روزہ دار عدالت

پیر 19 جولائی 2021

Saif Awan

سیف اعوان

آپ نے اکثر ایسے لوگ دیکھے ہونگے جو لمبی تان کے سو جاتے ہیں ۔ان کے نذدیک چاہیے ڈھول بجے یا شورشربا ہو ان کے سر کے بال تک کو بھی اس کی پرواہ نہیں ہو گی۔ایسی ہی کچھ صورتحال آج کل پاکستان کی عدالت اور اپوزیشن کی بنی ہوئی ہے۔اپوزیشن نے ایسے ستو پیئے ہیں کہ ان کوتو اب رات کو بھی اپنے خوابوں میں حوالاتی،قیدی،مشقتی اور جیلر ہی نظر آتے ہیں ۔

جس کی وجہ سے وہ دن کے وقت بھی اپنی ہی دنیا میں مگن رہتے ہیں ۔روٹی مہنگی،آٹا مہنگا،گھی مہنگا،چینی مہنگی یا پیٹرول مہنگا ہو اپوزیشن نہ سردی میں باہر نکلی نہ ہی گرمی میں باہر نکلی ۔عمران خان کی قسمت اچھی ہے اس کو ڈبل روٹی اور قہوہ پینے والی اپوزیشن اور روزہ دار عدالت مل گئی ہے۔ڈبل روٹی کا فور پیس پیکٹ پندرہ روپے میں مل جاتا ہے جس کے ٹوسٹ بناکر اپوزیشن روزانہ چائے کے ساتھ کھاتی ہے لہذا ان کو نہ روٹی کی فکر اور پیٹرول یا گھی مہنگا ہونے کی فکر ہے۔

(جاری ہے)

عدالت نے چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے کیونکہ روزہ دار اگر زیادہ بولے تو اس کو روزہ لگنا شروع ہوجاتا ہے۔فی الحال عدالت نے پانچ سالہ روزہ رکھا ہوا ہے لہذا کوئی بھی گستاخ عدالت کی نیند اور خاموشی میں خلل ڈالنے کی کوشش نہ کرے۔اگر کسی نے ایسی جرات کی تو اس پر فوری توہین عدالت لگ سکتی ہے۔
موجودہ ملکی حالات میں دو ہی طبقے ہیں جو کھل کر ہر ایشو پر حکومت،اداروں اور اپوزیشن کے ضمیر جھنجھوڑ رہے ہیں کہ شاید کہی ان کو ہوش آ جائے کہ ملک میں ہوکیا رہا ہے اور عوام کن حالات میں زندگی کا گزر بسر کررہے ہیں۔

ان میں سر فہرست میڈیا ہے اس کے بعد سیاسی جماعتوں کے ورکرز ہیں ۔ دو دن میں پاکستان میں دو المناک حادثے ہوئے ہیں جہنوں نے پوری قوم کو تشویش میں مبتلا کردیا اگر ان دو واقعات پریشان نہیں ہیں تو وہ حکومت،اپوزیشن،ادارے اور عدالت نہیں ہیں۔داسو ڈیم پر کام کرنے والے پاکستانی ورکرزاور چینی انجیئنر ز کی ہلاکتوں اور پاکستان میں افغان سفیر کی بیٹی کے اغواء نے صورتحال کو مزید گھمبیر بنادیا ہے۔

اب لوگ سی پیک پر کام بند ہونے کی بھی کھل کر باتیں کررہے ہیں۔ٹویٹر پر ایک ”ثناء باجوہ“ نامی صارف نے لکھا کہ پاکستان میں اوپر نیچے عجیب و غریب واقعات ہور ہے ہیں لیکن ہماری عدالت سورہی ہے۔افسوس ہے عدالتیں کچھ نہیں کر پارہی ویڈیو زدہ انصاف۔”سیانی کڑی “نامی صارف نے لکھا کہ یہ ہماری داخلہ اور خارجہ پالیسی کے ثمرات ہیں ۔امریکہ نے اڈے مانگے نہیں لیکن کہا گیا کہ ہم نے اڈے دینے سے انکار کردیا ہے۔

