Mitti Se Aik Mukalma

(مٹی سے ایک مکالمہ)

ماں کہتی ہے

"جب تم چھوٹے تھے تو ایسے اچھے تھے

سب آباد گھروں کی مائیں

پیشانی پر بوسہ دینے آتی تھیں

اور تمہارے جیسے بیٹوں کی خواہش سے

ان کی گودیں ' بھری رہا کرتی تھیں ہمیشہ

اور میں تمہارے ہونے کی راحت کے

نشے میں

کتنی عمریں چور رہی تھی...."

اک اک لفظ مرے سینے میں اٹکا ہے

سب کچھ یاد ہے... آج

کہ میں اک عمر نگل کر بیٹھا ہوں

عمر کی آخری سرحد کی بنجر مٹی

جب سے ماں کے ہونٹوں سے گرتے لفظوں میں

کانپتی ہے

میری سانس تڑپ اٹھتی ہے

اس کے مٹتے نقش مرے اندر

کہرام سی اک تصویر بنے ہیں

زندگیوں کے کھوکھلے پن پر

آنسووں لپٹی' ہنسی مرے ہونٹوں پہ لرزتی رہتی ہے

اچھی ماں.... !

عمر کے چلتے سائے کی تذلیل میں

تیرے لہو کے رس کی لذت

تیرے غرور کی ساری شکلیں

ان رستوں میں ' مٹی مٹی کر آیا ہوں

پتھریلی سڑکوں پہ اپنے ہی قدموں سے

خود کو روند کے گزرا ہوں

میرے لہو کے شور میں تیری

کوئی بھی پہچان نہیں ہے

تیری اجلی شبیہ ' کچھ ایسی دھند لائی ہے

تجھ سے وصل کی آنکھ سے

بینائی زائل ہے

میں تیرے دردوں کا مارا

تیری ہی صورت' میں بھی

اک جیون ہارا

ابراراحمد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(438) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Abrar Ahmad, Mitti Se Aik Mukalma in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 93 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.6 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Abrar Ahmad.