Omr Bhar Aik Si Oljhan Tu NahiN Ban Saktay

عمر بھر ایک سی الجھن تو نہیں بن سکتے

عمر بھر ایک سی الجھن تو نہیں بن سکتے

دوست بن جائیں کہ دشمن تو نہیں بن سکتے

ہم کو معلوم ہے تم کیا نہیں بن پاتے ہو

دھوپ بن جاتے ہو ساون تو نہیں بن سکتے

میں نے دیکھا ہے وہ انسان تمہارے اندر

رام بن جاؤ گے راون تو نہیں بن سکتے

نقد سانسوں کے لئے دل سے محبت کرنا

ہم کبھی قرض کی دھڑکن تو نہیں بن سکتے

ہر شکن آج ہے بستر کی تمہاری خاطر

تم مرے چین کے دشمن تو نہیں بن سکتے

روز اک جیسی اداکاری نہ ہوگی ہم سے

تم بھی اک رات کی دلہن تو نہیں بن سکتے

ایک جیسی تو نہیں ہوتی ہے ساری دنیا

سب ترے روپ کا درپن تو نہیں بن سکتے

میں ہی بن جاؤں گا کچھ دیر کو ان کے جیسا

میرے بچے مرا بچپن تو نہیں بن سکتے

حق طلب کرتے ہیں بخشش تو نہیں مانگتے ہیں

ہم تری بھیک کا برتن تو نہیں بن سکتے

ف س اعجاز

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(594) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ شاعری

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Fay Seen Ejaz, Omr Bhar Aik Si Oljhan Tu NahiN Ban Saktay in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social Urdu Poetry. Also there are 24 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.1 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Fay Seen Ejaz.