Yeh Khawahishaan Ki Rangeeni Hai Faqt Hawas E Nigah

یہ خواہشات کی رنگینی ہے فقط ہوس نگاہ

یہ خواہشات کی رنگینی ہے فقط ہوس نگاہ

قلب و روح کو ملتا نہیں اس سے کوئی مزہ

بظاہر تو بڑا خوش تر نظر آتا ہے امر گناہ

آخر ملتی ہے اک ہی شے، سکون روح یا عزت و جاہ

آئی موت نفس کو روح کو ملی ہے جاودانی

اتباع نفس فطرت انسانی،مگر حقیقت وہی فیصلہ قرآنی

جب سے چھیڑی تم نے تمیز ذات تمہاری ذات ہی نہ رہی

نگاہٴ انسان میں ،انسانیت کی اوقات ہی نہ رہی

محفل دنیا میں اب وہ پہلے سی بات ہی نہ رہی

جو ارادہ کیا میں نے توبہ کا اس وقت رات ہی نہ رہی

قلعہٴ ا یماں اگر پختہ ہو تو مل جاتی فتح بے تیر و تلوار

یہ کرشمہٴ حق ہی تو تھا کہ موڑ دیے گھوڑوں نے رُخ شہسوار

جو اٹھی نگاہٴ مومن تو اٹھے پردے آسمانوں کے

جو کھلی چشم حکمت کھلے راز ان امتحانوں کے

چونکا گئے مجھے بھی کارنامے اس امت کے جوانوں کے

آہ وہ کیا ہی مرد حُر ہوا کرتے تھے گزرے زمانوں کے

اے ناداں تُو روبروئے ظالم دست منت نہ جوڑ

آریٴ ایماں لا کہیں سے یہ زنجیر فریا د ستم سے نہ توڑ

غرق ہوا جس کا نفس یاد الٰہی میں

حیات بری کی قوت بھی ہے پوشیدہ اس ماہی میں

لذت فتح چھپی ہوتی ہے اس تباہی میں

کچھ یقین تو پیدا ہونے دے اپنے ضمیر کی گواہی میں

تُو مشتاق فلاح ہے اگر تو خزانہٴ جمیعت لوٹ لے

چاہتا ہے تابندگی و جاویدی تو تہہ دل میں سم موت کوٹ لے

جو ڈبو گیا مجھے بھی عشق محمد

نگل گیا میں بھی اس بحر سے گوہر عشق محمد

اب مری آنکھوں میں دیکھ جلوہٴ عشق محمد

کتنے ہی موتی پیدا کر گیا وہ اک گوہر عشق محمد

نہ آنکھو ں سے نہ باتوں سے ثابت ہو گا عشق محمد

زبیر# فقط ترے قلب و عمل سے ثابت ہو گا عشق محمد!

سردار زبیر احمد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(750) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Sardar Zubair Ahmed, Yeh Khawahishaan Ki Rangeeni Hai Faqt Hawas E Nigah in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social, Islamic Urdu Poetry. Also there are 33 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.6 out of 5 stars. Read the Social, Islamic poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Sardar Zubair Ahmed.