پاکستان ففتھ جنریشن وار کی زد میں

گلگت بلتستان کے سادہ لوح نوجوانوں کو”را“ کی فنڈنگ کے ذریعے گمراہ کرنے کا انکشاف

پیر فروری

Pakistan Fifth Generation War Ki Zad Mein
رابعہ عظمت
یورپی گروپ ای یو ڈس انفولیب نے ”انڈین کرونیکلز“نامی رپورٹ میں بھارت کا بد نما چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔یورپی تنظیم کی تحقیق کے مطابق بھارتی نیٹ ورک 15 سال تک یورپی یونین اور اقوام متحدہ پر اثر انداز ہوتا رہا،جعلی خبروں،جعلی این جی اوز کے نیٹ ورک کو دہلی سے سری واستوا گروپ کنٹرول کرتا رہا۔

سری واستوا گروپ کا ہدف عالمی سطح پر پاکستان کو تنہا کرنا تھا،بھارتی نیٹ ورک 750 جعلی مقامی میڈیا اور 10 مشکوک و پراسرار این جی اوز چلاتا رہا،بھارتی نیٹ ورک پاکستان مخالف مقاصد کے لئے مردہ این جی اوز کو یو این میں استعمال کرتا رہا۔بھارتی نیٹ ورک نے یورپی یونین کا روپ بھی دھارا،جھوٹا و غلط مواد بڑھا چڑھا کر عالمی میڈیا تک پہنچایا جاتا رہا۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں بتایا گیا کہ انڈین نیٹ ورک نے یورپی پارلیمنٹ کے سابق صدر مارٹن شلز بارے بھی جھوٹ گھڑا،عالمی انسانی حقوق لوئیز سوہن کو بھی دوبارہ زندہ کرکے پیش کر دیا تھا،بھارتی نیٹ ورک نے لوئیز کی 2007ء میں یو این انسانی حقوق کونسل میں شرکت ظاہر کی جبکہ لوئیز سوہن کا 2006ء میں انتقال ہو گیا تھا۔
یہ بھی بتایا گیا کہ نیٹ ورک نے لوئیز کو 2011ء میں واشنگٹن میں ایک تقریب میں شریک ظاہر کیا،بھارتی نیٹ ورک نے کئی جعلی این جی اوز،تھنک ٹینکس بھی قائم کیے،ای یو ڈس انفولیب رپورٹ کے مطابق بھارتی نیٹ ورک یورپی پارلیمنٹ اور یو این کے سائیڈ ایونٹس منعقد کراتا،جبکہ 550 جعلی این جی اوز،میڈیا اور یورپی پارلیمنٹ کے غیر رسمی گروپ قائم کیے گئے تھے۔

گزشتہ برس نومبر میں اس ادارے نے بھارتی ڈس انفارمیشن نیٹ ورکس پر پہلی تحقیقی رپورٹ جاری کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ بھارت کی جانب سے 65 سے زائد ممالک میں 265 سے زائد مقامی ویب سائٹس چلائی جا رہی ہیں۔دراصل بھارت نے پاکستان کی سالمیت کیخلاف پروپیگنڈہ وار شروع کر رکھی ہے۔ پلوامہ ڈرامہ،ارنب گوسوامی کا چیٹ گیٹ سکینڈل،اسلحہ کی ڈوڑ اور گلگت بلتستان کو ففتھ جنریشن وار کا ہدف بنایا گیا ہے۔

اس سلسلے میں تازہ ترین انکشاف،گلگت بلتستان کے نوجوان مہدی شاہ رضوی کے وطن مخالف بیانیے کیلئے استعمال ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے بھارتی سازشوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔
یوں کلبھوشن یادیو اور کراچی سے گرفتار ہونے والے جاسوسوں کے ساتھ ساتھ بھارت کے تمام مہرے بے نقاب ہو رہے ہیں۔قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گزشتہ چند ماہ کے دوران کراچی سے بھارت کی خفیہ ایجنسی را کے لئے کام کرنے والوں کو بھی گرفتار کیا ہے۔

