پاکستانی سیاست اور بلدیاتی انتخابات

منگل ستمبر

Hassan Bin Sajid

حسان بن ساجد

یوں تو دنیا کے جمہوریت پسند ممالک میں ہمیشہ سے ہی بلدیاتی انتخابات اور بلدیاتی حکومتوں کا کلچر عام رہا ہے اور آج تک اسکا کلچر قائم ہے۔ برطانیہ و دیگر ترقی یافتہ ممالک میں میئر و دیگر بلدیاتی کمیٹیاں نچلی سطح پر ترقیاتی کام کرواتی ہیں مگر پاکستانی سیاست و سیاسی نظام میں اس کے برعکس نظام رائج ہے۔ ہمارا ہمسایہ ملک بھارت بھی بلدیاتی انتخابات و بلدیاتی حکومتوں کے ذریعے ترقیاتی کاموں کو نچلی سطح تک ترجیح دیتا آ رہا ہے مگر ہمارے ہاں ایم۔

این۔اے و ایم۔پی۔اے ہی ٹھیکے دیتے اور ترقیاتی کام کرواتے ہیں۔ اگر تاریخ پاکستان کا بغور مطالعہ کیا جاۓ تو آپ کو پہلے بلدیاتی انتخابات کا وجود 1959 سابق صدر پاکستان و آرمی چیف جنرل ایوب خان کے دور حکومت میں نظر آتا ہے اور وہی نظام جنرل ایوب خان صاحب کے ریفرنڈم میں کارآمد نظر آتا ہے اسی طرح تاریخ پاک میں دوسرے بلدیاتی انتخابات 1979 اس وقت کے صدر و آرمی چیف جنرل ضیاء الحق کے دور میں نظر آتے ہیں۔

(جاری ہے)

ملکی تاریخ میں سیاسی و سویلین حکومتوں نے ہمیشہ اختیارات اپنے قبضہ میں رکھنے کی کوشش اور ہمیشہ اختیارات نچلے طبقہ تک پہنچانے سے گریز کیا۔ پورے ملک کی دولت کو فقط چند خاندانوں اور سیاسی جماعتوں تک ہی محدود رکھا گیا جس کا نتجیہ یہ ہوا کہ نچلی سطح تک اختیارات نہیں دیے گئے اور کرپشن عام رہی۔ پاکستانی تاریخ میں اگر حقیقی بلدیاتی انتخابات و بلدیاتی حکومتیں تشکیل پائیں تو وہ دور آرمی چیف و سابق صدر جنرل پرویز مشرف کا تھا جب اختیارات ضلعی ناظم سے یوسی کونسلر تک منتقل هوے۔

یہی وہ دور تھا جب پی۔ایس۔پی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال نے کراچی کے میئر کے طور پر کراچی میں بھرپور محنت سے کراچی کو اپنے پاؤں پر کھڑا کیا۔ اسی طرح اس بلدیاتی دور حکومت میں گاؤں کی سطح تک فنڈز گئے اور کام هوے۔ یہاں تحریر کا مقصد فوجی حکومت یا سیاسی حکومت کی حمایت کی بجاے، بلدیاتی انتخابات اور بلدیاتی حکومتوں کی اہمیت پر زور دینا ہے۔

مشرف دور حکومت کے خاتمہ کے بعد سابق صدر۔آصف زرداری صاحب کے 5 سالہ دور حکومت میں گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں آفیشل صوبہ اور اٹھارویں ترمیم تو کی گئی مگر بلدیاتی انتخابات کا نظام رائج نہیں کیا گیا۔ اسی طرح پنجاب میں بدقسمتی سے ن لیگ نے بھی اختیارات جناب شہباز شریف صاحب تک ہی محدود رکھے۔ اس کے برعکس سابق نا اہل وزیراعظم نواز شریف صاحب کے دور حکومت کے آخری دور میں بلدیاتی انتخابات تو هوے مگر آج تک بلدیاتی نمائندے فنڈز کا رونا روتے نظر آتے ہیں۔

میری کافی کونسلرز سے گفتگو ہوئی تو یہی سنا کہ اختیارات نہیں ہیں فنڈز نہیں دیے گئے۔ ہم چار سال میئر کراچی وسیم اختر کا یہی رونا سنتے رہے کہ اختیارات نہیں ہیں، فنڈز نہیں ہیں۔ پھر ہم نے حالیہ کراچی بارشوں میں بلدیاتی اداروں کے کام و اختیارات کا نتیجہ بھی دیکھا، یہ ایک الگ رونا ہے کہ سندھ حکومت وفاق کو اس امر کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔


اب ایک مرتبہ پھر بلدیاتی انتخابات کا شور ہر طرف اٹھ رہا ہے، کبھی تاریخوں کا اعلان کیا جاتا ہے تو کبھی کرونا کی وجہ سے موخر کر دیا جاتا ہے۔ کبھی الیکشن کمیشن اپنی تیاری کا بہانہ بناتا ہے تو کبھی حکومتیں تیار نظر نہیں آتیں۔  بلآخر اب اطلاعات کے مطابق نومبر کے آخر یا دسمبر کے آغاز میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جاۓ گا۔ امید ہے کہ یہ بلدیاتی انتخابات اور بلدیاتی حکومتیں با اختیار اور فنڈز رکھنے والی حکومتیں ہوں گیں، تاکہ نچلے طبقہ تک ترقیاتی کام مکمل هوسکیں۔

