بند کریں
شاعری مضامینمضامیناداسی کا خا لق ۔ابرار احمد۔ از ۔فہیم جوزی (معروف شاعر، نقاد و براڈ کا سٹر

مضامین کے مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
اداسی کا خا لق ۔ابرار احمد۔ از ۔فہیم جوزی (معروف شاعر، نقاد و براڈ کا سٹر
ابرار احمد کی شاعری پر فہیم جوزی کی ایک خوبصورت تحریر

ڈاکٹر ابرار احمد کی نظموں اور غزلوں کے مطالعے کے دوران میرا ذہن ایک گہری اداسی میں ڈوب گیا۔ تب میں نے خود سے یہ سوال کیا، کہ یہ کیسی اداسی ہے؟ کیا یہ ایسی اداسی ہے، جو کسی شے کے گم ہو جانے پر ہوتی ہے ؟ نہیں ، اسے تو " ملال " کہتے ہیں ! کیا یہ ایسی اداسی ہے، جو کسی محبوب کے ملنے یا نہ ملنے کی تڑپ کا نتیجہ ہوتی ہے ؟ نہیں ، اسے تو " اضطراب " کہتے ہیں ۔ کیا یہ ایسی اداسی ہے، جو کسی آنے والے لمحے میں توقع سے وابستہ ہے ؟ نہیں ، اسے تو "آرزو " کہتے ہیں ! کیا یہ ایسی اداسی ہے، جو کسی خواب کی تکمیل چاہتی ہے ؟ نہیں، اسے تو " تمنا " کہتے ہیں۔ نہیں، یہ تو کچھ اور ہی طرح کی اداسی تھی۔یہ کچھ ایسی اداسی تھی جو پت جھڑ میں خشک پتوں پر چلتے چلتے چھا جاتی ہے، جو گرمیوں کی زرد دوپہروں میں اچانک گھیرلیتی ہے، جو پانیوں کے ساتھ ساتھ چلتےتعاقب کرتی ہے۔ ان ہی لمحات میں میرا ذہن کسی نظم کے اشعار گنگنانے لگتا ہے۔
تو میں اسے " تخلیقی اداسی " کا نام کیوں نہ دے دوں۔ ہاں ایسا ہی ہے۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ڈاکٹر ابرار احمد نے اپنی نظموں اور غزلوں میں اسی " تخلیقی اداسی " کو مختلف پیرائے میں ، مختلف انداز میں اورمختلف زاوئے سے متشکل کیا ہے۔ اداسی ایک کیفیت ہے۔ اس کا اظہار کرنا اور اسے تخلیق کرنا دو مختلف عمل ہیں۔ ڈاکٹر ابرار احمداداسی تخلیق کرتا ہے ۔ دنیا بھر کے ادب میں ایسی مثالیں خال خال ہی ملتی ہیں جن میں وجود کی کسی خاص کیفیت کو تخلیق کیا گیا ہو۔ ڈاکٹر ابرار احمد ایک ایسے ہی خلاق، ذہین اور باریک بین شاعر ہیں جن کا شمار ایسے ہی فنکاروں میں کیا جانا چاہیے۔

اس "تخلیقی اداسی "کی نوعیت کیا ہے ؟ یہ ایک بنیادی سوال ہے ۔ اس سوال کا جواب ہمیں اس تجربے کا تجزیہ کرنے سے حاصل ہو سکتا ہے جو اس کیفیت کو ہمارے وجود میں بیدار کرنے کا موجب ہوتا ہے ۔ دور کیوں جایئے ، ڈاکٹر ابرار احمد کی شاعری میں سے چند مصرعے، کوئی بھی مصرعے ، کہیں سے بھی چن لیجئے۔۔۔۔۔۔۔

