Akhri Barish

آخری بارش

ایک محبت کے باطن میں

کتنے جذبے ہمک رہے ہیں

ایک چمکتے مکھ میں

کتنے چاند ستارے دمک رہے ہیں

جاگنے کی ساعت کے اندر

کتنی صدیاں سوئی ہوئی ہیں

دلوں میں اور دروازوں میں

کہیں ابھی موجود ہیں شاید

رستہ تکتی

جھکی ہوئی بیلیں اور بارش

جہاں سے کوئی مہک پرانی

میری مٹی اڑا رہی ہے

تیرے کپڑے پکڑ رہی ہے

جتنے اشک تھے لہو کے اندر

اتنے پھول کھلا آیا ہوں

جن ہونٹوں پر چہکا ، ان پر

چپ کی مہر لگا آیا ہوں

جتنے خواب بھرے تھے میری نیندوں میں

اتنی تعبیروں کے پیچھے بھاگ چکا

ایک نوع کے آنسو ، آنکھ سے گر جاتے ہیں

اور طرح کے بھر جاتے ہیں

رستوں کے اندر رستے ہیں

سفر کے اندر سفر چھپے ہیں

بادلوں کے اندر بادل ہیں

چھینٹوں کے اندر چھینٹے ہیں

بارش تو گرتی ہی رہے گی

دنیا تو بستی ہی رہے گی

جو بھی چلتا ہے بارش میں

جو بھی گھومتا ہے بستی میں

کھو جاتا ہے

کھو جائے گا

عمر کی بھی سرحد ہوتی ہے

رقص کی بھی اک حد ہوتی ہے

چلیے... اب میں بھی تیار ہوں

تھم جانے کو

کسی مہکتی مٹی میں

گھل مل جانے کو ....!

ابراراحمد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(507) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Abrar Ahmad, Akhri Barish in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 93 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.8 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Abrar Ahmad.