بند کریں
شاعری مضامینمضامینثمینہ راجا ۔۔۔ ایک سچی شاعرہ

مضامین کے مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ثمینہ راجا ۔۔۔ ایک سچی شاعرہ
ثمینہ راجا کی شاعری پر عاصمہ طاہر کی ایک عمدہ تحریر
ثمینہ راجا۔۔۔۔ ایک سچی شاعرہ تحریر ۔ عاصمہ طاہر میں ثمینہ راجا کی وفات کے اگلے ہی روز کچھ لکھنا چاہتی تھی‘ کوشش بھی کی مگر قلم کاغذ پر اترتا ہی نہیں تھا گویا یقین ہی نہیں آتا تھا کہ وہ ہم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئی ہے۔ وہ خواب دیکھتی رہی اوروہ بھی گہرے خواب۔ وہ خوابوں میں ان ستاروں کی متلاشی تھی جو انکی روح میں سما چکے تھے۔ وہ خوابوں کی دنیا میں رہتی تھی گویا وہ اس دنیا سے کچھ بجھی بجھی سی تھی پھر وہ خواب دیکھتے دیکھتے خود ہی خواب و خیال ہو گئی۔ ایک مفکر کے مطابق خواب دیکھنے والا ہمیشہ تنہا رہتا ہے جبکہ خوابوں کے بغیر حقیقت کا تصور نا ممکن ہے اور کسی کام کو کرنے کے لیے اس کا خواب دیکھنا ضروری ہے۔تاہم خواب یوں دیکھنے چاہئیں جیسے ہم نے سدا زندہ رہنا ہے اور زندگی یوں گزاریں جیسے کل مر جانا ہے۔ ثمینہ راجا خود اپنے خوابوں کو کچھ یوں سمجھتی تھی گھر میں اگر ہے کچھ کمی رامش و رنگ و نور کی خانہء خواب دیکھیے‘ کیسا سجا ہوا ملا پروں پہ لے کے ہمیں جائے گا کچھ آگے بھی ابھی یہ خواب‘ زمان و مکاں سے الجھا ہے شوق و مراد کا سفر تھا مری خواب تک مگر راستہ دے دیا گیا ہجر کو خواب گاہ تک دور کہیں کھلا ہوا خواب تھا مر غزار میں دیر تلک چلے تھے ہم نیند کے شاخسار میں ہم کسی چشمِ فسوں ساز میں رکھے ہوئے ہیں خواب ہیں خواب کے انداز میں رکھے ہوئے ہیں خواتین کے حقوق کی ترجمان ثمینہ راجا ایک مصنفہ\' شاعرہ‘ مدیرہ‘ مترجم اور ایک ماہر تعلیم بھی تھی۔وہ 11 ستمبر1961 کو رحیم یار خان میں پیدا ہوئی ۔اس نے اردو ادب میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر رکھی تھی۔وہ نیشنل لینگویج آتھارٹی میں سبجیکٹ سپیشلسٹ تھی۔ اس نے نیشنل بک فاؤنڈیشن میں بھی شمولیت اختیار کی۔ اس نے شاعری کا آغاز 1973 میں کیا۔ اس نے پندرہ کتب لکھیں جن میں اس عظیم شاعرہ نے شاعری اور نثر دونوں کا احاطہ کیا۔ جن میں دو کلیات اور ایک رومانوی شاعری کا مجموعہ تھا۔ وہ1998 میں ماہنامہ ’کتاب ‘ کی ایڈیٹر رہی۔ اس نے 1998 میں ماہنامہ ’آثار ‘ میں بھی کام کیا۔ وہ پی ٹی وی پر 1995 سے’آل پاکستان مشاعرہ‘ کے پروگرام کی میزبانی کرتی رہی۔ ثمینہ راجا دنیائے ادب کا ایک بڑا نام ہے ۔پاکستان ٹیلی وژن پر انکا ایک پروگرام ’’اردو ادب میں خواتین کا کردار‘‘ نشر ہوتا رہا ۔ جس میں وہ خواتین کے حقوق کے لیے اپنی آواز بلند کرتی سنائی دی ۔ وہ کئی ادبی رسالوں کی مدیر بھی رہ چکی ہے۔ ثمینہ راجا کینسر کی مریضہ تھی ۔ وہ اپنی زندگی کی صرف51 بہاریں ہی دیکھ سکی اور 30 اکتوبر کی شام دنیا ئے فانی سے رخصت ہو گئی اور اپنے چاہنے والوں کو غمگین چھوڑ گئی۔انکی وفات کی خبر نے ادبی حلقوں میں سکتہ ساطاری کر دیا ۔اس خبر کو سنتے ہی کافی دیر تک میں بھی ڈپریشن سے باہر نہ آ سکی۔ وہ خود تو اس ہنگامہ خیز دنیا سے ہمیشہ کے لیے امن و سکون کی نیند سو گئی مگر ہمیں اتنا بے چین کر گئی کہ مدتوں ہمارے دل میں اسکی یاد رہے گی۔ ایسے لوگ کبھی مرا نہیں کرتے۔ انکی تخلیقی صلاحیتیں انہیں زندگی میں بھی ایک بڑا مقام بخشتی ہیں اور بعدِ وصال بھی انہیں زندہ جاوید رکھتی ہیں۔ جب انسان کے اندر بصیرت کی روشنی ہو تو وہ اندھیروں میں بھی اپنے لیے رستہ تلاش کر لیتا ہے۔ چاہے کتنے ہی طوفان‘ تند و تیز آندھیاں اسکا رستہ روکیں۔اگر اسکا عزم پختہ اور پر زور ہے تو وہ ہر رکاوٹ عبور کر سکتا ہے سوا ئے موت کے۔ وہ موت جس کے آگے عظیم ترین ہستیوں کو سر جھکانا پڑے جس کے آگے خواب ‘ مقاصد ‘ جوش و لولے کچھ معنی نہیں رکھتے۔ بقول ڈی۔ایچ۔ لارینس‘ اس دنیا میں آنا جانا تو لگا رہے گا تاہم ہم موت کے ساتھ جنگ نہیں کر سکتے۔ ثمینہ راجا اپنے پیچھے لفظوں کے جو چراغ جلا گئی ہے انکی کرنوں سے ادبی دنیا میں ہمیشہ روشنی رہے گی۔ اسکی زندگی غمو ں کی آماجگاہ ہی بنی رہی۔ اسے اپنے خونی رشتوں سے دوری کا جو قر ب سہنا پڑا وہ اسکا اظہار کئی بار اپنی شاعری میں بھی کر تی رہی۔ اسے اپنی آواز کو آزادیء پرواز دینے کے لیے اپنے کتنے ہی عزیزوں کے بدلتے ہوئے تلخ لہجوں کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر اسکے دل ودماغ کی روشنی کو باہر آنا تھا اور وہ آ کے رہی ۔ وہ جدید شاعری کو کلاسیکل شاعری کے انداز میں لکھتی رہی۔ اسکی شاعری میں فطری تازگی پائی جاتی ہے۔ وہ شاعری کے جملہ محاسن سے پوری طرح واقف تھی۔ اسے اس فن پر پورا عبور حاصل تھا۔اس نے امتیازی طرز و وزن استعمال کرتے ہوئے اپنے خیالات و احساسات کا مخصوص شدت کے ساتھ اظہار کیا۔ بقول احمد ندیم قاسمی ’’ وہ اپنی شاعری کی کڑی نقاد ہیں اور ضرورت سے زیادہ آواز بلند نہیں کرتیں‘‘۔ جہاں اتنے لکھنے والے موجود ہوں وہاں اپنا ایک علیحدہ تشخص قائم کرنا خاصہ مشکل امر ہے مگر ثمینہ راجا کا شمار عظیم شعرا کی فہرست میں بڑا نمایاں ہے۔اسکی شاعری میں پوری کائنات کی خوشبو سمائی ہوئی ہے۔اسکی شاعری میں نسوانیت ‘ انسانی محبت ‘ خواہشات ‘ ماضی پرستی‘تنہائی‘ نئے دور کے سماجی و نفسیاتی مسائل اور دیو مالائی قسم کے موضوع بہت نمایاں رہے۔لفظ’ خواب‘نیند‘ آرزو‘ ستارہ ‘ماہتاب‘ فلک‘چراغ‘باغ‘دشت ‘اسکی شاعری کا کئی بار حصہ بنتے رہے۔وہ شعر کہتی رہی اور کتابیں لکھتی رہی۔۔ہم تک اسکی کتابوں کے مجموعے پہنچتے رہے۔۔اسکا ایک ایک مصرعہ اسکے درد‘ تنہائی اور غموں کی زبان ہے۔ اس کا شعر کہنے کا اپنا ہی انداز تھا میں صرف جسم ہی نہیں ایک زندہ روح بھی ہوں خدا کے بعد سمیع و بصیر ہوں میں بھی وہ خود کو خدا سمجھ رہا تھا میں اپنے حضور میں کھڑی تھی ملال کوئی نہ تھا پر رہے خوشی کے بغیر جیے تو ہم بھی مگر جیسے زندگی کے بغیر ہم تو ہیں آبِ زرِ عشق سے لکھے ہوئے حرف بیش قیمت ہیں‘ بہت راز میں رکھے ہوئے ہیں آگ جیسی کوئی حیرت ناک شے دل کے نہاں خانوں میں جلتی رہی ہے وہ اپنی ذات جسے وہ ایک خالی مکان سمجھتی تھی میں موجود حیرانیوں کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے ظاہر کرتی رہی اور ابھی کئی مزید حیرانیوں کا اظہار باقی تھا کہ موت کا بلاوہ آ پہنچا۔۔۔ میں اپنا ایک شعر اسکی نزر کرتی ہوں۔۔ چھپ گئے ہیں تمام نغمہ سرا شام کی آنکھ میں اداسی ہے یہاں مجھے معروف امریکی شاعرہ ایملی ڈِکنسن یاد آ گئی‘ جس نے اپنی نظم ’Because I Could Not Stop For Death میں لکھا ہے کہ ہمیں تو فرصت ہی نہیں کہ ہم کبھی موت کو بھی اپنے ذہن میں لے آئیں مگر موت کو ہماری کتنی فکر رہتی ہے ۔ وہ جب بھی آتی ہے خود ہی آتی ہے اور اس کے آنے کے بعد ہمیں اسکا احساس ہوتا ہے۔ ڈِکنسن بھی ثمینہ راجا کی طرح اپنے کام میں مصروف تھی کہ موت نے اچانک دروازے پر دستک دی اور کہا کہ آؤ میرے ساتھ چلو ‘میں موت ہوں‘ میرے پاس وقت بہت کم ہے۔ ڈِکنسن نے بحث نہیں کی اور موت کی بگھی پر سوار ہو گئی ۔ یہی معاملہ کچھ ثمینہ راجا کے ساتھ ہوا۔ ثمینہ راجا ہم سے بہت جلد بچھڑ گئی ۔ انکی وفات ادبی دنیا میں ایک بہت بڑا المیہ ثابت ہوئی۔ جانے کیوں ایسے سچے‘ اچھے لوگ بہت تیزی کے ساتھ ہماری محفلوں سے ر خصت ہوتے جاتے ہیں۔ہاں پھر مجھے ایک معروف انگریزی شاعر فرانسس تھامسن یاد آ گیا جس نے اپنی شہرہ آفاق نظم ’ڈیزی‘ میں کچھ ایسا ہی سماں باندھا ہے۔وہ لکھتا ہے کہ نفیس ترین چیزیں دنیا سے جلدی کوچ کر جاتی ہیں۔مگر ہوا کا ہر جھونکا انکی یاد دلاتا رہتا ہے۔ نہ جانے کیوں ثمینہ راجا بھی مجھے تھامسن کی’ ڈیزی روح‘ جیسی لگی۔ The fairest things has fleetest end Their scent survives their close ; But the roses scent is bitterness For those who loved the rose. احمد ندیم قاسمی کی نظر میں ’’اوزان و بحور پر مکمل گرفت ‘ خوبصورت ترین آہنگ‘ شدید حساسیت ‘ انکی شاعری کے نمایاں اوصاف ہیں۔ یہی سبب ہے کہ انکی تمام تر تخلیقات جادو کا سا اثر رکھتی ہیں اور ان میں روحِ عصرکی دھڑکن صاف طور پر سنائی دیتی ہے‘‘۔ انکی اس غزل میں اس سند کا منہ بولتا ثبوت موجود ہے محفلِ شعر کیا سجی ہے ابھی خامشی گنگنا اٹھی ہے ابھی ایسا لگتا ہے میرے ساتھ وہ شام راستے میں تیرے کھڑی ہے ابھی شاخِ لرزاں پہ چاند اترا ہے باغ میں روشنی ہوئی ہے ابھی جاتے جاتے‘ دیے کی لو پہ ہوا ایک پل کے لیے رکی ہے ابھی ڈھل چکا عشق ‘بجھ گیا سورج صحن میں دھوپ آ رہی ہے ابھی پھول مرجھا رہے ہیں پیکنگ میں پھر بھی خوشبو سی پھیلتی ہے ابھی ساری باتیں سنا کے بھی اک بات اسکی آنکھوں میں ان کہی ہے ابھی شہر کی نبض پر ہے ہاتھ اسکا دھڑکنیں موت گن رہی ہے ابھی احمد فرازکی نظر میں’’ثمینہ اس وقت شاعری کی اس منزل پر ہیں جہاں آدمی مدتوں کی صحرہ نوردی کے بعد پہنچتا ہے ۔ وہ نظم اور غزل دونوں میں اتنی خوبصورت شاعری کر رہی ہیں کہ آج انگلیوں پر گنے جانے والے گنتی کے شاعروں میں انکا شمار ہوتا ہے۔ شاعری بہت مشکل چیز بھی ہے اوربہت آسان بھی۔ آسان اس لیئے کہ آپکو ہر طرف بیشمار شاعر نظر آئیں گے مگر مشکل اس وقت ہو جاتی ہے جب اتنی بڑی تعداد میں لکھنے والی مخلوق موجود ہو اور ا س میں اپنا ایک الگ تشخص اور قدو قامت قائم کیا جائے اور اس میں ثمینہ کو نہ صرف کامیابی ہوئی ہے بلکہ وہ ان سب سے آگے نظر آتی ہے۔ شاعری کے علاوہ ان میں ایک اور صف بھی ہے کہ کئی ادبی رسائل کی مدیر ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان ہی کی وجہ سے ان رسائل کا وقار بلند ہوا ہے \"۔ ان اشعار کی چاشنی ثابت کرتی ہے کہ احمد فراز نے ثمینہ کو لفظوں کا یہ ایوارڈ درست نوازا تھا اک حسرتِ آب ہو گئی ہوں میں خود ہی سراب ہو گئی ہوں لکھی ہوں اک اجنبی زباں میں ہونے کو کتاب ہو گئی ہوں اک خواب میں جی رہی تھی اب تک سو خواب ہی خواب ہو گئی ہوں تھا کتنا سجا ہوا یہ چہرہ اور کیسی خراب ہو گئی ہوں گنتا جو رہا وہ مجھ کو ہر پل بے حد و حساب ہو گئی ہوں گوہر تھی کبھی دلِ صدف میں اب نقش بر آب ہو ئی ہوں کرتی تھی سوال زندگی سے اب اپنا جواب ہو گئی ہوں تو بیٹھ کنارِ عشق ‘ میں تو سوہنی کا چناب ہو گئی ہوں اب توڑ لیا چمن سے رشتہ جنگل کا گلاب ہو گئی ہو ں ثمینہ راجاکی تصانیف ہویدا(1995), شہرِ صبا(1997), اور وصال (1998), خوابنائے (نظمیں)(1998), باغِ شب (1999), بازدید(2000), ہفت آسمان(2001), پری خانہ(2002), عدن کے راستے پر (2003), دل لیلہ (2004), عشق آباد (2006), ہجر نامہ 2008) ان کے کلیات کتابِ خواب (2004), کتابِ جان (2005 شاعری کا مجموعہ وہ شام ذرا سی گہری تھی انہوں نے کچھ کتب کے نثری ترجمے بھی کیے جن میں’’ شرق شناسی‘‘(2005) اور’’برطانوی ہند کا مستقبل‘‘(2007) شامل ہیں۔ وہ چار رسالوں’’ مستقبل‘‘(1991-1994)‘ ’’کتاب‘‘(1998-2005)‘ ’’آثار‘‘(1998-2004)اور’’ خواب گر‘‘(2008) کی مدیر رہ چکی تھیں۔ ثمینہ راجا کی ایک اور نمایاں پیشکش میں سیہ رات کے سفر پر ہوں ایک قندیل یادِ جاناں کی ہاتھ میں ہے مگر ہوا ہے تیز میں تو اک بات کے سفر پر ہوں جو کسی کنجِ لب سے پھوٹی تھی اور میری تمام عمر کو ایک دشتِ پر خار میں دھکیل گئی ساری صحبتیں اسی کے نام ہوئیں ساری فتحیں اسی کے نام ہوئیں میں فقط مات کے سفر پر ہوں میں تو اک بات کے سفر پر ہوں جب وہ’’ زمین کیوں بنائی‘‘ پر طبع آزمائی کرتی ہے تو وہ جیمز جینز کے فلکیاتی فلسفے کی ترجمان محسوس ہوتی ہے۔ وہ لا محدود ستاروں ‘ کہکشاؤں گویا کائنات کی وسعتوں میں پرواز کرتی نظر آتی ہے۔ یوں اس پر ایک عظیم محقق ہونے کا گمان ہوتا ہے۔ یہ ثمینہ راجا ہی کی معراج ہے کہ وہ کائنات کے رازوں تک رسائی کی متلاشی ہے۔ اندھیرے اور روشنی کی پہچان ہو ‘ برف ہو یا آگ ‘ اسحاق نیوٹن کی کششِ ثقل کا حوالہ ہو ‘ پہاڑوں یا سمندروں کا ذکر ہو ‘ مرغزار ہوں یا جنگلات ‘ فطرت کے لا شعور پرندے ہوں‘ سمندری مخلوقات ہوں یا چارلس ڈارون کا نظریہ ارتقاء ہو جس میں وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ چھوٹی مخلوقات دیو ہیکل جانوروں کی لذیز خوراک ثابت ہوتی ہیں۔ یوں وہ ایک سیاست دان بلکہ مدبر کے روپ میں جماعتی امتیازات کے خلاف نعرہ احتجاج بلند کرتی دکھا ئی دیتی ہے تو وہ ایک لمحے کے لیے اگر ماؤ زے تنگ یا کارل مارکس نہیں تو وہ کم از کم برٹرینڈ رسل ضرور نظر آتی ہے۔ بے شک ثمینہ ایک جوان سال شاعرہ تھی ۔ اسکی اچانک وفات کی جیسے اس نے خود ہی اپنی نظم’ ’سمندر کی جانب سے آتی ہوا میں لہو کی مہک ہے‘ ‘ میں اپنی وفات کی پیشگوئی کر رکھی تھی۔یوں ہمیں انگریزی ادب کا سب سے بڑا رومانوی شاعر جان کیٹس(وہ 24سال کی عمر میں وفات پا گیا) یاد آ جاتا ہے جس نے اپنی نظم \"When I Have Fears\" میں بھی اپنی موت کے خدشات کا تذکرہ کر دیا تھا۔ عجب اس زمیں کی فضا عجب آ ج رنگِ فلک ہے سمندر کی جانب سے آتی ہوا میں لہو کی مہک ہے ثمینہ راجا بلا شبہ ایک ترقی پسند شاعرہ تھی ۔ وہ معاشرے کے ظلم و ستم کے خلاف اظہارِ خیال کرتی ہے۔ وہ اپنے الفاظ کے ذریعے سچ کو ٹٹولتی ہے۔ اپنی ایک اور نظم’ ’ایک آرزو‘‘ میں وہ پھر بلندیوں کی پرواز میں مگن ہے ۔ بحر و بر‘ زندگی موت اور دشت و در کی خوب عکاسی کرتی ہے۔ اسکی نظم’ ’ یہ زندگی‘ ‘ میں اسکی شامِ انتظار‘ ملال کے دبیز سائے ‘ ہوا کی نیلی موج کے کنارے ‘ سرمگیں سیاہیوں کی چادریں‘ ہزاروں ننھی تتلیاں ہمیں بھلا کہاں بھولیں گی۔ یہ زندگی جمالِ آرزو کا کوئی سبز باغ تو نہیں یہ زندگی کسی طلسمِ نور کا کوئی سراغ تو نہیں اسکی نظم ’ ’سرد شام کی آنکھیں‘‘ میں ہمیں گمشدہ اجالوں ‘ شوق کی زمینیں ‘ سہم ناک پیڑ ‘ یادوں کے دریچے‘ بے کراں خاموشی اور بے نشاں اداسی سدا یاد رہیں گی۔ سانولے اجالے میں ہر گھڑی پہ پہرا تھا بھیگے بھیگے رستوں میں سرمئی فضاؤں میں ان سیہ درختوں میں زرد رنگ گہرا تھا ثمینہ راجا کی’’ خواہش ‘‘میں پگھلتی شمع ‘ دل میں جلتی آگ ‘ جھلستا بدن‘ نیا شباب ‘ خواہشِ وصال اپنی مثال آ پ ہے۔ بدن پر ایک نیا نیا شباب ہو ہے تن پہ آرزو کا جال زخم زخم دل میں خواہشِ وصال اور آ خر میں اسکی ’’رفیق‘‘ میں گُلِ زرد کی بیل‘ منتظر آنکھ‘ پردوں میں انگڑائی ‘منجمد اشک‘ دل میں اتر جاتے ہیں

(3) ووٹ وصول ہوئے

: مضامین سےمتعلقہ شعراء