افغان طالبان کو راضی کرو․․․․․کشمیر میں ثالثی کریں گے!!

وزیراعظم عمران خان کا دورہ امریکہ پاکستان کی مدد سے امریکہ افغانستان میں انخلا کے بعد بھی فوجی اڈے قائم رکھنا چاہتاہے

جمعرات جولائی

Afghan Taliban ko Razi karoo... Kashmir main saalsi kareen ge!!
 محمد انیس الرحمن
وزیر اعظم پاکستان عمران خان جس وقت وائٹ ہاؤس پہنچے تو امریکی صدرٹرمپ کی جانب سے ان کا گرمجوشی سے استقبال کیا گیا ۔وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ امریکہ میں خطے خوشحالی اورامن کا بیانیہ لیکر آئے ہیں اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے امریکی صدر کو”نئے پاکستان“کا ویژن بھی واضح کیا۔صدر ٹرمپ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وہ اس ملاقات کو انتہائی خوشگوار دیکھ رہے ہیں اور اس ملاقات کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان مزید بہتری آئے گی۔

صدر ٹرمپ کے اس بیان سے محسوس کیا جا سکتا ہے امریکہ کو خطے میں پاکستانی اہمیت کا انداز ہے خصوصاً افغانستان کے معاملے میں پاکستانی کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ملکوں کے اپنے اپنے مفادات ہوتے ہیں کیونکہ خطے کی سیکورٹی کے ساتھ ساتھ پاکستان کو معاشی مسائل کا بھی سامنا ہے اس لئے پاکستان کی ترجیحات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

(جاری ہے)

دوسری جانب افغانستان میں امریکہ کو مشکلات کا سامنا ہے ،بظاہر وہ وہاں سے اپنی فوجیں پرامن طریقے سے نکالنا چاہتا ہے امریکہ کی نظر میں پاکستان کی مدد کے بغیر یہ مسئلہ آسانی سے حل نہیں کیا جا سکتا۔اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ اس وقت پاکستان کو افغانستان کے معاملات کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔اس حوالے سے اس ملاقات سے پہلے جوگراؤنڈ ورک کیا گیا ہو گا وہ تو پہلے ہی سے طے شدہ ہو گا کیونکہ ان ایک دوگھنٹوں کی ملاقاتوں کے دوران ہی معاملات طے نہیں ہوتے بلکہ دورے سے بہت پہلے زیادہ تر معاملات طے پاجاتے ہیں اس کے بعد جا کر اس قسم کے اہم دوروں کا اعلان کیا جاتا ہے ۔

اس لئے دونوں طرف کے ورکنگ گروپ پہلے سے ان نکات پر کام کررہے تھے۔
اس ملاقات کا جوایجنڈہ طے گیا گیا تھا اس میں دفاعی تعاون ،باہمی تجارت دہشت گردی کے خلاف مشتر کہ کاروائی کے سلسلے میں تعاون شامل ہیں ۔اس کے علاوہ جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان میں امریکی صدر طالبان کو جنگ بندی کے لئے راضی کرنے کے حوالے سے پاکستان کے کردارکا خواہش مند ہے۔

جہاں تک شکیل آفریدی کی رہائی کا امریکی مطالبہ ہے اس حوالے سے بھی کہا جارہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔
بہر حال ان بڑی ملاقاتوں کے تناظر میں ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ ایک طرف افغانستان کے معاملات ہیں ،سعودی میں امریکی فوجیں دوبارہ اتر چکی ہیں اور مشرق وسطیٰ میں امریکہ ایران کشیدگی کی وجہ سے دنیا بظاہر بڑے تصادم کی جانب جاتی نظر آرہی ہے یوں وزیر اعظم عمران خان کے اس دورہ امریکہ کے دوران امریکی انتظامیہ پاکستان کو کس تناظر میں دیکھ ر ہی ہے ۔

غیر سرکاری عرب صحافتی ذرائع کے مطابق ،برطانیہ،جرمنی اور ہا لینڈ کے درمیان بحر ہر مزکے راستے پر کنٹرول کے لئے ایک خاموش معاہدہ ہو چکا ہے ،امریکہ بحر ہر مز ،اور خلیج عمان کے معاملے میں ایران کو دھمکیاں لگا رہا ہے ۔
اس حوالے سے شام کے بعد وہ عراق میں بھی اپنی عسکری موجودگی کو دوبارہ بڑھا رہا ہے ۔یہ سب کچھ کیوں اور کس لئے کیا جارہا ہے ؟پاکستان اور اس کی گوادر پورٹ جو خلیج عمان کے بالکل سامنے واقع ہے کیا ان تمام حالات سے لاتعلق رہ سکے گا؟جہاں تک افغانستان کا ماملہ ہے امریکہ کے افغان طالبان کے ساتھ تمام”امن مذاکرات“کا مقصد یہاں امریکی مفادات کے تحت حکومت کی تشکیل ہے جس میں محدود پیمانے پر امریکہ کی عسکری موجودگی بھی شامل ہے لیکن اس سلسلے میں افغان طالبان اپنا الگ موقف رکھتے ہیں جس کے مطابق امریکہ کا ایک فوجی بھی افغان سر زمین پر نہیں رہ سکتا اس موقف میں گلبدین حکمت یار کی تنظیم حزب اسلامی بھی افغان طالبان کے موقف کی حمایتی ہے۔


