بند کریں
شاعری مضامینمضامیناور ڈھنگ سے خواب لکھنے والا شاعر ۔۔۔۔۔ دانیال طریر

مضامین کے مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
اور ڈھنگ سے خواب لکھنے والا شاعر ۔۔۔۔۔ دانیال طریر
تحریر : عادل رضا منصوری

 میں جب بھی کسی کتاب کو پڑھتا ہوں تو میرا مقصد کچھ تلاش کرنا نہیں ہوتا اور نہ ہی اس تخلیق کو کسی طرح کی تحریک سے جوڑنا اور نہ ہی کوئی موازنہ پیدا کرنا اور نہ اس تخلیق کار کو کسی خانۂ مخصوص میں فٹ کرنا۔ کیونکہ میں نقاد نہیں ہوں۔ کسی بھی کتاب کو پڑھتے وقت کچھ نوٹس ضرور بناتا ہوں جو مجھے اس تخلیق کار اور تخلیق کو بہتر طور پر سمجھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں اور ایکReady Recokner کا کام کرتے ہیں اس لیے کبھی اگر کسی پر کچھ لکھا بھی ,جو کہ کم کم ہی ہوتا ہے, وہ کوئی تنقید نہیں صرف ان تاثرات کا اظہار بھرہوتا ہے جو اس کتاب یا فنکار کو پڑھتے ہوئے میں نے محسوس کیے۔ کتاب پر دی ہوئی آرا یا تخلیق کار کی اپنی بات کو سب سے بعد ہی میں پڑھتا ہوں تاکہ یہ جان سکوں کہ جو میں سوچتا ہوں ، کیا اور قابلِ احترام ادیب یا خود تخلیق کار بھی ایسا ہی سوچتا ہے یا نہیں؟ میں یہ بات یقینی طور پر مانتا ہوں کہ کسی بھی تخلیق کار پر اس کے ماحول کا گہرا اثر ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایک وقت میں لکھا جانے والا ادب کم و بیش ایک ہی طرح کا ہوتا ہے یا یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ ایک موٹی موٹی صورتحال سامنے رکھتا ہے۔ تو پھر یہ سوال پیدا ہونا لازمی ہے کہ کسی ایک شاعر یا تخلیق کار پر بات کیوں کی جائے اور دوسرے کو چھوڑا کیوں جائے؟ مگر میرے نزدیک وہ ہر تخلیق کار جو اپنے ہم عصر اور ماضی قریب سے اگر کچھ الگ کرنے کی کوشش کرتا ہے ، چاہے ناکام ہی سہی، قابلِ غور ہی نہیں قابلِ مسرت بھی ہے۔ یہ کچھ الگ کرنے کی روِش ہی اسے کچھ نیا کرنے کی طرف مائل کرتی ہے۔ وہ کراپاتا ہے یا نہیں، یہ دیگر بات ہے کیونکہ عام طور پر ہم لوگ محفوظ راہ پر چلنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ کچھ الگ کرنے کا جوکھم ہر کوئی نہیں اُٹھاتا۔اس لیے میں جب بھی کسی تخلیق کار پر قلم اُٹھاتا ہوں، میری کوشش یہ ضرور رہتی ہے کہ اُن چیزوں کی نشاندہی کروں جو اس کے ہمعصروں کے پاس نہیں ہے، یا وہ اپنے وقت یا ماحول سے کیوں کر الگ ہے اور اگر وہ نہیں ہے تو پھر بات کرنے یا نہ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ کیونکہ اگر سب ایک ہی جیسا کررہے ہیں تو پھر الگ الگ لکھنے یا بولنے سے بہتر ہے ایک ساتھ سب پر بولا جائے اور وہ بھی تب جب وہ سب اپنے ماضی قریب سے کچھ الگ ہوں، ورنہ تو پہلے ہی کہا جاچکا ہوتا ہے۔
اس لیے جب محترمہ سدرہ سحر عمران نے مجھے دانیال طریر کے کلام پر لکھنے کے لیے کہا تو میرا پہلا جواب تھا ’’بِنا پورا پڑھے کچھ کہہ نہیں سکتا کیونکہ جتنا اب تک پڑھا ہے وہ کافی نہیں ہے۔‘‘
پچھلی کچھ دہائیوں کے سرحد پار اور اِس طرف کے ادب پر بات کرتے ہوئے ،میں نے یہ بات پہلے بھی کہی تھی کہ میرے نزدیک جو شدت ، گہرائی ، بے چینی سرحد پار کے ادب میں ملتی ہے، خاص کر نظم میں وہ یہاں نہیں ملتی مگر جو وسعت ، جو تازگی، جو نیاپن یہاں ملتا ہے وہ وہاں نہیں دِکھتا۔ اس کی ایک وجہ دونوں طرف کے سیاسی اور سماجی حالات بھی ہوسکتے ہیں۔ ایک اور بنیادی فرق جو سامنے آتا ہے وہ ہے دونوں طرف کا اساطیری نظام۔ جہاں سرحد پار کے زیادہ تر کلام میں اسلامک یا کچھ حد تک یونانی اسطور جلوہ گر ہیں وہیں اِس طرف اِن دونوں کے علاوہ ہندوستانی اسطور اور خاص طور پر ہندو متھ کو ایک نمایاں جگہ ملی ہے ۔ اور یہ وہ ایک ایسا نقتہ ہے جہاں دانیال طریر اپنے ماحول اور سرحد پار کے اپنے ہم عصروں سے الگ ہوجاتے ہیں۔
ایک بات غور کرنے کی ہے اور پہلے بھی ایک مرتبہ میں نے یہ کہی ہے کہ صرف کسی اساطیر کا بیان بھر شاعری نہیں ہے اور دانیال بھی ایسا کرتے ہوئے کم دِکھتے ہیں۔ ان کی شاعری میں ’سانپ‘ ایک دلچسپ استعارہ ہے اور ’سانپ‘ کا اسلامی اسطور سے رشتہ ذرا دور ہی کا ہے۔ ہاں یونانی متھ میں کچھ باتیں ملتی ہیں۔ سانپ یا اژدہا ہندوستانی یا چینی اسطور کا ایک اہم کردار ہے جس سے سینکڑوں متھ جڑے ہیں۔ دانیال کے شعروں میں جگہ جگہ اس اساطیری نظام کےshades ملتے ہیں جو ان کے ماحول سے الگ ہیں۔ مگر جس خوبصورتی سے انہوں نے اسے برتا ہے وہ اس بات کی دلیل ہے کہ انہوں نے صرف اِسے پڑھا نہیں ہے جیا بھی ہے۔ اپنی تخلیق میں ہندوستانی متھ کا اتنا خوبصورت استعمال حال اور ماضی قریب میں انتظار حسین اور وزیر آغا کے بعد اگر مجھے نظر آیا ہے تو وہ دانیال کے یہاں ہے۔
جب میں کہتا ہوں کہ اساطیر کا خالی بیان شاعری نہیں تو مجھے فراقؔ کا یہ شعر یاد آتا ہے:

