بلوچستان پھر”را“کے نشانے پر

ہزراہ کمیونٹی کو نشانہ بنا کر واقعہ فرقہ واریت کارنگ دینے کی سازش امریکی حمایت کیلئے مودی نے اسلحہ ساز کمپنیوں کیلئے خزانے کا منہ کھو ل دیا

جمعہ اپریل

Balochistan phir raw ke nishanay par
 اسرار بخاری
بھارت میں مرحلہ وارانتخابات کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جمہوریت کے دعویدار ملک میں انتخابات کسی سیاسی،سماجی یا اقتصادی پروگرام نہیں بلکہ ہندو عصبیت وتعصب اور بالخصوص مسلمانوں سے نفرت کی بنیاد پر لڑے جارہے ہیں ۔اس سلسلے میں ہندوانتہا پسند گروہ ایس ایس آر یا راشٹریا سیوک سنگھ کا سیاسی ونگ بھارتیہ جنتا پارٹی پیش پیش ہے ۔

بھارتی صوبہ گجرات کے وزیراعلیٰ کے طور پر نریندر مودی نے گجرات کے بڑے شہر احمد آباد میں ہزاروں مسلمانوں کو زندہ جلانے اور ان کی کروڑوں کی املاک نذرآتش کرنے کے ناپاک ومذموم ترین اقدامات سے خود کو بھارتیہ جنتا پارٹی کا امید وار برائے وزیراعظم کااہل ثابت کیا تھا۔وزیراعظم بننے کے بعد مودی نے خود کو آئین کی حد تک سیکولر بھارت کی بجائے ہندوتواکے زیراثرہندوریاست کے وزیراعظم کی حیثیت سے روشناس کرایا۔

(جاری ہے)


بھارت میں بسنے والے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کرکے آر ایس ایس کے سیاسی ومذہبی فلسفے کو پروان چڑھایا عملاً تو بھارت ایک لمحے کے لئے بھی سیکولر ملک نہیں رہا لیکن بعض نام نہاد اقدامات کے ذریعے بھارت کے ہندوچہرے پر سیکولرازم کا نقاب ڈالے رکھا گیا۔موجودہ انتخابات میں جہاں ہندوعصبیت بہت بڑا ہتھیارہے وہاں بھارت کے ریاستی اداروں نے بھی نریندرمودی کی کامیابی کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔


بھارت کا الیکشن کمیشن جسکے انتہائی خود مختار ہونے کا مسلسل پروپیگنڈہ کیا جاتا رہا ہے اس سے جرائم پیشہ افراد سنگین مقدمات میں ملوث ہونے کے باوجود الیکشن میں حصہ لینے کا اہل قرار دیا ہے اس طرح بی جے پی کو ایسے امید وار مل گئے جو غنڈہ گردی سے الیکشن جیت کر دکھائیں گے ۔اسی طرح عدلیہ بھی آر ایس ایس کا ونگ بن چکی ہے اور فوج توراشٹریہ یاسیوک سنگھ کے عسکری ونگ کی حیثیت اختیار کر چکی ہے ۔

امریکہ اور روس اس کے لئے اسلحہ کی بڑی منڈی بن گئی ہے ۔
مودی جیسا حکمران ہی ان کامن پسند ہو سکتا ہے جو بھارتی عوام کے پیسے سے ان کی زندگیوں میں آسودگی کی روشنی جلانے کی بجائے دھڑ ادھڑاسلحہ خرید کر تباہی وبربادی کو دعوت دے رہا ہے اور اپنا زیادہ اسلحہ فروخت کرنے کے لئے مودی کو اس گمان میں مبتلا کیا جارہا ہے کہ وہ ایک ہی وقت میں چین اور پاکستان کا مقابلہ کر سکتا ہے بلکہ انہیں ہزیمت بھی پہنچا سکتا ہے اس لئے اگر امریکہ یہ چاہتا ہے کہ آئندہ مودی ہی اقتدار میں آئے تو تعجب خیز نہیں مسلمان تو ویسے ہی مسلسل نشانہ ہیں موجودہ انتخابات میں ان کی بہت بڑی اکثریت کو حق رائے دہی سے محروم کر دیا گیا ہے ۔


ان کے نام ووٹرلسٹوں سے نکال دےئے گئے ہیں۔ سنٹر فارریسرچ اینڈ ڈبیٹس ڈویلپمنٹ پالیسی کے چےئرمین ابوصالح شریف کے مطابق (جس کی توثیق سابق چیف الیکشن کمشنر وائی ایس قریشی نے ان الفاظ میں تصدیق کی ”یہ سچ ہے موجودہ ووٹرزلسٹوں میں 9کروڑووٹرز کے نام نہیں ہیں جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے جبکہ 2کروڑ 10لاکھ خواتین ووٹرزکے نام بھی نکالے گئے جن میں اکثریت مسلمانوں اور دلتو کی ہے )جن علاقوں میں ووٹر لسٹوں سے نام نکالے گئے ان میں راجستھان ،تلنگانہ ،اُتر پردیش اور کرنا ٹک بھی شامل ہیں ۔

