مودی کی ذلت آمیزشکست اور ہماری خارجہ پالیسی

عربوں کے ”احسانات“چکانے کا وقت آگیا‘ روس ‘چین کے ساتھ افریقہ میں شراکت داری سے بلیک میلنگ سے جان چھڑوائی جاسکتی ہے:بھارت‘امریکا اور عربوں کے پاکستان کے خلاف گٹھ جوڑپر پاکستان پوائنٹ کے گروپ ایڈیٹرمیاں محمد ندیم کی چشم کشا تحریر

Mian Muhammad Nadeem میاں محمد ندیم پیر فروری

Modi Ki ZillatAmeez Shikast
بھارتی دارالحکومت دہلی کے ریاستی انتخابات میں تیسری مرتبہ عام آدمی پارٹی نے جنتا پارٹی (بی جے پی) کو ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں عبرتناک شکست دی ہے مودی سرکار کو دہلی کی 70 میں سے صرف 8 نشستوں میں ہی کامیابی حاصل کامیابی حاصل ہوکی ہے جبکہ دہلی میں طویل ترین حکومت کا ریکارڈ رکھنے والی کانگریس اس بار ایک نشست بھی نہیں جیت سکی۔

اگرچہ قومی انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کرنے کے باوجود بی جے پی اس سے قبل بھی 5 دیگر ریاستی انتخابات میں شکست کا منہ دیکھ چکی ہے، لیکن دہلی میں اس کی شکست کو ملنے والی اہمیت کے اسباب مختلف ہیں۔شہریت قانون میں ترمیم (سی اے اے) کی منظوری کے 2 ہفتوں بعد ہی بی جے پی کو جھاڑکھنڈ کے ریاستی انتخابات میں بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، لیکن بی جے پی نے دہلی کے انتخابات کو اس قانون کی عوامی حمایت کا پیمانہ بنانے کی مہم چلائی۔

(جاری ہے)

اس قانون کے خلاف دہلی کے علاقے شاہین باغ میں جاری طویل دھرنے کے شرکا نے خود کو سیاست سے دْور رکھا ہوا ہے لیکن بی جے پی نے انہیں سیاسی رنگ دینے کی پوری کوشش کی انتخابی مہم میں وزیرِاعظم مودی ہوں، وزیر داخلہ امت شاہ، یوپی کے وزیراعلی یوگی ادتیہ ناتھ، مرکز میں خزانے کے جونیئر وزیر انوراگ ٹھاکر یا ان کی جماعت کے مقامی رہنما ہوں، ان سبھی نے شاہین باغ کے مظاہرین اور سی اے اے کے مخالفین کو مسلسل نشانے پر رکھا۔

2014ء اور 2019ء کے عام انتخابات میں تو بی جے پی نے دہلی میں لوک سبھا کی ساتوں نشستوں پر کامیابی حاصل کی، لیکن اس کے برعکس 2015ء میں ریاستی انتخابات میں عام آدمی پارٹی نے 70 میں سے 67 نشستیں جیت کر سب کو ہی حیران کردیا، اور اب جب 2019ء میں حکمراں جماعت بی جے پی نے دہلی الیکشن میں اپنا پورا زور لگایا تو خیال تھا کہ شاید اس بار نتیجہ مختلف ہو، مگر 2019ء میں بھی عاپ تیسری بار حکومت میں آگئی۔

2014ء کے عام انتخابات میں دہلی میں ڈالے گئے ووٹوں میں سے 46 فیصد بی جے پی کو ملے اور 2019ء میں یہ شرح بڑھ کر 56 فیصد تک پہنچ گئی یہی وجہ تھی کہ 2019ء کے عام انتخابات کے بعد بی جے پی کو یہ اعتماد حاصل ہوا تھا کہ وہ دہلی کے انتخابات میں بھی ہندتوا کے سیاسی ایجنڈے پر ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ایک طرف امریکی ڈیپارٹمنٹ آف سٹیٹ نے بھی بھارت میں مذہبی آزادی کے حوالے سے ایک رپورٹ جاری کر کے تشویش کا اظہار کرتا ہے تو دوسری طرف تجارتی اور اسٹریجک مفادات انسانی حقوق پر غالب آجاتے ہیں محکمہ خارجہ کی ا س واضح ترین رپورٹ کے باوجود امریکی صدر بھارت کا دورہ کررہے ہیں ان کے دو روزہ دورے میں ”خصوصی طور“ پر ایک دن احمد آباد گجرات میں تقریبات رکھی گئی ہیں جہاں 17سال قبل ”مودی بوچر“کی سرپرستی میں آرایس ایس کے دہشت گردوں نے خون کی ہولی کھیلی درجنوں مسلمانوں کو زندہ جلایا گیا ‘حاملہ عورتوں کے شکم میں پرورش پانے والے بچوں کو نکال کر نیزوں پر لٹکایا گیا ‘شہرسے جانیں بچاکر نواحی دیہات میں پناہ لینے والے مسلمانوں کو قتل کرنے کے لیے گاؤں کے گاؤں جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیئے گئے وہی امریکا جس نے نریندرمودی کو ا س دہشت گردی کا ذمہ دار قراردیتے ہوئے اس کے امریکا میں داخلے پر پابندی لگائی تھی 25فروری کو اسی امریکا کا صدر احمد آباد میں ”بوچرآف دی گجرات“کے ساتھ مل کر جام لڈھائے گا ۔

