بند کریں
شاعری مضامینانتخاب احمد شہریار کے مجموئے اقلیم میں سے انتخاب
احمد شہریار کے مجموئے اقلیم میں سے انتخاب
یہ انتخاب کاشف غائر نے احمد کے مجموعے میں سے کیا

تازہ دم شاعر احمد شہریار کے شعری مجموعے"اقلیم" سے کچھ اشعار

کمانِ وقت سے نکلا تھا ایک تیر کبھی
جدھر میں سینہ سِپر تھا، اُدھر نہیں آیا

سرِ منظر نہ ستارہ، نہ صحیفہ ، نہ چراغ
آہ، کس موڑ پہ ہم دیکھنے والے ہوئے ہیں

کبھی نہ لوٹ کے آئیں گے آپ، جانتا ہوں
پر آئیے تو مرا انتظار دیکھیےگا

ہراساں ہیں سبھی رم خوردگانِ چشم آہو
غزالوں کی نئ فہرست جاری ہو رہی ہے

حدِ گماں سے ایک شخص دُور کہیں چلاگیا
میں بھی وہیں چلاگیا، میں بھی گذشتگاں میں تھا

دنیا کا حُسن یہ ہے کہ اس شاہکار کو
آدھا بگاڑ دیجیے، آدھا بنائیے

کھوگئے شہر کے مکیں، کوچۂ یار میں کہیں
آپ بھی آئیں گے نہیں، آپ بھی جا کے دیکھیے

اکثر میں یونہی دیکھ رہا ہوتا ہوں احمد
اکثر کوئی منظر نہیں ہوتا مرے آگے

شہر میں دشت کہاں، دھوپ کی دیوار کہاں
اک تصور نے مجھے آبلہ پا رکھا ہے

آپ کہاں سے آئےتھے، آپ کہاں سے آئیں گے
آپ کے انتظار میں لوگ نڈھال ہوگئے

آہ! کتنی دیر سے میری طرح کا ایک شخص
سامنے بیٹھا ہے اور بارِ دگر آنے کو ہے

بحرِ وحشت میں، یہ مجنوں کے قبیلے والے
موجِ زنجیر سے طوفان اٹھائےہوئے ہیں

ہمی کو ہے یہ سلیقہ کہ ذکر ِدریا پر
سوالِ تشنہ لبی کم سے کم اٹھاتے ہیں

میری خاموش نگاہی پہ نہ جاؤ کہ یہ چپ
میرے اظہار کی شدت بھی تو ہوسکتی ہے

میں آئینوں میں اُترتا رہا اور آخرِ کار
یہی ہُوا کہ مجھے کچھ نظر نہیں آیا

شہریار اپنے خرابے پہ حکومت ہے مری
کوئی مجھ سا ہو تو سمجھےمری سلطانی کو

اس سے زیادہ اور سزا کیا اپنے لیے تجویز کریں
جس جس لفظ نے دامن کھینچا اس کو نظر انداز کِیا