شیو کا وِش پان تو سنا ہوگا میں بھی اے دوست پی گیا آنسو
یا پھر میرؔ جب یہ کہتا ہے:
آتشِ عشق نے راون کو جلاکر مارا
گرچہ لنکا میں تھا اس دیو کا گھر پانی میں
دونوں شعروں میں اساطیری حوالہ سامنے کا ہے۔ مگر جب اساطیری حوالہ سامنے کا نہ ہو ، چھپا ہوا ہو، اور اسے ڈھونڈنے کے لیے قاری اپنی تہذیب کے سفر پر دوبارہ چل پڑے تو مزا دوبالا ہوجاتا ہے۔ جیسے:
سو سو جتن سے اُس کا تراشا گیا بدن
قوت ملی کسی کو، کسی کو ملی ہے دھوپ
(شین کاف نظام)
اب اگر قاری ہندو فلسفے اور اسطور سے واقف نہیں تو معاف کیجئے، وہ یہ کبھی نہیں جان سکتا کہ جس کا بدن تراشا گیا وہ سورج ہے، جس نے تراشا وہ وشوکرما، جسے قوت ملی وہ کرشن، اور یہ سب کچھ ہُوا تو کیوں؟ اور کس کے لیے؟اب دانیال کو دیکھئے جو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں:

رکھنے سے ڈر رہا ہوں اُسے آگ کے قریب
رستے میں ایک سانپ ملا ہے جما ہُوا

پیڑ میں آدمی بناؤں میں
کوئی دنیا نئی بناؤں میں

دیکھنا یہ ہے کہ جنگل کو چلانے کے لیے
مشورہ ریچھ سے اور چیل سے ہوگا کہ نہیں

میں جل پری کے لیے جل تلاش کرنے گیا
پلٹ کے آیا تو برسات کا بنا ہوا تھا

جس کے کردار پرندوں کی طرح ہوتے تھے
وہ کہانی مرے اسباب میں رکھی جائے

یہ بات عین ممکن ہے کہ دانیال نے پنچ تنتر کی کہانیوں کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہو، کیونکہ اس کا اثر ان کی شاعری پر صاف دیکھا جاسکتا ہے۔

