Darya Dor Nahi Aur Pyasa Rah Sakta Ho

دریا دور نہیں اور پیاسا رہ سکتا ہوں

دریا دور نہیں اور پیاسا رہ سکتا ہوں

اس سے ملے بغیر بھی زندہ رہ سکتا ہوں

اس کی بے توفیق محبت کے جنگل میں

آدھا گم ہو کر بھی آدھا رہ سکتا ہوں

کیسا رہتا ہوں مت پوچھو شہر میں اس کے

ویسا ہی رہتا ہوں جیسا رہ سکتا ہوں

تنہا رہنے میں بھی کوئی عذر نہیں ہے

لیکن اس کے ساتھ ہی تنہا رہ سکتا ہوں

وہ بھی دامن چھوڑنے کو تیار نہیں ہے

میں بھی ابھی اس شاخ سے الجھا رہ سکتا ہوں

کچھ مجھ کو خود بھی اندازہ ہونا چاہیئے

کتنا ضائع ہو کر کتنا رہ سکتا ہوں

جس حالت سے نکل آیا ہوں کوشش کرکے

اس میں وہ چاہے تو دوبارہ رہ سکتا ہوں

ایک انوکھے خواب کے اندر سوتے جاگتے

رہتا ہوں میں اور ہمیشہ رہ سکتا ہوں

جتنے فاصلے پر رکھتا ہے ظفرؔ وہ مجھ کو

رہ بھی سکتا ہوں لیکن کیا رہ سکتا ہوں

ظفر اقبال

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(679) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Zafar Iqbal, Darya Dor Nahi Aur Pyasa Rah Sakta Ho in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 105 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.4 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Zafar Iqbal.