Zawal K Aaine Main Zinda Aks

زوال کے آئینے میں زندہ عکس

جھٹپٹے کے شہر میں

بیگانگی کی لہر میں

معدوم ہوتی روشنی کے درمیاں

زیست کے پاؤں تلے آئے ہوئے

لوگ ہیں یا چیونٹیاں

تن بدن کی رحل پر

مہمل کتابیں زرد چہروں کی کھلیں

منظروں کی کھوجتی بینائیاں معذور ہیں

یاد رکھنے کی تمنا

بھولنے کی آرزو

حافظے کی بند مٹھی میں ٹھہرتا کچھ نہیں

ہر قدم خواب و خیال وصل کی لذت لیے

ذات کے نیلے سمندر میں کہیں

(ان جزیروں کی ہوا میں سانس لیتے جو مقدر میں نہیں)

ڈھونڈتے ہیں کشتیوں کا راستہ

ہر صبح کے اخبار میں

خود کلامی کی سڑک پر دور تک

(لڑکھڑاتے زرد پتوں کی طرح)

کھولتے ہیں کشمکش کی گٹھریاں

کھلتی نہیں

بھیگتے ہیں تیز بارش میں ندامت کی مگر

روح کی آلودگی دھلتی نہیں

سعید احمد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(634) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Saeed Ahmad, Zawal K Aaine Main Zinda Aks in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 22 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.9 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Saeed Ahmad.