امریکہ کی خواہش ہے کہ اس سلسلے میں پاکستان افغان طالبان پر اپنا اثر رسوخ استعمال کرتے ہوئے انہیں اس بات پر قائل کرے کہ خطے کے امن کی خاطر افغان طالبان امریکہ کی اس تجویز سے اتفاق کر یں ۔یقینی بات ہے کہ یہ ایک مشکل امر ہے کیونکہ افغان طالبان ہوں یاکوئی فریق پاکستان اپنی رائے کا اظہار تو کر سکتا ہے لیکن اسے قبو ل کرنے کے لئے افغان طالبان کو مجبور نہیں کر سکے گا۔

اس لئے پاکستان کے لئے آنے والے وقت میں ایک طرف افغان مسئلے کے حوالے سے امریکی خواہشات ہیں تو دوسری طرف افغان مسئلے کے سب سے بڑے فریق افغان طالبان ہیں ۔
ماضی قریب میں اگر امریکہ اپنے مفادات کے نفاذ کی زیادہ ضد نہ کرتا تو ممکن ہے یہ مسئلے بہت پہلے حل کیا جا سکتا۔امریکی اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ افغانستان میں ہونے والی جنگ سے سب سے زیادہ متاثر پاکستان اور اس کے عوام ہوئے ہیں اس لئے پاکستان کی بھی یہ خواہش ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لئے جلد سے جلد کوئی پیش رفت ہوتا کہ خود پاکستان ان حالات کے منفی اثرات سے نکل سکے۔

پاکستان کی اس صورتحال کو سامنے رکھ کر ماضی میں بھی امریکی اس قسم کا دباؤ بڑھاتے رہے ہیں کہ امریکی تناظر میں افغان مسئلے کے حل سے پاکستان کو بھی فائدہ ہو گا اور یہاں امن وامان کی صورتحال پیدا ہو سکے گی۔
خطے میں امن کی اس ہری بتی کے پیچھے لگا کر امریکیوں کا خیال تھا کہ پاکستان افغان طالبان پر زور ڈالے گاکہ وہ اپنی سخت شرائط سے کچھ پیچھے ہٹیں اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرکے اس مسئلے کا کوئی حل نکالیں۔

یہ امریکیوں کا خیال تھا لیکن اس کے برعکس پاکستان کی پوزیشن ایسی نہیں تھی کہ وہ افغان طالبان کو ایسا کرنے پر مجبور کرسکے۔بلکہ اس لئے ہر مرتبہ افغان طالبان اور امریکیوں کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے کی بھر پور کوشش کی لیکن جب امریکیوں کو اس بات کا یقین ہو جاتا ہے کہ افغان طالبا ن ان کی بات تسلیم نہیں کر یں گے تو وہ ان مذاکرات کی خبر خود ہی لیک کروادیتے تھے۔


وائٹ ہاؤس میں عمران خان سے ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے امریکہ کی جانب سے مسئلہ کشمیر حل کرانے کے لئے ثالثی کی پیشکش بھی کی اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان افغانستان میں لاکھوں جانیں بچانے کا سبب بنے گا۔ایک سانس میں ان دوباتوں کا ادا کیا جانا اس جانب واضح اشارہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے امریکہ پاکستان کے ساتھ”کچھ لو کچھ دو“کی پالیسی چلنا چاہتا ہے کہ ایک طرف وہ مسئلہ کشمیر میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالث بنتا ہے تو دوسری جانب پاکستان امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان پل کا کردار ادا کرے۔


جس طرح ہم نے پہلے کہا کہ ملکوں کے تعلقات اپنے اپنے مفادات کے تناظر میں ہوتے ہیں یہی حال امریکہ کا بھی ہے ۔امریکہ مشرق وسطی میں کے موجودہ حالات کو اپنے موافق پاتا ہے کیونکہ ایک دو کو چھوڑ کر عرب حکومتیں اس وقت امریکہ کی جانب سے اس خوف میں مبتلا کردی گئی ہیں کہ ان کے عوام ان کا تختہ الٹ سکتے ہیں دوسری جانب ایران کا ہوا کھڑا کیا گیا ہے جس کے حوالے سے ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ عراق ،شام اور ایمن تک ایرانی مداخلت کو امریکہ ،یورپ اور اسرائیل نے جس انداز میں خاموشی سے”برداشت “کیا ہے اس کے کئی رخ ہیں۔


