Paish Goi

پیش گوئی

ہنسی کھوکھلی سی ہنسی

اور پوتھی پہ اک ہاتھ رکھ کر

مجھے گھور کر

گنگنایا

یہاں سے وہاں تک

مجھے ایک بھی سبز پتہ دکھائی نہیں دے رہا

ایک بھی بانسری کی مدھر تان

پانی کی گاگر کے نیچے چھلکتی ہوئی وحشی ہرنی سی آنکھیں

کوئی ایک چمکیلا آنسو بھی باقی نہیں ہے

دھواں راکھ اور خون

دھرتی کی اجڑی ہوئی کوکھ میں چند جھلسی ہوئی ہڈیاں

ادھ جلے پریم پتروں کے ڈھانچے

درختوں کی لاشیں

مکانوں کی اڑتی ہوئی دھجیاں

سونے رستوں پہ پھرتی ہوئی کھوکھلی سی ہوا کے سوا

اور کچھ بھی مجھے یاں دکھائی نہیں دے رہا

بڑی دیر تک میں نے بوڑھے نجومی کی باتیں سنیں

اور آباد راہوں پہ خوش پوش جوڑوں کو آنسو کی چلمن سے دیکھا کیا

پھر اچانک

نہ جانے کہاں اک بگل سا بجا

اور نہ جانے وہ کیسے نکل کر مرے سامنے آ گیا

ایک بھینگا مڑے ناخنوں والا عفریت

جو پہلے دن سے

مری آنکھ میں چھپ کے بیٹھا ہوا تھا

مرے خون پر پل رہا تھا

وزیر آغا

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(429) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Wazir Agha, Paish Goi in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 101 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.8 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Wazir Agha.