اگر محترم وزیراعظم عمران خان صاحب کے دو سالہ دور حکومت کی بات کروں تو اس دور میں آزمائشیں اور مشکلات کی انتہا تھی۔ ہم نے آٹا، چینی، پیٹرول بحران کے ساتھ ساتھ مولانا فضل الرحمن کا لانگ مارچ و دھرنا بھی دیکھا جس کو لالی پاپ دے کر چلتا کیا گیا۔ اسی طرح مشرف سنگین غداری کیس فیصلے سے نوازشریف کی بیماری و راہ فراری بھی اسی دور حکومت میں نظر آئیں۔

ہم نے کرونا وائرس جیسی وبا کا مقابلہ اور پھر بیرونی قرضوں اور ایف۔اے۔ٹی۔ایف کی بوچھاڑ بھی اسی زمانہ میں دیکھی ہے۔ ابھی نندن سے لے کر کلبھوشن کیس اور پھر کشمیر پر بھارت کا جبر بھی اسی دور میں بڑھا اور عالمی سطح پر متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو تسلیم بھی اسی دور میں کیا اور سعودی عرب سے حالات خراب اور چین کی مدد بھی اسی دور میں نظر آئ۔

اس میں کوئی شک نہیں جس قدر مشکلات عمران خان صاحب کے دور حکومت میں آئیں اسکی کہیں مثال نہیں ملتی اور بڑے بہترین انداز میں کچھ مسائل پر قابو پایا گیا ہے۔ اب چونکہ بلدیاتی انتخابات سر پر ہیں اور عوام مہنگائی کے خاتمہ کوہی ترجیح دیتی ہے تو تحریک انصاف کے لیے پنجاب میں بلدیاتی الیکشن لڑنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ سانحہ ساہیوال، مروہ قتل کیس، صلاح الدین کیس، اور حالیہ موٹروے کیس کے پیش نظر اس میں کوئی شک نہیں کہ پنجاب میں پی۔

ٹی۔آئ کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ پنجاب میں ن لیگ، پیپلزپارٹی، ق لیگ اور جماعت اسلامی کے بعد تحریک انصاف کی کزن جماعت، پاکستان عوامی تحریک نے بھی بلدیاتی انتخابات میں قدم رکھنے کی تیاری کررکھی ہے جو بذات خود تحریک انصاف کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ یوں تو ڈاکٹر طاہر القادری نے سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر رکھا ہے مگر بلدیاتی انتخابات میں قائد کے بغیر حصہ لینا سمجھ سے بالا ہے۔

یہ وہی جماعت تھی جو انتخابی نظام کے خلاف 2013 اور 2014 میں دو دھرنے بھی دے چکی ہے مگر میری سمجھ سے باہر ہے کہ اب یہ انتخابی نظام کیسے ٹھیک هوگیا ہے؟  اگر حکومتی جماعت کی کارگردی کے ایک اور پہلو کو لوں تو سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس پر مجھے عوامی تحریک ناراض نظر آتی ہے، اگر حکومت اپنے ہی دوستوں کو راضی نہیں رکھ سکتی تو آئندہ انکے لیے مزید مشکلات بھی بن سکتی ہیں۔

مگر میری ذاتی راۓ میں ایک جماعت جو کبھی انتخابات کا حصہ بنتی ہے تو کبھی لاتعلقی اختیار کرتی ہے وہ کبھی ملک میں کلین سویپ و اکثریت حاصل نہیں کرسکتی۔ بہر حال انتخابات کے نتائج سب واضع کردیں گے کہ شائد کچھ لوگ ان انتخابات میں اس لیے شامل هورہے ہیں کہ یہ انتخابات غیر جماعتی ہیں تو میرے خیال میں یہ انتخابات بھی پیسے کی گیم ہوگا۔ اگر بلدیاتی انتخابات ہی کروانے ہیں اور اختیارات نچلے طبقہ تک نہیں پہنچانے تو ملکی وسائل ان انتخابات پر لگانا بے وقوفی ہوگی۔

مجھے امید ہے کہ نچلے طبقہ سے اٹھنے والی قیادت کو مکمل اختیارات اور فنڈز دیے جائیں گے تاکہ ہر گلی، محلہ، بازار، ٹاؤن، قصبہ، گاؤں اور ضلع میں ترقیاتی کام هوسکیں۔ گویا ایم۔این۔اے و ایم۔پی۔ایز کی ذمہ داری قانون سازی ہے، انہیں اپنا کام جاری رکھنا چاہئیےاور دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی نچلی سطح تک اختیارات پہنچانے چاہییں تاکہ ملک حقیقی معنوں میں ترقی کرسکے۔

اب یہ قوم پر ہے کہ انہوں کس شخص کو ووٹ دینی ہے جو زیادہ پیسے والا ہے یا غریب امیدوار کو، جو کروڑ ایک الیکشن کے لیے لگاے گا وہ اگلے الیکشن اور اپنے پیسے پہلے پورے کرے گا پھر کچھ دے گا۔ گویا ووٹ دیتے هوے ہمیں انتہائی فہم و فراست سے کام لینا ہوگا۔ اللہ‎ کرے اس ملک میں حقیقی گراس روٹ لیول سے قیادت ابھرے اور نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی سے ملک میں حقیقی تبدیلی اور ترقی آئے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Pakistani Siyasat Or Baldiyati Intekhabat Column By Hassan Bin Sajid, the column was published on 22 September 2020. Hassan Bin Sajid has written 27 columns on Urdu Point. Read all columns written by Hassan Bin Sajid on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.