"ہم لوٹیں گے تیری جانب

اور دیکھیں گے تیری بوڑھی اینٹوں کو

عمروں کے رتجگے سے دکھتی آنکھوں کے سا تھ

اونچے نیچے مکانوں میں گھیرے ، گزشتہ کے گڑھے میں

ایک بار پھر گرنے کے لئے

لمبی تان کر سونے کے لئے

ہم آئیں گے

تیرے مضافات میں مٹی ہونے کے لئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 ان مصرعوں کے لہجے میں نہ تو ذات کا نوحہ ہے، نہ ہی کسی ہجر کا کرب اور نہ ہی سماجی روائتوں کے خلاف کوئی احتجاج۔ لیکن ان مصرعوں کی استعاراتی ہائرارکی میں ایک ایسی زندگی کی تصویر کشی کی گئی ہے جو اپنے ہونے کے روگ میں مبتلا ہے۔ یہ زندگی نہ تو شاعر کی اپنی ذات ہے یا کوئی افسانہ دیگر ! یہ زندگی ہے ۔ جو اپنی تجرید خود ہے ۔اور جو معدومیت کے سفر میں ہے۔ در حقیقت معدومیت کااحساس ہیاس گہری اداسی کو جنم دیتا ہے جو وجود کو تخلیقی عمل سے بہرہ ور کرتا ہے۔ معدومیت وجودکا جوہر ہے۔ جب تک اس سے آنکھیں چرائے پھرتے ہیں، ہم خود کو ملال ، حسرت،اضطراب اور خواہش کے دھاروں میں بہتا ہوا محسوس کرتے ہیں، لیکن جونہی کسی مصدقہ عمل کی کوئی باغی لہر ہمیں زندگی کی معدومیت میں دھکیل دیتی ہےتو ہم ایک تخلیقی اداسی سے سرشار ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹر ابرار احمد کے نازک نازک مصرعے اسی جدلیاتی عمل کو پیش کرتے ہیں۔

 ہم کئی ہزار سال سے کائنات کو مسخر کرنے کے فکری ہیجان میں مبتلا ہوکر یہ حقیقت فراموش کر چکے ہیں کہ ہم کائنات سے علیحدہ کوئی وجود دیگر نہیں بلکہ کائنات کا حصہ ہیں۔ ایک ایسی کائنات جو معدومیت سے وجود میں آئی ۔ یہی معدومیت ایک ایسی کشش ہے جس کی بنا پر کائنات خود کو مسلسل تخلیق کر رہی ہے۔ معدومیت تقاضہ کرتی ہے کہ تخلیقی عمل کے ذریعے اسے وجودیت سے آراستہ کیا جائے۔ ڈاکٹر ابرار احمد کی شاعری ہمیں اسی معدومیت کا احساس دلاتی ہے۔یہ ہمیں کائنات میں دوبارہ ضم ہونے کی صلاحیت عطا کرتی ہے۔ مجھے محسوس ہوتا ہےجیسے کائنات ڈاکٹر ابرار احمد کی شاعری میں دھڑک رہی ہے۔

 زندگی کا سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ یہ بے معنی ہونے کے باوجود ایک ایسی جستجو میں مصروف رہتی ہے جس کا جوہر لاحاصلیت ہے، لیکن اسی جستجو کے نتیجے میں یہ ہمیں تخلیقی تجربے سے سرشار بھی کرتی ہے۔ ڈاکٹر ابرار احمدکی شاعری اسی سرشاری کی تمثیل ہے۔ ان کے چند مصرعے دیکھیے۔۔۔۔۔۔۔

ابھی ابھی وہ یہیں تھا اور اب کہیں نہیں ہے

وہ خواب نہیں تھا

مجھے یاد ہے

جب میں نے اس کاخواب دیکھنا شروع کیا

میں اسے دیکھ چکا تھا

 ڈاکٹر ابرار احمد کی غزلیں بھی ان کی نظموں کی طرح ایک کھوج، گم سم سوچ، اور لاحاصلیت کے سفر کی کیفیت کو پیش کرتی ہیں۔ ذرا ان کے قوافی اور ردیفوں کو دیکھیے۔۔۔۔۔

 " کہاں کوئی ہے

جہاں کوئی ہے "

 " حوصلہ رہے نہ رہے

رابطہ رہے نہ رہے ۔


 یہ مطلع ملاحظہ کیجئے۔ "

 کوئی سرشاری سی سرشاری ہے

نیند بھی علم بیداری ہے

 
۔ ایک اور مطلع دیکھئے۔

 
ہمارے بیچ اگرچہ رہا نہیں کچھ بھی

مگر یہ دل ہے ابھی مانتا نہیں کچھ بھی۔ "

 یہ غزلیں بھی ان کی نظموں کی طرح یکتا اور منفرد اسلوب کی حامل ہیں۔ اور اسی تخلیقی اداسی کی غماز ہیں جو ان کی نظموں کا خاصہ ہے۔

ڈاکٹر ابرار احمد کی شاعری ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم نے سماجی حقیقت نگاری کا روپ اختیار کرکے اپنے دماغ کے خلیوں کو غیض و غضب کی لپٹوں سے تابناک تو کیا اور اس حوالے سے لاجواب خامہ فرسائی بھی کی، لیکن اس کے دام یوں چکائے کہ بھگت کبیر کے گریہ، میر تقی میر کی کوملتا اور با با بلھے شاہ کے جذب کو فرا موش کر دیا۔

مجھے محسوس ہوتا ہے کہ جوں جوں اردو ادب کی وسعت، کائنات کی بسیط تنہائیوں کی طرح پھیلتی چلی جائے گی، ڈاکٹر ابرار احمد کی شاعری کا جادو قارئین کے تخلیقی عمل میں نئے نئے رنگ، نئے نئے زاوئیے اور نئے نئے گلزار پیدا کرتا چلا جائے گا۔

(1) ووٹ وصول ہوئے

: مضامین سےمتعلقہ شعراء