غیروں سے کیا گلہ نام نہادبرادراسلامی ممالک بھی پاکستان کو اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہونے کی سزا دینے میں اغیار کے دست وبازو بنے ہوئے ہیں تازہ ترین سعودی عرب کا پاکستانی کارکنوں کی ملک سے بیدخلی کا شرمناک اقدام ہے ۔ سعودی ولی عہد پاکستان کو وعدوں پر ٹرخاتا ہے جبکہ بھارت میں اربوں ڈالر کے منصوبوں پر فوری عمل درآمد ہوتا ہے اور سعودی اور اماراتی سرمایہ کاری کا مرکزبھی احمد آباد گجرات جہاں بھارت کی بڑی کاروباری کارپوریشن”ریلائنس گروپ“سعودی حکومت کی شراکت دار ہے ”ریلائنس گروپ بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آرایس ایس) کا سب سے بڑا ڈونر ہے بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق نریندرمودی اور ان کے سب سے قریبی ساتھی امیت شاہ کی بہت بڑی خفیہ سرمایہ کاری ریلائنس گروپ میں ہے امبانی خاندان کی ملکیت ریلائنس گروپ امارتی شیوخ کا بھی ساجھے دار ہے اور اسی نے اماراتی حکمرانوں کو سرکاری سرپرستی اور سرمایہ سے دوبئی میں ہندومندر قائم کرنے پر آمادہ کیا تھا ۔

تازہ ترین غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کے ساحلی شہرجدہ میں بھی سعودی حکومت کی سرپرستی میں ایک ہندو مندر قائم ہونے جارہا ہے عرب لیگ اور اوآئی سی میں بھی پاکستان کی بجائے بھارت کے موقف اور مفادات کو مقدم رکھا جاتا ہے عرب کشمیر کو بھی پاکستان اور بھارت کا آپسی تنازع قراردیتے ہیں تاہم جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی سفارتی‘ مادی اور عملی حمایت بھارت کے پلڑے میں جبکہ دل جوئی کے لیے کبھی کبھار اخلاقی حمایت پاکستان کے پلڑے میں ڈال دیتے ہیں ۔

عربوں کی خانہ بدوشی کی زندگی سے آج ترقی کی بلندیوں تک ہندوستان کے مسلمانوں نے ان کی دامے‘درمے‘سخنے‘قدمے ہر طرح سے مددکرتے رہے تیل نکلنے سے پہلے کئی سوسال تک عجمی مسلمان ہندوستان بھر زکواة ‘صدقات اور چڑھاوے خانہ بدوش بدوئیوں کو پہنچاتے رہے‘ہندوستان سمیت عجمی مسلمان ممالک‘ریاستوں اور راجواڑوں کے حکمران نبی کریمﷺ ‘اسلام اور قرآن کی نسبت سے عربوں کی ”خدمت“کو اپنے لیے اعزازسمجھتے تھے سعودی عرب‘امارات‘کویت وغیرہ کی تعمیر وترقی میں پاکستانیوں نے اپنا خون پسینہ بہایا اور عربوں کے ”خرکارکیمپوں“میں ہرطرح کے ظلم وستم سہنے کے باوجود پاکستانی پیچھے نہیں ہٹے ۔

پاکستان میں فرقہ ورانہ فسادات میں جہاں دیگر طاقتوں کا عمل دخل رہا وہیں عرب بھی مختلف گروپوں کو فنڈنگ کرتے رہے اور فرقہ واریت پھیلانے اوروہابیت کوفروغ دینے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کرکے سعودیوں نے پاکستان میں ہزاروں مساجد اور مدرسے قائم کیئے‘معصوم بچوں کے ذہنوں میں نفرت بھرنے کے لیے کتابیں سعودی عرب سے چھپ کرآتی رہیں ”افغان جہاد“ کے ”عرب مجاہدین“ کی شہریتیں ختم کرکے پاکستان کو مجبور کیا گیا کہ وہ انہیں قبائلی علاقوں میں بسائے اور پھر امریکیوں کے ساتھ مل کر پاکستان پر انہی ”عرب مجاہدین“کے خلاف آپریشن کے لیے دباؤ بڑھایا گیا۔