امریکہ اور اسرائیل عرب حکمرانوں کے اذہان میں یہ بٹھانے میں کامیاب ہوئے کہ ایران اگر عراق ،شام ،لبنان اوریمن میں اپنی پراکسی کے ذریعے مداخلت کر سکتا ہے تو پھر کوئی عرب ملک اس کی دستر ک سے باہر نہیں ،اس کے بعد یمن کے حوثی بانیوں پر جس وقت سعودی عرب نے اپنے مقامی اتحادیوں کے ذریعے حملے گئے اور طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی وہ یمن کی اس بغاوت پر قابونہ پاسکے تو دنیا اور خود عرب حکمرانوں پر یہ بات عیاں کردی گئی کہ یہ عرب اتحاداگر حوثی تنظیم پر قابو نہیں پاسکتان تو اپنا دفاع کیسے کر سکے گا یہی وہ حالات تھے جب سعودی عرب میں ایک اسلامی عسکری اتحادتشکیل دیا گیا جس کی سر براہی پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے سپرد کی گئی لیکن موجودہ حالات میں عرب حکمرانوں کو پھر باور کرایا گیا کہ مسلم عسکری اتحاد میں شامل مسلم ممالک کے نزدیک مقامات مقدسہ کی حفاظت زیادہ اہم ہو گی نہ کہ عرب حکمرانوں کے دشمنوں سے لڑنا۔

اس لئے سوچنے کی بات یہ ہے کہ اب جبکہ سودی عرب کی جانب سے امریکی فوج کو دوبارہ وہاں قیام کی اجازت دے دی گئی ہے تو یہ مسلم اتحاد کس مرض کی دوا ہو گا؟
دوسری جانب پاکستان اور چین کے درمیان سی پیک منصوبہ معاشی لحاظ سے امریکہ کے لئے شاہد اس قدر اہم نہ ہو جتنا اسے اس بات کی فکر ہے کہ چین گوادر کے راستے اس جگہ پر سر نکال کر کھڑا ہو گیا ہے جس کے بالکل سامنے خلیج عمان ہے اور اس سے کچھ آگے بحر ہر مز کی تنگ پٹی ہے جہاں سے دنیا کا ستر فیصد سے زیادہ تیل گزر کر باقی دنیا میں پہنچتا ہے۔

اس لئے امریکہ اور نیٹو میں شامل ممالک کی خواہش تھی کہ وہ بحر ہر مزپراپنا مستقل کنٹرول قائم کریں اسی وجہ سے اب برطانیہ بھی ایران کو آنکھیں دکھاتا ہے ۔
منصوبہ بندی سے کشیدگی کو ہوا دینے کے لئے تیل بردار جہازوں کو اغوا کا ایک سلسلہ شروع کیا گیا تاکہ دنیا کو اس بات پر قائل کیا جاسکے کہ اس تزویراتی بحری پٹی پر کنٹرول حاصل کئے بغیر دنیا کے لئے تیل کی رسد محفوظ نہیں بنائی جاسکی۔

یوں امریکہ ،برطانیہ ،جرمنی اور ہالینڈ نے یہاں اپنے مستقل پنجے گاڑھنے کا منصوبہ بنایا ہے یہ سب سازشیں ایران کے ساتھ کشیدگی کو ہوا دیکر پیدا کی گئی ہے۔۔۔تاکہ چین اور روس کے رسوخ سے اس علاقے کو دور رکھا جا سکے۔
ان تمام حالات کے پس منظر میں امریکی چاہتے ہیں کہ افغانستان سے ان کا فوجی انخلا تو وہ لیکن کچھ فوجی اڈے اسی کی تحویل میں رہیں تاکہ کل جس وقت مشرق وسطیٰ بڑی جنگ کی لپیٹ میں آئے تو وہ پاکستان ،چین اور روس کو اس جانب سے بھی کاؤنٹر کر سکے۔

لیکن یہ خواب اس وقت پورا نہیں ہو سکے گا جب تک افغان طالبان اپنے مطالبات پر اڑے رہیں گے اس لئے صدر ٹرمپ کا یہ کہنا کہ مستقبل میں پاکستان افغانستان میں دس لاکھ جانیں بچا سکتا ہے کا مطلب ہی یہ ہے کہ پاکستان افغان طالبان کو رام کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔یعنی پاکستان کی کوششوں سے افغان طالبان کو اس بات پر راضی کیاجائے کہ وہ افغانستان میں امریکی انخلا کے بعد بھی یہاں رہ جانے والے امریکہ اور اس کے صہیونی اتحادیوں کے لئے مشکل پیدا نہ کریں ۔

اس کے بدلے میں امریکی صدر ٹرمپ نے مسئلہ کشمیری میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیش کش کی ہے۔ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ یہ بہت مہنگا سودا ہوگا کیونکہ کشمیر کے معاملے میں امریکہ کیا ثالثی کر سکے گا اس کا اندازہ ہمیں اس کی تاریخ سے ہے وہ صرف افغانستان میں پاکستان کے ذریعے اپنا کام نکلوا کر مشرق وسطیٰ کے بڑے کھیل میں اپنے اور اسرائیل کے لئے آسانیاں تلاش کرے گا۔

Your Thoughts and Comments

Afghan Taliban ko Razi karoo... Kashmir main saalsi kareen ge!! is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 25 July 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.