مودی نے بھارتی فوج کو داؤپر لگا دیا!

فوجیوں کی نعشوں پر الیکشن جیتنے کا منصوبہ بے نقاب منفی رنگ دے کرابھی نندن سے پاکستان مخالف بیان دلوایا جا سکتاہے

جمعرات مارچ

moodi ne Bharti fouj ko dao par laga diya
اسراربخاری
صوفی شاعر میاں محمد بخش کے اس شعر میں کم ظرف اور پست ذہنیت کے انسانوں کے فطری رویہ کو بے نقاب کیا گیا ہے اور ایسے لوگوں سے خبر دار رہنے کہ تنبیہہ بھی ہے کہ کمینے انسان سے جتنی بھی بھلائی کی جائے جواب میں وہ برائی ہی کرے گا۔بھارت کے حکمران اور انتہا پسند ہندو پاکستان کے کمینے دشمن ہیں ،(بھارت میں یقینا اعتدال پسند ہندو بھی ہیں لیکن ان پر انتہا پسند غالب ہیں)یہ ایک ٹریک ریکارڈ ہے پاکستان کے ہر حکمران نے بھارت سے بہتر تعلقات کی کوشش کی مگر اس کوشش کا کبھی مثبت جواب نہیں ملا لیکن صد افسوس پاکستان کے حکمرانوں نے اس سے کچھ سبق نہیں سیکھا اور اس سوراخ سے بار بارڈ سے جارہے ہیں ۔

گرفتار بھارتی پائلٹ کوجس عجلت میں واپس بھجوایا گیا۔
”کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑ ابارہ آ نے“،والا معاملہ ہوا ہے ۔

(جاری ہے)

وزیر اعظم عمران خان کو چاہیے تھا،پائلٹ نندن کو کچھ دن اور حراست میں رکھتے تاکہ بھارت کے اندر مودی پر دباؤ کی شدت میں اضافہ ہوتا اور اس واقعہ سے جو ہمیں فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تھی اس کا منہ توڑ جواب ملتا۔اس کے بدلے بھارت میں دھوکے سے گرفتار کئے گئے کرنل ایوب کو رہا کر دیا جاتا۔


نندن کو جس طرح واپس بھجوایا گیا اس سے بی جے پی اور بھارتی میڈیا کو یہ پروپیگنڈا کرنے کا موقع مل گیا کہ پاکستان نے مودی کے شدید دباؤ سے پریشان ہو کر اسے رہا کیا ہے ۔یہ وہ تحفظات ،اعتراضات اور شکایات ہیں جو عوامی سطح پر کئے جارہے ہیں تاہم یہ واحد نقطہ نظر پیش ہے وزیر اعظم عمران خان کے اس اقدام کو ملک کے اندر اور باہر سرہانے والے بھی کچھ کم نہیں ہیں ۔

ملک کے اندر مختلف طبقوں کی جانب سے اس پر حمایت اور مخالفت کا سلسلہ ایک عرصہ جاری رہے گا۔
پلوامہ واقعہ کے بعد بھارت کے وزیر اعظم مودی نے اس کا پاکستان پر الزام لگا کرآنے والے الیکشن کے لیے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی پاکستان کی جانب سے نتیجہ خیز زدانشمندانہ جوابی کارروائی جس میں پاکستان کی مسلح افواج کا بہت بنیادی کردار ہے یہ کوشش نہ صرف ناکام ہوئی بلکہ مودی کو زبردست سیاسی نقصان سے دو چار کر گئی ،ادھر ایک اور دلچسپ حقیقت یہ سامنے آئی پوری پاکستانی قوم متحد ہو گی ۔