اس طرح مسلمانوں کی اکثریت کو انتخابی عمل سے دوررکھ کر ہندو ووٹوں کی اکثریت سے جیتنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
مودی کو جس طرح پاکستان کے خلاف سرجیکل سٹرائیک میں ناکامی کی صورت منہ کی کھانی پڑی اس سے توجہ ہٹانے کے لئے ایک طرف کشمیر میں ظالمانہ کارروائیوں کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے دوسری جانب اس عالمی سطح پر ہونے والی رسوائی کا بدلہ لینے کے لئے بلوچستان ایک بار پھر دہشت گردی کا سلسلہ شروع کرنے کی سازش کی گئی ہے ۔

صورتحال میں زیادہ خرابی کے لئے ان کارروائیوں کو فرقہ واریت کا رنگ دینے کی کوشش بھی کی جارہی ہے ۔کوئٹہ سبزی منڈی میں ہونے والا دھماکہ جس کے نتیجے میں بیس افراد جاں بحق اور 48زخمی ہوگئے اسی سازشی سلسلے کی کڑی ہے ۔
کوئٹہ میں ہزارہ برادری کیونکہ ٹارگٹ رہی ہے اس لئے ان کی حفاظت کے لئے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں ان کے علاقے علمدار ٹاؤن اور ہزارہ ٹاؤن میں کڑی نگرانی کا انتظام کیا گیا ہے ان علاقوں سے لوگوں کو پولیس اور ایف سی کے پہرے میں سبزی منڈی لایا جاتا ہے ۔

وقوعہ کے روز ہزارہ برادری کے 55افراد پولیس اور ایف سی کی حفاظت میں گیارہ گاڑیوں میں سبزی منڈی آئے ان لوگوں کے سبزی منڈی کے اندر چلے جانے کے بعد پولیس اور ایف سی ہلکاروں نے منڈی کے مرکزی دروازے پر پوزیشن سنبھال لیں ۔
دہشت گردوں نے یقینا ریکی کرکے اس معمول کو مد نظر رکھ کرمنصوبہ بندی کی اور آلو کی بوری میں بم رکھ کر منڈی کے اندر پہنچا دیا اور جب ہزارہ کمیونٹی سمیت دیگر لوگ اس کے نزدیک آئے تو ریمورٹ کنٹرول کے ذریعے دھماکہ کر دیا گے اس میں بھی کوئی شک نہیں یہ بھارتی دہشت گرد کلبھوشن یادیو کے قائم کردہ نیٹ ورک کے بچے کھچے ایجنٹ تھے ۔

افغانستان اور ایران اب جن کے محفوظ ٹھکانے ہیں ان دونوں ملکوں کی سرحدیں بلوچستان سے ملتی ہیں ۔
افغانستان میں امریکی ملی بھگت سے بھارت نے کئی مقامات پر اپنی ایجنسی ”را“کے مراکزقائم کردئیے ہیں جہاں پاکستان دہشت گردی کیلئے تربیت بھی دی جاتی ہے اور جوان کے چھپنے کے محفوظ ٹھکانے بھی ہیں جبکہ ایرانی بندرگاہ چاہ بہار کا کنٹرول کیونکہ بھارت کو دے دیا گیا ہے اس لئے وہاں بھارتی جاسوسوں بالخصوص ”را“کے اہلکاروں کیلئے ایسا ہی محفوظ ٹھکانہ بن گیا ہے۔

بلوچستان ملحقہ علاقہ ہے اور اتفاق سے سی پیک کا مرکز بھی یہی ہے اس لئے یہ ”را“کا خصوصی ٹارگیٹ ہے اس لئے بلاخوف تردیدیہ کہا جا سکتا ہے کہ بلوچستان میں جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے مودی ہے۔ بھارت نے حربیار مری اور براہمداغ بگٹی جیسے ننگ وطن لوگوں کو عیاشیوں کے جال میں پھنسا کر قابو کر رکھا ہے ان کے ذریعہ بلوچستان میں کچھ لوگوں کو ورغلا کر گمراہ کرکے دہشت گردی پر آمادہ کیا جا سکتا ہے ۔

ڈاکٹر جمعہ خان نے اس کا سارا پول اپنی کتاب میں تفصیل سے کھول دیا ہے ۔
یہ غور طلب ہے حکومت پاکستان نے اقوام متحدہ امریکہ اور دیگر یورپی ممالک کو ڈوزئیر کے ذریعہ بھارتی سازشوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا ۔جنرل اسمبلی میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور موجودہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کلبھوشن کے ذریعے بلوچستان میں دہشت گردی نیٹ ورک بنانے اور اس کے ذریعہ دہشت گردی کروانے کی تفصیل بیان کی مگر اقوام متحدہ اور امریکہ سمیت کسی نے بھارت کی گرفت نہیں کی کیونکہ مودی نے امریکی اسلحہ سازکمپنیوں کیلئے بھارتی خزانے کے منہ کھول رکھے ہیں اور پھر مودی تو ویسے بھی کھل کریہ بڑ مارچکا ہے کہ بلوچستان،آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں سابق مشرقی پاکستان جیسے حالات پیدا کر کے پاکستان کو منتشر کر دیا جائے گا۔


آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں تو”را“کی زیادہ دال نہیں گلی لیکن بلوچستان سے اسے کچھ عناصر ایسے ضرور مل گئے جو اس کے پاکستان دشمن منصوبوں میں رنگ بھر رہے ہیں ۔اگر چہ ان کی تعد ادانگلیوں پر گنی جا سکتی ہے مگر ان کے نام پر لندن ،واشنگٹن ،جرمنی اور سوئٹز رلینڈ میں”آزاد بلوچستان “کے حق میں مظاہرے کروا کر دنیا کو دھوکا دینے کی کوششیں جاری ہیں ان مظاہروں میں تین چار بلوچوں کو سامنے رکھا جاتا ہے باقی مظاہرین ان ممالک میں مقیم بھارتی ہندوہوتے ہیں یہ ڈرامہ بازی وقفہ وقفہ سے جاری ہے ۔

مظاہرے میں شریک کوئی بھارتی ہندوشناخت کر لیا جائے تو بہانہ گھڑا جاتا ہے ”ہم تو ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے آئے ہیں ۔“حالانکہ وہ خود کو بلوچ ظاہر کر رہے ہوتے ہیں۔
دریں اثنا بھارتی وزیر اعظم مودی اور بی جے پی کے رہنما اور کارکن مسلمان دشمنی میں اس حد تک چلے گئے ہیں کہ بھارتی معاشرہ ہندو اور مسلمان شناخت میں تقسیم ہو گیا ہے ۔

بھارت کے وہ مسلمان جودل وجان سے بھارت کو اپنا وطن سمجھتے ہیں اور ہندوؤں سے بڑھ کر پاکستان کے خلاف جذبات رکھتے ہیں آج وہ بھی خود کو بھارت میں غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں اس لئے اگر بھارت میں آنے والے انتخابات کے موقع پر ہندوانتہا پسندی مسلمانوں سے نفرت کے خلاف ایک اپوزیشن اتحاد کے امکانات پیدا ہوں تو یہ اچھنبے کی بات نہیں ہے لیکن ابھی اس اتحاد کی کوئی عملی صورت سامنے نہیں آئی تھی جو مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر لاکر مودی یابی جے پی کے لئے بڑا چیلنج بن سکتا تھا۔


متحدہ عرب امارات کی جانب سے مودی کے لئے ملک کے سب سے بڑے اعزاز کے اعلان نے وقت سے پہلے اسے بے اثر کر دیا ہے اس اتحاد کو ناکام بنانے کے لئے مودی اور بی جے پی کے حامیوں کے لئے یہ کہنا ہی کافی ہو گا کہ اگر مودی مسلمان دشمن ہوتا تو ایک اہم مسلمان ملک اسے اپنے سب سے بڑے اعزاز سے کیوں نوازتا یہ ایسی دلیل ہے جس کا مودی کے مخالفین یا بھارتی مسلمانوں کے پاس کوئی توڑ نہیں ہے اس طرح دیکھا جائے تو متحدہ عرب امارات نے عین الیکشن کے موقع پر مودی کے مسلمان دشمن کردار پر بہت بڑا پردہ ڈال دیا ہے۔


سوال پیدا ہوتا ہے متحدہ عرب امارات نے ایسا کیوں کیا اس حوالے سے چند امکانات کا جائزہ لیا جاسکتا ہے کیا پاکستان نے یمن کے خلاف فوج بھیجنے سے انکار کیا اس پر متحدہ عرب امارات سودی عرب کا اتحادی ہونے کی وجہ سے ناراض ہو گیا ہے حالانکہ پاکستان کی عسکری قیادت نے سعودی عرب کے تحفظات دور کر دےئے تھے ۔متحدہ عرب امارات نے اسلامی کانفرنس تنظیم کے وزراء خارجہ کا اجلاس بلایا اس میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کو مدعو کرنے پر پاکستان نے بائیکاٹ کیا۔


کیا متحدہ عرب امارات اس سے ناراض ہو گیا ہے مگر یہ یقینی امکانات نہیں ہیں جو بات زیادہ قرین قیاس
 لگتی ہے وہ یہ کہ امریکہ کو یقین ہو گیا ہے کہ چین اور پاکستان کے خلاف اس کے عزائم کی تکمیل کے لئے مودی بہترین ذریعہ ہے اور متحدہ عرب امارات نے امریکی اشارے پر یہ قدم اٹھایا ہو ۔بہر حال وجہ کچھ بھی رہی ہو اس سے مودی کو الیکشن میں فائدہ پہنچنے کے امکانات کو مستر د نہیں کیا جا سکتا۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Balochistan phir raw ke nishanay par is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 19 April 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.