چین کے انجینئر ز قتل ہوئے تو اسے حادثے کا روپ دیا گیا۔کل افغان سفیر کی بیٹی اغواء ہوئی اور گھنٹوں بعد زخمی حالت میں ملی۔جبکہ ایک اور ”مس بشیراں“نامی صارف نے اپنے ٹویٹ میں لکھا ”پہلے ہی پاکستان گرے لسٹ سے نہیں نکل رہا تھا باقی رہی سہی کسر ان واقعات نے پوری کردی ہے۔پاکستان کو اب گرے سے لسٹ سے کوئی نہیں بچاسکتا۔ اسکے ردعمل میں کابل میں بھی کچھ ضرور ہوگا۔

دو دن میں ایسی کئی ٹویٹس کی گئی ہے جن میں شہریوں نے اپنے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔لیکن مجال ہے کسی کو اس پر ہوش آیا ہو۔حکومت اور اداروں کے تو ان دو واقعات پر ہاتھ پاؤں پھولے ہوئے ہیں لیکن حیرت ہے اپوزیشن اور عدالت اتنی گہری نیند کیوں سوئے ہوئے ہیں ۔جماعت اسلامی جو ہر قومی ایشو پر سب سے پہلے سڑکوں پر ہوتی ہے وہ بھی ایسے ٹھنڈی پڑی ہے جیسے فریز کردی گئی ہے۔

اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہبازشریف شاید آج کل شدید گرمی اور لوڈشیڈنگ کی وجہ سے خود ساختہ طور پر اپنی ماڈل ٹاؤن لاہور والی رہائشگاہ پر نظر بند ہیں۔ اپوزیشن کی دوسری بڑی جماعت کے لیڈر آصف زرداری بھی آج کل لاڑکانہ سے باہر نہیں نکل رہے کیونکہ آج کل سبی کے بعد لاڑکانہ میں سب سے زیادہ گرمی پڑ رہی ہے ویسے بھی ان کی طبیعت کافی خراب رہنے لگی ہے جبکہ ان کے فرزند ویسے ہی امریکہ یاترا پر ہیں لہذا ان کو کوئی خبر نہیں کہ آج کل پاکستان میں کیا ہورہا ہے۔

مولانا صاحب ایسے قرنطینہ میں گئے ہیں کہ تین ماہ سے ان کا قرنطینہ ہی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔بس آخری میں بچی ہیں مریم نواز تووہ مون سون کی بارشوں سے پہلے آزاد کشمیر کے انتخابی مہم میں ہر کسی پر خوب برس رہی ہیں ۔مون سون میں جیسے کبھی بہت تیز گرم چمک کے ساتھ بارش برستی ہے بالکل مریم نواز بھی برس رہی ہیں۔اسلام آباد میں افغان سفیر کی بیٹی کے اغواء ہونے پرمریم نوازنے کل افغان قوم سے باقاعدہ شرمندگی کا بھی اظہار کیا کہ ہم بحیثیت قوم اس واقعے پر شرمندہ ہیں۔

پاکستان کی تقدیر بدلنے والا سی پیک سست ہوجائے ،پاکستان عالمی تنہا ئی کا شکار ہو جائے،پاکستان میں دوبارہ دہشتگردی شروع ہوجائے،مہنگائی اپنے ریکارڈ توڑ دے ۔چاہیے جو بھی ہوجائے کوئی پاکستان کی عدالت کی نہ نیند میں خلل ڈالے اور نہ اپوزیشن کے ستو چوری کرنے کی کوشش کرے۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Rozadar Adalat Column By Saif Awan, the column was published on 19 July 2021. Saif Awan has written 81 columns on Urdu Point. Read all columns written by Saif Awan on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.