Gonj

گونج

کیسے میں ابتدا کروں کیسے ہو انتہا

ٹکرا رہے ہیں حرف سماعت سے بارہا

آواز ایک گونجتی ہے جگ سے ماورا

باری کا انتظار ہے باری کا انتظار

کیسی عجب زمین پہ میرا ظہور ہے

سچ ہو رہا ہے قتل جہاں پر قدم قدم

اسناد بانٹتے ہیں جہاں کچھ فتاوی گر

میرا قلم وہاں پہ چلے تیر کی طرح

لپٹے گا تیرے پاوں سے زنجیر کی طرح

سر پھٹ رہا صورتِ حالات دیکھ کر

اک تھرتھراتی لو میں چھپی رات دیکھ کر

کیا میرا نام آتا ہے بے حس وجود میں

کیا میں بھی جی رہا ہوں حدودو قیود میں

بے ربط سی سطور ہیں معلوم ہے مجھے

اذہان سے بھی دور ہیں معلوم ہے مجھے

بے سود اُس جگہ پہ ہے خوں کی سبیل بھی

دم توڑنے لگی ہو جہاں پر دلیل بھی

لیکن میں انتظار کروں اپنی موت کا

چیخ و پکار بھی نہ کروں ہاتھ باندھ لوں

میرے قلم میں اتنی روانی تو ہے عدو

تو کیسے جاں گنواۓ گا منظر تراش دوں

میں نے تو اپنا فرض نبھانا ہے بارہا

نقشہ ستم کا تازہ دکھانا ہے بارہا

اور تیرا کام تیر چلانا ہے بارہا

اور تیرا کام تیر چلانا ہے بارہا

ماجد جہانگیر

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(362) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Majid Jahangir, Gonj in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 54 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.4 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Majid Jahangir.