Drakht Sookh Gaye Ruk Gaye Nadi Nalay

درخت سوکھ گئے رک گئے ندی نالے

درخت سوکھ گئے رک گئے ندی نالے

یہ کس نگر کو روانہ ہوئے ہیں گھر والے

کہانیاں جو سناتے تھے عہد رفتہ کی

نشاں وہ گردش ایام نے مٹا ڈالے

میں شہر شہر پھرا ہوں اسی تمنا میں

کسی کو اپنا کہوں کوئی مجھ کو اپنا لے

صدا نہ دے کسی مہتاب کو اندھیروں میں

لگا نہ دے یہ زمانہ زبان پر تالے

کوئی کرن ہے یہاں تو کوئی کرن ہے وہاں

دل و نگاہ نے کس درجہ روگ ہیں پالے

ہمیں پہ ان کی نظر ہے ہمیں پہ ان کا کرم

یہ اور بات یہاں اور بھی ہیں دل والے

کچھ اور تجھ پہ کھلیں گی حقیقتیں جالبؔ

جو ہو سکے تو کسی کا فریب بھی کھا لے

حبیب جالب

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(4972) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Habib Jalib, Drakht Sookh Gaye Ruk Gaye Nadi Nalay in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad Urdu Poetry. Also there are 76 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.7 out of 5 stars. Read the Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Habib Jalib.