بند کریں
شاعری مضامینانتخاب ادب نامہ کی طرف سے فیاض اسود کی شاعری سےانتخاب

انتخاب کے مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ادب نامہ کی طرف سے فیاض اسود کی شاعری سےانتخاب
سرگودھا سے تعلق رکھنے والے نوجوان شاعر جناب فیاض اسود جنہوں نے حال ہی میں انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور سے ڈگری حاصل کی۔ آجکل روزگار کے سلسلے میں فیصل آباد میں مقیم ہیں اور نیشنل لوجیسٹک سیل ۔۔۔این ایل سی ۔۔۔ میں سائٹ انجینئر کے طور پر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

سرگودھا سے تعلق رکھنے والے نوجوان شاعر جناب فیاض اسود جنہوں نے حال ہی میں انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور سے ڈگری حاصل کی۔ آجکل روزگار کے سلسلے میں فیصل آباد میں مقیم ہیں اور نیشنل لوجیسٹک سیل ۔۔۔این ایل سی ۔۔۔ میں سائٹ انجینئر کے طور پر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
ان کے کلام سے ایک نظم اور غزلوں سے چند اشعار احباب کی خدمت میں پیش کیے جا رہے ہیں۔

نظم
(رونگ نمبر)
قریباََ دو بجے کل شب
کسی یوفون کے نمبر سے
اک مِس کال آتی ہے
تو پھر جب میں اُسی نمبر پہ واپس
کال کر کے پوچھتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "کون؟"
مجھ کو سسکیاں لیتی ہوئی
اِک آشنا آواز کہتی ہے کہ
"سوری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔رونگ نمبر ہے"
-----------------------------

جنہیں اک دوسرے کی تھی ضرورت
وہ سب اک دوسرے کے ہو گئے ہیں
کسی کا جسم نیلا پڑ گیا ہے
کسی کے ہاتھ پیلے ہو گئے ہیں
-----------------------------
کب کہا تُو ساتھ میرے خودکشی کر
ڈوبتا ہوں اور تو منظر کشی کر
--------------------------
تیرا معیار گرانا بھی نہیں ہے ہم نے
اور اپنے بھی برابر نہیں ہونے دینا
یہی سوچا ہے کہ اب جان چھڑالوں دل سے
اس نے حالات کو بہتر نہیں ہونے دینا
-----------------------------
تذکرہ تیری جُنبشِ لب کا
ہم نہ کرتے تو زلزلے کرتے
کچھ سنور جاتے کوششوں سے ہم
کچھ رعایت یہ حادثے کرتے
-----------------------------
کوئی سِم سِم سُنا کے یہ در کھول دے
اب دُھواں دل سے باہر نہیں آرہا
کب سے نکلا ہوا ہے کسی کھوج میں
چاند اپنی جگہ پر نہیں آرہا
----------------------------
تم تو یوں ہی ہوئے ہو افسردہ
آئینے داغدار ہوتے ہیں
میں ذرا عاجزی میں رہتا ہوں
لوگ سر پر سوار ہوتے ہیں
تیری اس دشمنی کے رشتے سے
ہم ترے رشتہ دار ہوتے ہیں
---------------------------
یار تجھ پر غرور سجتا تھا
تیرے چیرے پہ عاجزی کیا ہے
میں تو قصداَ اداس رہتا ہوں
ورنہ ایسی بھی آپڑی کیا ہے
جل رہا ہوں میں اپنے کمرے میں
تیرے کمرے میں روشنی کیا ہے؟؟
--------------------------
جب میسر تمہی نہیں ہو دوست
پھر میسر کہاں خوشی کے دن
میری راتیں بھی آپ ہی کی ہیں
میرے دن بھی ہیں آپ ہی کے دن
اور کیا ہےہمارے ماضی میں
کچھ اگر ہے تو یو ای ٹی کے دن
باغ تھا، پھول تھے، محبت تھی
یاد ہے چودہ فروری کے دن؟
اپنے دن تو گزار بیٹھا ہوں
چاہییں اب مجھے کسی کے دن
--------------------------
یا الٰہی مرے سوا جو جلے
آدمی اک نیا بنا جو جلے
وہ بھی کیا دل جو جل کے بجھ جائے
دل تو وہ ہے جگہ جگہ جو جلے
--------------------------
یہ بات ٹھیک ہے صاحب ، ہمیں نہیں ہے پتا
ہمیں نہیں ہے پتا تو ہمیں بتائیں ناں
یہ طے ہوا تھا کہ ہر بات روبرو ہوگی
تہ پھر حجاب یہ کیوں ہے، اِسے ہٹائیں ناں
------------------------------
مرے دل میں ابھی تک خوف باقی ہے
میں دریا پار کر جاتا، کدھر جاتا
فقط اسکی سمندر میں ہی وحشت ہے
جو ساحل پر بھنور جاتا، کدھر جاتا
-------------------------------
تُو جو چاہے تو بدل سکتا ہے قسمت میری
اے خدا! خود سے ہی کُن کہہ کے تُو میرا ہوجا
اس تعلق کو تُو رستے کی رکاوٹ نہ سمجھ
اب کسی اور کا ہونا ہے تو چل جا،ہوجا
-------------------------------
تیرے آگے تو خاک ہے سب کچھ
یاالٰہی مری جبیں کیا ہے
حسن کیا ہے؟ نظر کی شوخی ہے
عشق کیا ہے؟ پتہ نہیں کیا ہے
-------------------------------
وہ سمجھ تو لیں کہ یوں ہے، اںہیں اس سے کیا؟ کہ کیوں ہے
مری آنکھوں کی یہ سُرخی، مرے ہونٹوں کی سیاھی
یہ غضب ہے میری جاں پر، ترا دفعتاَ یہ کہنا
اجی آپ آگئے ہیں ،تھا خیال آپکا ہی
----------------------------
زمانے میں ریاکاری بہت ہے
تمہیں جس کی طرفداری بہت ہے
تمہی کہہ دو جدا ہی کیوں رہیں ہم
کہ تم میں تو سمجھداری بہت ہے
ٹھہر جاتی ہیں نظریں تجھ پہ آکر
وہ کیا ہے نا کہ تُو پیاری بہت ہے
------------------------------
فیاض اسود

(0) ووٹ وصول ہوئے

: مضامین سےمتعلقہ شعراء