دہشت گردی کے حوالے پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے میں صرف بھارت اور مغربی طاقتیں ہی مصروف عمل نہیں رہیں بلکہ ”اپنوں“نے بھی اس میں اہم کردار کیا ہے حال ہی میں پاکستان کو ”ایف اے ٹی ایف “کی جانب سے جس بلیک میلنگ کا سامنا رہا ہے اس میں ”عرب بھائیوں“نے پاکستان کی کسی بھی مرحلہ پر کوئی مددنہیں کی بلکہ بھارتی موقف کو سپورٹ کیا یہاں تک سعودی حکومت نے بھارت کے مقابلے میں پاکستانی حجاج اور عمرہ زائرین کے اخراجات میں اضافہ کردیا بلکہ شرائط کو بھی سخت کردیا ۔

بھارت کے مسلمانوں اور پاکستان کے ساتھ نفرت انگیزرویئے کی ایک بڑی وجہ عربوں کی بھارت کو دی جانے والی شہ ہے مسلمانوں پر زبردستی مختلف قوانین کے اطلاق میں‘خود کو گاؤرکھشک کہلوانے والے آرایس ایس کے دہشت گردوں کی جانب سے قانونی طور پر کئی نسلوں سے ڈیری، چمڑے اور گائے کے گوشت کے کاروبار سے منسلک مسلمانوں کے قتل عام‘ جبری طور پر مذہب تبدیل کرنے کا الزامات ہندو دہشت گرد گروہوں کے تشدد پر جہاں بھارت میں ایسے کیسز میں پولیس کی تحقیقات اور پروسیکیوشن جانبدار نظر آتی ہے تودوسری جانب نام نہاد عالمی برادری بالعموم اور عرب ”بھائی“ بالخصوص جس سنگ دلی کا مظاہرہ کرتے ہیں وہ انتہائی شرمناک ہے بابری مسجد کی شہادت یا رام مندر کی تعمیرکا معاملہ ہو یا کشمیرکا تنازعہ عربوں نے پاکستانی‘ہندوستانی اور کشمیری مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا ایک عرب ملک ہزاروں مسلمانوں کے قاتل نریندر مودی کو ایک تمغہ دیتا ہے تو دوسرا اس سے بڑے اعزازکا اعلان کرتا ہے۔

ہمیں یہ اعتراف کرنے میں عار نہیں ہونا چاہیے کہ ہماری پالیسیاں ہماری معیشت سے بھی زیادہ کمزور رہی ہیں خصوصا یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں کہ ہماری خارجہ پالیسی انتہائی ناقص رہی ہے جس کی ذمہ داری حکومتوں سمیت ”فیصلہ ساز اداروں“پر بھی عائد ہوتی ہے روسی صدر پوٹن کے دورہ پاکستان کی کئی بار باتیں ہوئیں مگر ہر بار امریکا اور عربوں کی بلیک میلنگ اسلام آباد کے پاؤں کے بیڑیاں بنتی رہی موجودہ حکومت اور ”فیصلہ سازوں“سے توقع کی جارہی تھی کہ وہ ہزاروں میل دور بیٹھی عالمی طاقت(امریکا)پر انحصار کو بتدریج کم کرتے ہوئے علاقائی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو استور کرئے مگر ہم نے ”کاروباری علاقائی طاقتوں“سے محبتوں کی پینگیں بڑھائیں لیکن تزویراتی اور سیاسی تعلقات پر وہ توجہ نہیں دی گئی جس کی پاکستان کو اشد ضرورت ہے ۔