سات دہائیوں پر مشتمل پاکستان کی تاریخ کا یہ روشن ترین باب ہے کہ ملکی سلامتی کو جب بھی چیلنج در پیش ہوا پاکستانی قوم میں من وتوُ کا امتیاز مٹ گیا۔65ء کی جنگ کے موقع پر پوری اپوزیشن نے صدر جنرل ایوب خان کو بھر پور حمایت کا یقین دلا کر بھارت کو یکجا ویکمشت ہونے کا پیغام دیا۔
71ء کی جنگ کے بعد اندر اگاندھی سے مذاکرات کے لیے شملہ جاتے وقت مفتی محمود،ولی خان ،نوابزادہ نصر اللہ خان ،ممتاز دولتانہ ،میاں طفیل محمد سمیت تمام اپوزیشن لیڈروں نے ذوالفقار علی بھٹو کو لاہور ائیرپورٹ پر رخصت کرکے قومی یکجہتی واتحاد کا پیغام دیا آج جب بھارت کے طیاروں نے جار حانہ انداز سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرکے پاکستان کی سلامتی کو چیلنج کیا ہے تو قومی اسمبلی میں
( ن)لیگ کے مرکزی رہنماء خواجہ آصف اور پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماء خورشید شاہ نے اپنی اپنی پارٹیوں کی جانب سے حکومت کو مکمل تعاون اور مسلح افواج کو بھر پور پشت پنا ہی کا یقین دلا کر دشمن پر واضح کر دیا ہے کہ باہمی سیاسی اختلافات اپنی جگہ ،پاکستان کی سلامتی کے لیے پوری قوم سیسہ پلائی دیوار ہے ان مظاہرکو دیکھا جائے تو کیسی اجلی تصویر بنتی ہے بھارتی جارحیت پاکستانیوں کو امن واحد میں قوم واحد میں تبدیل کر دیتی ۔


کوئی پنجابی ،سندھی ،پشتون ،بلوچی ،کشمیری ،بلتستانی نہیں رہتااس حوالے سے شکریہ انڈیا ،جنگی فیون میں مبتلا تیرے حکمران ،تعصب ،تنگ نظری کا شکار ،تیرے انتہا پسند لوگ اور نہتے کشمیریوں پر ظلم ڈھاتی تیری بزدل فوج پاکستانیوں کو ایک قوم کا زندہ مظاہرہ کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں ۔شکریہ انڈیا،تیرے جارحانہ عزائم ،پاکستانیوں کو یاد دلاتے رہتے ہیں ۔

جہاد مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے ،شہادتیں قوم کی فنا نہیں ،قوم کی حیات ہے ۔پاک فوج میں قوم کی بیٹیوں کی جرأت مندانہ شمولیت کے بعد تواب پاک فوج میں قوم کی بیٹیوں کی جرأت مندانہ شمولیت کے بعد تواب پاکستانیوں کے نزدیک”جنگ بھی زنانیوں کی کھیڈ“ہو گئی ہے ۔
ابھی نندن دوسرا پائلٹ ہے جسے پاکستان کی جانب سے بھارت کو واپس کیا گیا ہے ۔اس سے قبل کارگل کی جنگ کے دوران بھی ایک بھارتی پائلٹ ناجی گیتا پکڑا گیا تھا۔

بھارتی ونگ کمانڈر ابھی نند ن کو بھارت کے حوالے کرنے کے موقع پر بھارتی حکومت نے واہگہ بارڈر پر ترنگا اُتار نے کی تقریب منسوخ کر دی اور کسی شخص کو یہاں آنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ابھی نندن کو ساڑھے تین بجے واہگہ بارڈر لایا گیا سکیورٹی کا سخت حصار قائم کیا گیا تھا ہزاروں کی تعداد میں سرحدی دیہات کے لوگ سڑک کی دونوں جانب دیر سے کھڑے پاکستان اور افواج پاکستان کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعرے لگاتے رہے ۔


اس قافلہ کو پاک بحریہ کی گاڑی اسکاٹ کررہی تھی اس کے پیچھے سیاہ رنگ کی گاڑی میں بھارتی پائلٹ تھا اس کے پیچھے موبائل فون جام کرنے والی گاڑی تھی اور اس کے پیچھے سکیورٹی کی گاڑیاں تھیں ۔اسے بھارت کے حوالے کرنے میں جوتا خیر ہوئی اس کی وجہ خود بھارتی حکام کا رویہ تھا جو بار بار اعتراضات اٹھا کر کاغذات کے حوالے سے تاخیر کرتے رہے ۔ابھی نندن کو ساڑھے آٹھ بجے بارڈر کے قریب لایا گیا اسلام آباد میں بھارت کے ہائی کمیشن کے چار آفیسرز بھی اس موقع پر موجود رہے ۔