میں ایک بار اسے پھیروں گا اپنی گردن پر
اور آپ بس مرے خنجر کی دھار دیکھیےگا

کیا وقت تھا کہ حفظ تھی ہم کو کتابِ عشق
اب تو مطالعہ ہے فقط گاہ گاہ کا

سبھی غمی تھے مری پیالے میں زہر پاکر
میں مطمئن تھا کہ میری تکمیل کی گھڑی تھی

بیٹھوں ہوں کنجِ دل میں تو اس کا سبب یہ ہے
دنیا کی سمت راستہ موزوں کروں ہوں میں

صحنِ موجود میں پھرتے ہیں مگر زندہ نہیں
ہم وہ ماضی ہیں کہ جس کا کوئی آئندہ نہیں

دھڑکنیں گنگ، زباں بند، نگاہیں خاموش
میں نے سب کچھ ترے آنے پہ اُٹھا رکھا ہے

میں آسماں بناتا ہوں زنداں کی سقف پر
اتنے میں آپ کوئی پرندہ بنائیے

یہ لوگ تو ان دنوں بھی ناخوش تھے شہریارا!
کہ جن دنوں میرے پاس جادو کی اک چھڑی تھی

تُو بھی شاید تلاش کر نہ سکے
بات کوئی مرے لیے، اُس میں

میں قتل گاہ میں تنہا بھی ہوں تو لشکر ہوں
مرے لہو میں صف آرأ ہیں سب مرے اجداد

میرا سینہ ہی نہیں خلوتِ خاموشیٔ درد
میرے باہر بھی یہ ہنگامہ بپا رہتاہے

وہ مرگیا، صدائے نوحہ گر میں کتنی دیر ہے
کہ سانحہ تو ہو چکا، خبر میں کتنی دیر ہے

ہمارے شہر کی روایتوں میں ایک یہ بھی تھا
دعا سے قبل پوچھنا اثر میں کتنی دیر ہے

اے چراغِ طاقِ جاناں! اے ہوائے کوئےدوست
اپنی کیفیت ذرا ہم پر بھی طاری کیجیے

دشت کا حافظہ ہوں میں اور مری بساط میں
ابر کہاں کہ ابر کی کوئی مثال بھی نہیں

ٹوٹنے دیتا نہیں اپنے سفر کا نشہ
کہیں رُک جاؤں تو میں ریگِ رواں دیکھتا ہوں

ندامتیں اسے آوارہ کر گئیں احمد
وہ قتل گاہ سے نکلا تو گھر نہیں آیا

پانی پہ اپنی پیاس جو مضموں کروں ہوں میں
دریا کا حال اور دگرگوں کروں ہوں میں

شہریار اس شخص سے کہنا کہ اب کی شام وہ
جلد مر جائے کہ اس کا نوحہ گر آنے کو ہے

یا مرے سر پہ کھلے دشت میں سایہ کردے
یا یہ دیوار کا احساں بھی مرے سر سے اٹھا

خوشا وہ شعر، وہ تصویریں، وہ خطوط کہ جو
لبوں کے لمس سے شہکار کر دیےگئےہیں

وہ خموشی ہے کہ اب مشقِ سماعت کے لیے
ہم تجھے بھی تری تصویر میں ڈھالے ہوئے ہیں

تجھ سے ملنے کا ارادہ تو نہیں تھا لیکن
جانے کیا سوچ کے میں اپنے برابر سے اٹھا

اس قدر دامنِ دل کھینچ نہ مجھ سے کہ مجھے
اہلِ دنیا کی طرف ہاتھ بڑھانا پڑ جائے

شاخِ شجر کو دیکھ کے لگتا ہے شہریار
دستِ بلند ہے یہ کسی داد خواہ کا

شاید کوئی دل خستہ مسافر ہی چلا آئے
گرتی ہوئی دیوار! تسلی کوئی دم رکھ

راستے جاتے ہیں جو کوچۂ قاتل کی طرف
گوشہ گیرانِ محبت کے نکالے ہوئے ہیں

پہاڑ مہر بہ لب ہیں، شجر حجر خاموش
چلو، یہ بارِ امانت بھی ہم اٹھاتے ہیں

سرِ صحرا مری آنکھوں کا تلاطم جاگا
موجۂ ریگ نے سرشار کِیا پانی کو

تُو مرے سامنے رہا، میں ترے سامنے، مگر
تُو مرے انتظار میں، میں ترے انتظار میں

ارض و سما بنا چکا، لو میں جہاں سے جاچکا
نقص نکالتے رہو اب مرے شاہکار میں

تری تلاش میں، تو جانتا نہیں لیکن
جدھر گئی مری وحشت، اُدھر گیا صحرا

تمام عمر نہ منظر کھلا نہ پس منظر
کہ دیکھنے کے لیے دیکھتا رہا ہوں میں

زندگی سے ڈرے ہوئے بچے
تتلیوں سے کہاں بہلتے ہیں

زندگی ہے کہ کوئی پیڑ سرِ دشتِ خزاں
شام ہوتے ہی پرندوں کو پکارے جیسے

ہم پہ ہی ختم نہیں سلسلۂ کارِ جنوں
ابھی آئیں گے بہت لوگ ہمارے جیسے

شامِ ملاقات اک دھوکا تھی، اب جاکر معلوم ہوا
تم خود اپنے سامنے بیٹھے، میں خود اپنے برابر میں

چشمِ حیراں! یہ وہی لمحۂ بینائی ہے
اب تجھے اپنے سِوا کچھ نظر آنے کا نہیں

صفحۂ دہر سے مٹ جاتا میں کب کا لیکن
کچھ خیالوں نے مجھے خواب نہیں ہونے دیا

لہو کے شور سے لے کر نگاہ کی چپ تک
ہر ایک بات فسانہ ہوئ ہے رات کےساتھ

تاریخِ ہجر تازہ روایت تلک نہ جائے
آنسو کی طرح دوش سے سر بھی ڈھلک نہ جائے

اپنی یادوں کو بلکتے ہوئےبچے کی طرح
چیختا چھوڑ دیا ہے مرے اندر اُس نے

میں جانتا ہوں کہ نزدیک ہے سکوتِ خیال
سو ان دنوں مجھے وہ نشۂ سخن ہے کہ بس

(2) ووٹ وصول ہوئے

: مضامین سےمتعلقہ شعراء