مہدی شاہ کا یہ کہنا کہ وہ اکیلا نہیں بلکہ بہت سے نوجوانوں کو مالی معاونت کے لالچ میں پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔اس سے بھی زیادہ حیران کن انکشاف یہ ہے کہ مہدی شاہ رضوی کو اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس سیشن کے دوران افواج پاکستان کے خلاف بولنے کے لئے سکرپٹ کا فراہم کیا جانا ہے۔مہدی شاہ رضوی نے یہ اعتراف بھی کیا کہ انٹرنیشنل فورمز،مافیاز کے اکسانے اور لالچ پر ہی ان کے والد حیدر شاہ رضوی نے بھی پاکستان مخالف بیانیہ اختیار کیا۔

مہدی شاہ کے مطابق اٹلی میں امجد مرزا نے گلگت بلتستان کو انڈیا کا حصہ قرار دیتے ہوئے اشتعال دلا کر پاکستان کے خلاف مظاہرے کرنے پر اکسایا۔صرف یہی نہیں بلکہ امجد ایوب مرزا نے پیسے دے کر یہ یقین بھی دلایا کہ انڈیا ہمارے ساتھ کھڑا ہے۔مجھے لالچ دے کر پاکستان کے خلاف یورپ(اٹلی)میں پاکستانی سفارتخانے کے باہر احتجاج پر مجبور کیا گیا۔اٹلی سے جاری شدہ اس احتجاج کی ویڈیوز میں فوج اور اداروں کے خلاف تمام سکرپٹ لکھ کر دیا گیا اور پھر اسے سوشل میڈیا پر وائرل بھی کیا گیا۔

ان تمام دنوں میں مجھے اقوام متحدہ میں نمائندگی کا لالچ دے کر کہا گیا کہ مناسب وقت پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی یقین دہانی بھی کروائی گئی۔پاکستان کے خلاف آن لائن کانفرنسوں کا حصہ بھی بنتا رہا۔امجد ایوب مرزا،سجاد راجہ،شوکت کشمیری بھی بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹ ہیں اور بھارت کی طرف سے ملنے والے بھاری فنڈز پر گلگت بلتستان اور کشمیری قوم کو گمراہ کرکے پاکستان کے خلاف ورغلاتے ہیں۔


قدرتی حسن و جمال میں اپنی مثال آپ اور جنت کا ٹکڑا،تین ایٹمی ریاستوں کے درمیان واقع گلگت بلتستان دو پہاڑی سلسلوں ہمالیہ اور قراقرم کے دامن میں 9968 مربع میل پر محیط ہے جہاں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے-ٹو اور دنیا کا عظیم ترین گلیشیر سیاچن،بیافو اور بلتر واقع ہیں۔گلگت بلتستان محل وقوع کے اعتبار سے تاریخی حیثیت کا حامل ہے۔بلتستان کے مشرق میں لداخ،مغرب میں گلگت اور جنوب میں جموں کشمیر واقع ہیں جبکہ شمالی سرحد چین کے صوبہ سنکیانگ سے ملتی ہے۔

نسلی اور لسانی اعتبار سے لداخ بھی اس ریجن کے حدود میں شامل ہیں۔بلتستان فارسی کا لفظ ہے۔اس خطے میں اسلام کی تبلیغ کے لئے ایرانی مبلغین کا بڑا عمل دخل رہا جس کے سبب اس پورے خطے میں بولی جانے والی زبانوں پر فارسی کی گہری چھاپ ہے اور یہ خطہ پاکستان کے مستقبل،سی پیک اور ملکی ترقی کا دارومدار میں اہم کردار ادا کرنے جا رہا ہے۔گلگت بلتستان کی عوام پُرامن،دلیر اور پاکستان سے محبت کرنے والی قوم ہے آج پوری دنیا کی نظریں گلگت بلتستان پر ہی مرکوز ہیں۔


 یہ خطہ ملک کی ترقی کا ضامن ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کی اہم اکائی بن چکا ہے۔ملکی و بین الاقوامی تناظر میں گلگت بلتستان کی عوامی خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے تاریخی فیصلہ وقت کی ضرورت ہے کیونکہ گلگت بلتستان کو آئینی حقوق دیے جانے سے پاکستان کا موقف کمزور نہیں بلکہ زیادہ مضبوط ہو گا۔سوال یہ ہے کہ اسے مکمل انتظامی صوبے کا درجہ کیوں نہیں دیا جا رہا؟اس خطے کے ساتھ اس سے بڑی نا انصافی اور کیا ہو گی۔