9بجے اسے بھارتی حکام کے حوالے کر دیا گیا۔واضح رہے بھارت کے برعکس واہگہ بارڈر پرپاکستانی
پر چم اُتارنے کی تقریب روایتی جوش وخروش کے ساتھ جاری رہی اور مقررہ وقت پر ختم ہو گئی جبکہ بھارت کی جانب سے خاموشی چھائی رہی ۔بھارتی فوج کے میجر جنرل راج مہتا کے مطابق ابھی نندن کو دوبارہ تفتیشی مراکز سے گزرنا پڑے گا جبکہ انٹر نیشنل ریڈ کر اس سوسائٹی اسے لندن لے جائے گی جہاں یہ جاننے کے لئے طبی معائنہ ہو گا کہ اسے کوئی جسمانی نقصان تو نہیں پہنچا یاگیا،
کسی قسم کی ڈر گس تو نہیں دی گئیں ،کوئی ذہنی اذیت تو نہیں دی گئی۔

جنیو اکنونشن کے تحت ایسا طبی معائنہ یا تحقیق ضروری۔میجر جنرل راج مہتا کے مطابق نندن کا بھارت سے طبی معائنہ ہو گا،انٹیلی جنس ڈی بریفنگ ہوگی کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا ،کیا پوچھا گیا،پھر حکومت کو رپورٹ پیش کی جائے اور وہ اگر مطمئن نہ ہوئی تو معاملہ عالمی سطح پر اٹھایا جائے گا۔یقینا جب کوئی فوجی دشمن کے قبضہ میں چلا جائے اور واپس کر دیا جائے تو فوجی طریقہ کار کے مطابق یہ معمول کی کارروائی ہے لیکن اس سارے عمل کے بعد صحیح رپورٹ دی جائے اور پاکستان میں نندن کے ساتھ بہتر سلوک کا صحیح طور پر اعتراف کر لیا جائے تو یہ یقیناباعث حیرت ہو گا کیونکہ یہ بھارتی حکام کی جانب سے انہونی ہو گی کیونکہ بھارتی میڈیا نندن کو 24گھنٹے میں واپس کرنے کو خیر سگالی کے قدم کی بجائے اسے پاکستان پر مودی کے دباؤ کا نتیجہ قرار دینے کا پروپیگنڈہ کررہا ہے ۔


اس پر بھی حیرت نہ ہونی چاہئے اگر پاکستان کے سلوک کے حوالے سے نندن کے بیان کو منفی رنگ دلوانے کے لئے اس سے دوسرا زہر میں بجھا بیان دلوادیا جائے یا خود ہی اس کی طرف سے جاری کر دیا جائے۔پاکستان کی جانب سے اس خیر سگالی کارتی بھر اثر نہیں ہوا بلکہ بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن پر خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔مسلسل فائرنگ اور گولہ باری سے کنٹرول لائن کے نزدیک سول آبادی شدید متاثر ہورہی ہے ۔


اس وقت پاکستان کی جوابی کارروائی کے بھارتی حکومت کی جو سبکی ہے اس نے اس سارے سازشی منصوبے پر پانی پھیردیا ہے جو مودی نے الیکشن جیتنے کیلئے بھارتی فوجیوں کی زندگیاں داؤ پر لگا کر تباہ
 کیا تھا یہ سازشی منصوبہ بھارتی عوام کی اکثر یت پربے نقاب ہو گیا ہے ۔اس صورتحال میں اب مودی کے پاس واحد آپشن یہ ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف بڑی جنگ کرنے یا حقیقی سر جیکل سٹرائیک کرے تب ہی وہ بھارتی عوام کی نظروں میں کھویا وقار دو بارہ حاصل کر سکتا ہے مگر یہ دونوں کا م اب مودی کے بس میں نہیں ہیں اسے اور بھارت کی فوج کو بھی پاکستان کی دفاعی صلاحیت کا ادراک ہو گیا ہے اس لئے ایسی کارروائی کی بجائے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کیلئے کلبھوشن جیسے دہشت گردی کے نیٹ ورک پھیلانے کی کوشش ضرور کی جا سکتی ہے ۔

تاہم کلبھوشن کے انجام کے بعد اس پر بھی کئی بار سوچا ضرور جائے گا۔

Your Thoughts and Comments

moodi ne Bharti fouj ko dao par laga diya is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 14 March 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.