Koi Ankh Chupkay Chupkay Mujhay YuN Neharti Hae

کوئی آنکھ چپکے چپکے مجھے یوں نہارتی ہے

کوئی آنکھ چپکے چپکے مجھے یوں نہارتی ہے

مرے دل میں اک تمنا کہیں سر ابھارتی ہے

مری سوچ کا طریقہ مری آنکھ کا سلیقہ

یہی شے ہے تیرے اندر جو تجھے سنوارتی ہے

نئے شوق کی چمک ہے کسی میہماں نظر میں

مری روح میں اتر کر مرے سر ابھارتی ہے

مجھے کچھ دنوں سے اس سے بڑا پیار مل رہا ہے

کبھی اپنے دل کو وارے کبھی جان ہارتی ہے

کبھی جوڑا کھول دینا کبھی پھر سے باندھ لینا

مجھے شک سا ہو چلا ہے وہ مجھے ابھارتی ہے

کوئی گونج بن کے اب تک وہ ہے جسم و جاں سے لپٹی

کہ ٹھہر ٹھہر کے اب بھی وہ مجھے پکارتی ہے

گھنے ہو گئے زیادہ جہاں چاندنی کے سائے

اسی دامن شجر میں وہ مجھے پکارتی ہے

نیا حسن دیکھتا ہوں خم شاخ ہر شجر پر

یہ بہار اپنے تن سے جو لباس اتارتی ہے

کئی سال کی محبت مگر آج بھی وہی ہے

کہ میں اک شریر بچہ وہ مجھے سدھارتی ہے

بڑی دیر سے ہوں لوٹا مجھے یہ بتاؤ لوگو

مری آرزو کا دامن وہ کہاں پسارتی ہے

جو مرا ہے حادثے میں مرا اس سے کیا تھا رشتہ

یہ سڑک جو خوں میں تر ہے مجھے کیوں پکارتی ہے

ف س اعجاز

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(574) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ شاعری

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Fay Seen Ejaz, Koi Ankh Chupkay Chupkay Mujhay YuN Neharti Hae in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 24 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.4 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Fay Seen Ejaz.