جدید دَور اور اس کے بعد کے شاعروں کی طرح انسان ، اس کا اکیلا پن، اُس کی اُداسی، گاؤں اور شہرکا تصادم، اپنے جڑوں سے کٹنے کا غم، بدن اور اس کی روایت یا اُس سے چھوٹنے کی چھٹپٹاہٹ، یہ سب موضوع بھی دانیال کی شاعری کا اہم حصہ ہیں۔ مگر یہاں بھی دانیال نے اپنے طرزِ اظہار کے سبب خود کو اوروں سے الگ کرنے کی کوشش کی ہے۔

کھیت جب سوکھ گئے تب ہمیں احساس ہوا
گاؤں تک شہر کے موسم کو سڑک لے آئی

آخر جسم بھی دیواروں کو سونپ گئے
دروازوں میں آنکھیں دھرنے والے لوگ

تیز کرتے ہیں سفر لوگ مکانوں کی طرف
جب پرندوں کی طرح شام کو پر لگ جائیں

عجب ہے شہر مگر شہر سے بھی لوگ عجب
اُدھار مانگ رہے ہیں بدن برائے بدن

اک سفر ، ایک خلا ایک طرف ختم ہوا
اب کوئی اور سفر اور خلا اور طرف
ایک بات اور جو پچھلے عرصے میں میں نے شدت سے محسوس کی ہے کہ سرحد پار کے زیادہ تر غزل گو شعرا خاص کر احمد فرازؔ کے بعد خاص طور پر موجودہ شعرا کی یاعین قریب کے شعرا کی غزلیہ زبان کا آہنگ کچھ حد تک نثری یا کھردرا ہے۔ اس کی ایک وجہ ہوسکتا ہے کہ وہاں کا Local Dialect ہو ، مگر یہ بات میں دعوے سے نہیں کہہ سکتا، مگر اس کھردرے پن کا اپنا ہی ایک مزا ہے اور یہ قاری کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ میرے ہمعصر اور بعد کی پیڑھی کے بہت سے شعرا نے اس آہنگ کو اپنانے کی شعوری کوشش بھی کی ہے ۔ مگر نہ جانے کیوں مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ آہنگ جسے وہ نئی زمینوں کی تلاش بھی کہتے ہیں غزل کو کچھ حد تک نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ اثر دانیال کے یہاں بھی ہے مگر کچھ کم کم ہے۔

دانیال طریر ایک جداگانہ کیفیت کا شاعر ہے جسے لفظوں سے Imagesبنانی آتی ہے۔

اب نہیں تیرا سر کہ سو جاؤں
خیر سینے پہ سنگ اور سہی

کنارے پر اُٹھائے ہاتھ میں نے
دعا کا عکس پانی پر بنا ہے

ہم ہوتے اور کہرا ہوتا ہر جانب
تو آواز کو تکتا میں خاموشی کو

سخت سردی تھی جب مری خاطر
اپنے حصے جلا رہی تھی رات

دانیال طریر کا اپنا ہی ایک اسلوب ہے، چاہے وہ نظم ہو یا غزل۔ ان کی غزلوں پر ان کی نظموں کا اثر صاف دِکھتا ہے۔ ان کی نظم پر بات میں پھر کبھی کروں گا کیونکہ نظم پر چھوٹی بات ممکن نہیں اور سحرؔ نے مجھ سے ذرا مختصر مضمون چاہا تھا۔ میرے نزدیک دانیال ایک ایسا شاعر ہے جو خود کو مکمل طور پر پڑھنے اور سوچنے کی دعوت دیتا ہے۔ امید ہے کہ آنے والے وقت میں ان کا کلام منظرِ عام پر آجائے گا اور مجھے یقین ہے کہ وہ اپنی تخلیقی فکر کے باعث ایک قابلِ احترام شاعر قرار پائیں گے۔اور ایسا دیکھنے کے لیے کسی اور جنم کا انتظار نہیں کرنا ہوگا ، جیسا کہ Wehbore Hhes نے کہا تھا۔۔۔۔۔
writer should have another lifetime to see if he is appreciated

(0) ووٹ وصول ہوئے

: مضامین سےمتعلقہ شعراء