Kabhi Tum Jo Aao

کبھی تم جو آؤ

کبھی تم جو آؤ

تو میں صبح کے چھٹپٹے میں

تمہیں سب سے اونچی عمارت کی چھت سے دکھاؤں

درختوں کے اک سبز کمبل میں لپٹا ہوا شہر سارا

کلس اور محراب کے درمیاں اڑنے والے مقدس کبوتر

بہت دور چاندی کے اک تار ایسی ندی

اس سے آگے جری کوہساروں کا اک سرمئی سلسلہ

کبھی تم جو آؤ

تو میں ایک تپتی ہوئی دوپہر میں

تمہیں اپنے اس آہنی شہر میں لے چلوں

ایک لوہے کے جھولے میں تم کو بٹھاؤں

تمہیں سب سے اونچی عمارت کی چھت سے دکھاؤں

ملوں کے سیہ رنگ نتھنوں سے بہتا دھواں

تنگ گلیوں سے رستی ہوئی نالیاں

جو مساموں کی صورت

مکانوں کے جسموں سے گاڑے پسینے کو خارج کریں

کھانستی ہونکتی شاہراہیں

ہراساں ،غصیلی تھکی ٹیکسیاں

پرانے گرانڈیل پیڑوں کے کٹنے کا منظر

شکستہ عمارات کی ہڈیوں پر

مڑی چونچ والے سیہ فام بلڈوزروں کے جھپٹنے کا وحشی سماں

کبھی تم جو آؤ

تو میں تم کو پلکوں پر اپنی بٹھاؤں

تمہیں اپنے سینے کے اندر کا منظر دکھاؤں

وزیر آغا

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(572) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Wazir Agha, Kabhi Tum Jo Aao in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Sad Urdu Poetry. Also there are 101 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 5 out of 5 stars. Read the Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Wazir Agha.