اسلام آباد کی خارجہ پالیسی آج مجبوریوں اور ”مجبوروں“سے آزاد ہوتی تو ٹرمپ کے دورہ بھارت کے مقابلے میں ترک صدر کی دورے کی بجائے صدرپوٹن اسلام آباد کے دورے پر آتے تو دنیا ہمیں سیریس لیتی‘جنگ ہنسائی کروانے کی بجائے اس موقع پر ترک صدر کے دورے کو موخرکرنازیادہ بہتر تھا‘روسی دوستوں کے مطابق صدرپوٹن کے دورہ پاکستان میں رکاوٹ اسلام آباد میں بیٹھے پالیسی سازہیں رونہ یہ دورہ شاید نوازشریف کی وزارت عظمی کے ابتدائی مہینوں میں ہوچکا ہوتا سفارتی کاری میں”شریکے“کی طرح مقابلے بازی نہیں ہوتی پھر بھی اگر”مقابلے بازی “ضروری تھی تو اسلام آباد میں بیٹھے پالیسی ساز عقل سے کام لیتے تو ”کوالمپورکانفرنس“کی طرز پر کوئی بین القوامی کانفرنس کا انعقاد ترک صدر کے دورے سے زیادہ طاقتور جواب ہوتاایسی کانفرنس کا انعقاد ممکن تھا کیونکہ 2020کے آغازمیں ہی صدر ٹرمپ کے دورہ بھارت کی تاریخوں کا اعلان ہواتھا جبکہ دورہ پچھلے سال سے شیڈول تھا لہذا ہمارے پا س ایسی کسی بھی کانفرنس کے انعقاد کے لیے بہت وقت تھا”کوالمپورکانفرس“سے اگر عرب”دوستوں“کو چڑہے تو چین‘روس‘ملائیشیا‘وسط ایشیائی ریاستوں اور افریقی یونین کے ممالک کے ساتھ مل کر اسلام آباد میں ایک عالمی کانفرنس کا انعقاد کوئی مشکل کام نہیں تھا جہاں تک وسائل کا تعلق ہے تو جہاں قوم کے اربوں روپے ہر سال صرف اراکین پالیمان کے جعلی میڈیکل بلوں پر خرچ ہوجاتے ہیں وہاں اگر ایسی کسی کانفرنس پر چند ارب خرچ ہوجاتے تو یہ گھاٹے کا سودا نہیں تھا جٹکے حساب سے شریکیوں کو بھی لگ پتہ جاتا اور پاکستان کا بھی کچھ فائدہ ہوجاتا کیونکہ افریقہ ایک بڑی منڈی بن کر ابھر رہا ہے جبکہ روس اور چین کی” دلچسپی“ سے امریکا‘برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک کے براعظم افریقہ میں پاؤں اکھڑرہے ہیں چین اور روس موٹرویزاور مواصلات کے ایک بڑے منصوبے کے ذریعے پورے براعظم افریقہ کو جوڑنے جارہے ہیں اوردن بدن براعظم افریقہ میں روس اور چین کی سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہورہا ہے ۔

پاکستان کے سفارت خانوں کو بھارت سے زیادہ متحرک ہونا چاہیے مگر ”پرچی والے سفیروں“کی وجہ سے ہماری سفارت کاری چھوٹے چھوٹے افریقی ملکوں سے بھی زیادہ کمزور ہے وقت آگیا ہے کہ سفارش ‘ذاتی پسند وناپسند کی بجائے کیئریئرڈپلومیٹس کو ہی سفارت کاری کی ذمہ داریاں سونپی جائیں ریٹائرڈ بیوروکریٹ‘فوجی افسران ‘صحافیوں اور ٹیکنوکریٹس سے جان چھڑوائی جائے کیونکہ 72سال ہم یہ تجربات کرکے دیکھ چکے ہیں ریٹائرڈ اعلی سول و فوجی افسران دنیا کے دیگر ممالک کی طرح آرام سے بڑھاپا گزاریں اور ملکی مفاد میں ازخود ریٹائرمنٹ کے بعد سرکاری ذمہ داریاں لینے سے معذرت کرکے اہلیت رکھنے والوں کو کام کرنے کا موقع دیا یہ صورتحال افسوسناک ہے کہ72سالوں میں ہم کوئی قابل فخرماڈل بنانے میں ناکام رہے ہیں کہ جس کے تحت جس شخص کی جو ذمہ داریاں ہیں وہ ریاست کی متعین کردہ حدودوقیدو کے اندر رہتے ہوئے پوری کرئے اور مدت ملازمت پوری ہونے پر ریٹائرڈ ہوکر گھر چلاجائے دنیا کے قبرستان ”ناگزیر“لوگوں سے بھرے پڑے ہیں ۔

پارلیمان کے ممبران قانون سازی کی بجائے ”ترقیاتی منصوبوں“کے لیے انتخابات لڑتے ہیں ہم دیکھ چکے ہیں کہ پرویزمشرف نے اپنی آمریت قائم کرنے کے بعد جب ”ترقیاتی منصوبوں“اور قانون سازی کے عمل کو الگ کرنے کی کوشش کی تھی کہ جوخاندان وزارتوں اور مشاورتوں کو اپنا حق سمجھتے ہیں وہی خاندان وزارتیں چھوڑکر ضلعی نظامتوں اور ضلع کونسلوں پر آگئے تھے مشرف کی پالیسیوں اور طرزحکومت سے اختلاف ہوسکتا ہے مگر میرے خیال میں ا س کے ضلعی حکومتوں کے نظام کو اس کی اصل روح کے ساتھ چلنے دیا جاتا تو آج پارلیمان ”کامیڈی تھیٹر“کی بجائے قانون سازی کا باوقارادارہ بنی ہوتی۔

Your Thoughts and Comments

Modi Ki ZillatAmeez Shikast is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 17 February 2020 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.