؟پاکستان کی متنّنہ میں اسے نمائندگی حاصل نہیں ۔قومی مالیاتی کمیشن یعنی این ایف سی میں بھی شامل نہیں کیا گیا۔جس طرح فاٹا کو دونوں ایوانوں میں خصوصی نمائندگی دی گئی ہے اس طرح گلگت بلتستان کو بھی خصوصی نمائندگی دی جائے اور قومی اسمبلی میں 8 اور سینیٹ میں 6 نشستیں مختص کی جائیں تاکہ عوام کی مایوسی کو کم کیا جا سکے۔وفاق میں موثر نمائندگی نہ ہونے کی وجہ سے گلگت بلتستان اور وفاق میں بننے والی حکومتوں کے درمیان ہمیشہ سے ایک خلا رہا ہے اب یہ خلا تشویشناک حد تک بڑھ چکا ہے۔

اس وقت گلگت بلتستان عملاً صوبہ ہے مگر قانونی طور پر دیگر صوبوں کی طرح آئینی صوبہ نہیں ہے ۔اگر با اختیار صوبہ بن جائے تو سنٹر ایشیاء سے تجارت کو بہتر انداز میں منظم کیا جا سکتا ہے اس سے پاکستان زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو کرگل لداخ میں اپنے رشتے داروں سے ملنے کے لئے زیادہ طویل سفر کرنا پڑتا ہے۔

پاکستان اور گلگت بلتستان کے درمیان آمد ورفت کا واحد ذریعہ پی آئی اے اور ٹرانسپورٹ کی سہولت برائے نام ہے جبکہ برف باری میں اس علاقے کا رابطہ پورے پاکستان سے کٹ جاتا ہے۔ہر آنے والی حکومت کے سامنے یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ کب تک علاقے کے عوام گومگو کی حالت میں بے بس زندگی گزارتے رہیں گے۔گلگت بلتستان میں کوئی بڑا ہسپتال نہیں،علاقے میں بجلی کی شدید کمی اور ناقص نظام ہے حالانکہ گلگت بلتستان میں ڈیم بنایا جا سکتا ہے اس سے اربوں روپے کی آمدن ہو سکتی ہے۔

گلگت بلتستان میں بڑی بڑی صنعتیں لگائی جا سکتی ہیں۔پورے پاکستان میں برقی پیداوار میں اضافہ ہو سکتا ہے اور ہزاروں بے روزگاروں کو روزگار مہیا ہو سکتا ہے۔امریکی میجر شینن بیمی کا کہنا ہے کہ ففتھ جنریشن وار کا سب سے بڑا عامل محرومی ہے۔اسی طرح ایک اور امریکی لیفٹیننٹ کرنل سٹینٹن لکھتے ہیں کہ ففتھ جنریشن جنگیں محرومی کے جزیروں میں لڑی جائیں گی۔

اس وقت امریکہ،انڈیا اور دیگر دشمن ممالک مل کر ففتھ جنریشن وار کے تحت پاکستان ریاست کو اندر سے کھوکھلا کرنے کے لئے پوری قوت کے ساتھ حملہ آور ہیں۔
بلوچستان،گلگت بلتستان،پختونخوا اور کراچی اس کے خصوصی نشانے پر ہیں۔یہاں کے عوام کی محرومیوں کو استعمال کرکے انہیں ریاست سے متنفر اور اس کے خلاف صف آرا کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔

اسی طرح مذہب اور فقہ کی بنیاد پر بھی انتشار کو ہوا دی جا رہی ہے۔بے یقینی کی فضا پیدا کرکے پاکستانی معیشت تباہ کرنے پر کام ہو رہا ہے۔ففتھ جنریشن وار کی اصطلاح ڈیوڈ ایکس نے 2009ء میں امریکی میگزین وائرڈ پر اپنے ایک کالم میں دی،ففتھ جنریشن وار کی سادہ الفاظ میں تعریف یہ ہے کہ اس میں پوری قوم شریک ہوتی ہے،اس میں بیٹل یعنی ایک دوسرے کے سامنے لڑنے کی نوبت نہیں آتی،ففتھ جنریشن وار میں دشمن اپنے ہارڈ پاور کی بجائے سافٹ پاورز کو استعمال کرتا ہے،ففتھ جنریشن وار کے بنیادی ہتھیار جہاز،ٹینک اور میزائل نہیں بلکہ سفارت کاری،پراکسیز،ٹی وی،ریڈیو،اخبار،سوشل میڈیا،فلم اور معیشت ہیں۔

