بہتر ہی ہے کہ اپوزیشن کواپنا کام کرنے دیا جائے۔ وہ اسمبلیوں میں اختلاف رائے کریں یا احتجاج کریں اس پر پہرے نہ لگائیں۔

حکمران اور حکومت دلجمعی کے ساتھ قول و عوامی مسائل حل کرنے کی طرف متوجہ ہو جائیں۔ ابھی آپ کی حکومت کو جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں آپ کی حکومت کو کوئی نہیں گرانے والا۔ اطمینان رکھیں۔ تاہم آپ اپنی ہوش سے باہر نہ آئے تو یاد رکھئے گا کہ ماضی کے حکمرانوں کو جو لوگ برسراقتدار لاتے رہتے وہی انہیں گھر بھجوانے کا سبب بھی بنتے رہے یہ ٹھیک ہے کہ کچھ سیاسی عناصر کو انہوں نے اپنا آلہ کار بنایا۔

سو آپ کو سرخاب کے پَر نہیں لگے کہ آپ جو مرضی گند ماریں آپ کو لانے والے آنکھیں بند ہی رکھیں گے۔ آپ کے اوپنگ بیٹسمین فواد چودھری نے سپریم کورٹ کے بم پر لات ماری ہے بہت ممکن ہے کہ اس مرتبہ وہ بم نہ پھٹے اور فواد چودھری بچ جائیں لیکن یہ روش برقرار رہی تو انجام گلستان کیا ہو گا اس کا عام آدمی بھی اندازہ کر سکتا ہے۔

Your Thoughts and Comments

Nawaz shareef ka hukmraanon ko panch saal dainay ka faisla is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 03 November 2018 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.