Woh Dour Nishat Dedaa O Dil Jaisay Bas Abhi Guzra Hi To Hai

وہ دور نشاط دیدہ و دل جیسے بس ابھی گزرا ہی تو ہے

وہ دور نشاط دیدہ و دل جیسے بس ابھی گزرا ہی تو ہے

سینے کی کسک کس طرح مٹے ہر داغ کہن تازہ ہی تو ہے

تو ساتھ کہاں لیکن اب تک ہر رہ گزر تنہائی پر

جو آگے آگے چلتا ہے اے دوست کوئی تجھ سا ہی تو ہے

اس طائر آوارہ کے لیے یوں جال نہ بن امیدوں کے

اڑتا ہوا لمحہ جیسے ابھی روکے سے ترے رکتا ہی تو ہے

معلوم نہیں کس وقت یہ کیا برتاؤ کسی سے کرتی ہے

دنیا سے کوئی امید نہ رکھ مایوس نہ ہو دنیا ہی تو ہے

کرنیں نئے دن کے سورج کی پھیلیں گی تو گم ہو جائے گا

تاریک ہے جس سے دل کا افق گزری شب کا سایا ہی تو ہے

لمحوں کے ہجوم گریزاں میں اک لمحہ جسے اپنا کہئے

جاں دے کے بھی ہاتھ آ جائے اگر مہنگا کب ہے سستا ہی تو ہے

مخمورؔ تعاقب کر دیکھو کچھ دور نہیں ہاتھ آ جائے

اک گم شدہ خوشبو کا جھونکا آنگن سے ابھی گزرا ہی تو ہے

مخمور سعیدی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(791) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Makhmoor Saeedi, Woh Dour Nishat Dedaa O Dil Jaisay Bas Abhi Guzra Hi To Hai in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 43 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 5 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Makhmoor Saeedi.