یہ زمین پر نہیں بلکہ ذہنوں میں لڑی جاتی ہے۔انسانوں کو نہیں بلکہ ان کے ذہنوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔فوجیں بھیجنے کی بجائے زیر نشانہ ملک کے شہریوں کو اپنی ریاست اور فوج کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ففتھ جنریشن وار کے متعلق ایک کہاوت بہت مشہور ہے”یہ وہ جنگ ہے جسے جیتنے کے لئے ضروری ہے کہ اسے لڑا ہی نہ جائے“۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ففتھ جنریشن یا ہائبرڈ وار کی صورت میں ہم پر چیلنج مسلط کیا گیا ہے اس کا مقصد ملک اور افواج پاکستان کو بدنام کرکے انتشار پھیلانا ہے،ہم اس خطرے سے باخوبی آگاہ ہیں،اس جنگ کو جیتنے میں بھی ہم انشاء اللہ ضرور کامیاب ہوں گے۔

دشمن ہماری شناخت کو مٹانے کیلئے لگاتار سازشوں کا جال بنتے آئے ہیں لیکن الحمدللہ افواج پاکستان اور قوم نے جذبہ ایمانی سے سرشار ہو کر ،دشمنوں کی ہر چال کو ناکام بنایا۔وطن کی آزادی اور سلامتی ہمارا نصب العین ہے،اس مشعل کو ہمارے اعصاب نے اپنے خون سے جلائے رکھا ہے ،اور ہم بھی اسے روشن رکھنے کیلئے پر عزم ہیں،میرے بہادر سپاہیو پاک فوج جیسی دلیر اور بہادر سپاہ کی کمان کرنا میری لئے بہت بڑا عزاز ہے،ہمارا ہر افسر اور جوان پیشہ وارانہ صلاحیتوں،اعلیٰ نظم و ضبط اور ایثار کی بدولت ایسی فوج کی نمائندگی کرتا ہے جس کی صلاحیتوں کو دنیا نے بھی تسلیم کیا ہے۔


کرونا وائرس نے دنیا کی معیشتوں کو ہلا کر رکھ دیا۔دنیا میں سب سے زیادہ کرونا سے ہلاکتیں امریکہ میں ہوئیں۔امریکی معیشت بھی سب سے زیادہ اس عالمی وباء سے متاثر ہوئی مگر امریکہ کی چونکہ بہت مضبوط معیشت ہے اس لئے اسے زیادہ فرق نہیں پڑا جبکہ بھارت کی معیشت بری طرح لرز رہی ہے۔بھارت میں آج بھی کرونا وائرس کنٹرول میں ہے نہ معیشت سنبھل رہی ہے۔

بھارت میں روزانہ سینکڑوں ہلاکتیں ہو رہی ہیں اور ہزاروں لوگ اس مہلک مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔دنیا میں سب سے زیادہ لوگ بھارت ہی میں خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔60 فیصد آبادی صحت کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔کروڑوں گھروں میں بجلی ناپید اور ٹوائلٹ جیسی سہولت تک میسر نہیں۔ان حالات میں بھی بھارتی حکمران جنگی جنون میں مبتلا ہیں۔

بھارت نے اپنے دفاعی بجٹ میں 19 فیصد اضافہ کر دیا ہے۔کھربوں روپے کے اضافی بجٹ سے بھارت لڑاکا جیٹ طیارے،ٹرانسپورٹ ایئر کرافٹس اور لڑاکا ہیلی کاپٹرز خریدنے کا پروگرام بنا رہا ہے۔اضافہ شدہ رقم سے بھارت زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل بھی خریدے گا۔گزشتہ 15 سال میں یہ بھارتی بجٹ میں سب سے زیادہ اضافہ کیا گیا ہے۔بھارتی سکیورٹی اہلکاروں نے کسان مظاہرین کے نئی دہلی میں داخلے کو روکنے کی خاطر سکیورٹی بڑھا دی ہے۔

بھارت کا دفاعی بجٹ پاکستان کے مجموعی قومی بجٹ کے قریب قریب ہے جبکہ بھارت کی خطے میں پاکستان کے سوا کسی سے ایسی دشمنی نہیں جس کے ساتھ اسے نبرد آزما ہونا پڑے۔آج کل اس کی چین کے ساتھ اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے باعث ٹھنی ہوئی ہے۔بھارت چین جنگ کا امکان نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Pakistan Fifth Generation War Ki Zad Mein is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 15 February 2021 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.