بند کریں
شاعری مضامینمضامینزبان ہے تو جہان ہے

مضامین کے مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
زبان ہے تو جہان ہے
آج ہم زبان پر کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ ہے نا عجیب بات؟ زبان سے یا تو کچھ کہا جا سکتا ہے یا کسی زبان میں کچھ کہا جا سکتا ہے۔ اگر ہم زبان پر کچھ کہیں گے تو آپ زبان پر حَرف لائیں گے۔

نادر خان سرگروہ

آج ہم زبان پر کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ ہے نا عجیب بات؟ زبان سے یا تو کچھ کہا جا سکتا ہے یا کسی زبان میں کچھ کہا جا سکتا ہے۔ اگر ہم زبان پر کچھ کہیں گے تو آپ زبان پر حَرف لائیں گے۔ بات جب زبان کی چل نکلی ہے تو کیا حرج ہے کہ زبان پر زبان درازی کی جائے۔ زبان کی بہت سی قسمیں ہیں۔ میٹھی، تیکھی،کڑوی، موٹی،کالی اورلمبی زبان۔ جانوروں کی بھی اپنی زبان ہوتی ہے۔ پھر بھی ہم اُنہیںبے زبان کہتے ہیں۔ اگر ہمیں چینیوں کی زبان سمجھ میں نہ آئے تو کیا ہم اُنہیں بے زبان کہیں گے؟ چین میں سب کچھ بنتا ہے۔ سب سے زیادہ انسان بھی وہیں بنتے ہیں اور سب کے سب ایک جیسے۔ سب چینی صرف چینی بولتے ہیں ۔ چینی زبان میں سے اگر حرف ’چ‘ نکال دیا جائے تو کوئی بھی چینی .... چینی نہ بول سکے گا۔ بولنا تو دُور کی بات۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ چُوں ‘ بھی نہ کرسکے گا۔
ہاں! تو ہم بات کر رہے تھے جانوروں کی زبان کی۔ اِن بے زبانوںکا ہماری زبان میں بہت دخل ہے۔ بے شمار ضربُ الامثال، محاورے اور کہا وتیں اِن ہی چرند و پرند کی دین ہیں۔ مثلاً، آبیل مجھے مار، بلّی کو خواب میں چھیچڑے نظر آتے ہیں، بندر بانٹ، ہاتھی کے دانت، کھانے کے اور دکھانے کے اور، مگرمچھ کے آنسو، اُونٹ رے اُونٹ تیری کون سی کل سیدھی۔ وغیرہ وغیرہ۔ شکر ہے جانور پڑھنا لکھنا نہیں جانتے، ورنہ آج وہ سب مل کر یہ دعویٰ کرتے کہ ”اُردو ’ہماری‘ زبان ہے!“ کاش ! وہ پڑھنا لکھنا جانتے ۔ کوئی تو ہوتا جو یہ دعویٰ کرتا کہ .... ”اُردو ہماری زبان ہے۔ ‘ ‘
دنیا کی ہر مخلوق منہ میں زبان رکھتی ہے۔ ا گر یہ زبان نہ ہوتی تو دنیا میں کوئی زبان نہ ہوتی ۔ جب کوئی زبان نہ ہوتی تو عورتوں کی زبان تالُو سے لگی رہتی، نہ بات پیٹ میں جاتی نہ باہر آتی۔ تب اُن کے کرنے کے لیے کوئی کام نہ رہتا۔ زبان نہ ہوتی تو ذائقہ نہ ہوتا۔ عورتوں کے لیے شوہر کے پیٹ سے اُس کے دل کو جانے والی ’وہ ‘ راہ گزر سِرے سے ہی نہ ہوتی۔ دنیا سیاستدانوں کی آلائش و فتنہ پَردازی سے محفوظ ہوتی۔ بعض سیاستداں بھی عجیب ہوتے ہیں، بہت زبان لڑاتے ہیں۔ اب دیکھیں نا! اُردو کو پنجابی سے لڑا دیا، تامِل کو سِنہالی سے۔
سب سے بھاری زبان، ملیالم زبان ہے۔ پھر بھی مَالاباری اِسے دنیا کے کونے کونے میں اُٹھائے پھرتے ہیں۔ بعید نہیں کہ وہ اِسے اُٹھا کر مریخ پر لے جائیں۔ ایک بار ہم نے اپنے کیرالا کے دوست سے پوچھا، ” ملیالم سیکھنے کا سب سے آسان طریقہ کیا ہے؟“ اُس نے ایک سو بیس کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے جواب دیا، ”اِم پوسیبل مِسٹرکھان! اِس کام کے لیے تم کو مِنی مَم ایک بار کیرالا میں پئے دا (پیدا )اونا جَروری اے ، جو تُمارا بس کا بات نَیی ِاے ۔ “ اُس کا یہ جواب سُن کر ہم نے ملیالم سیکھنے کا ارادہ ہمیشہ ہمیش کے لیے ترک کر دیا کہ یہ دنیا صرف ایک بار ہی دیکھنے کی جگہ ہے اور زندگی کا سفر اِتنا آسان نہیں جو .... بار بار کیا جائے۔
زبان کا اپنا کوئی وزن نہیں ہوتا، مگر یہ اپنے مالک کا وزن بتاتی ہے، بڑھاتی ہے، گھٹاتی ہے۔ زبان طبعی حالت میں کبھی کروٹ نہیں بدلتی، لیکن دوسری حالت میں کب کروٹ بدلے ، کہا نہیں جاسکتا۔ کمان سے نکلا تیر واپس آ سکتا ہے، مگر زبان سے نکلا لفظ نہیں ۔ تیر کا کیا ہے؟ کسی کو بھیج دیں، اُٹھا کر لے آئے گا، لیکن لفظ ڈُھونڈ کر لانا .... ناممکن ہوتا ہے۔ کیوں کہ لفظ کبھی دماغ میں بیٹھ جاتا ہے تو کبھی دل میں پیوست ہوجاتا ہے۔
اُردو لشکری زبان ہے۔ الفاظ اِس میں فوج در فوج داخل ہوئے ہیں۔ یہ عمل آج بھی جاری ہے، بلکہ کثیرالاقوام افواج اِس پر بظاہر قابض ہوگئیں ہیں اور اُردو کے کچھ الفاظ جنگی قیدیوں کی مانند لغت میں قید ہوکر رہ گئے ہیں:
”کہیں کس منہ سے ہم اَے مصحفی اُردو ہماری ہے“

اُردو والے اب پوری دنیا میں پھیل چکے ہیںاوراپنے اپنے لہجے میں اُردو کی بقا کی بات کررہے ہیں۔
سیلز مینوں کی زبان چار ہاتھ کی ہونا ضروری ہے۔ اور اگر اُنھیںتیل بیچنا ہو تو فارسی پر عبور حاصل ہونا ضروری ہے، لیکن آج کل فارسی والے یورینیم افزود کر رہے ہیں اور انگریزی والے اِس عمل پر پابندی لگانے کے لیے یورینیم سے زیادہ خطرناک مواد استعمال کرنے پر آمادہ نظر آتے ہیں ۔ خدا جانے حقیقت کیا ہے۔
کچھ سال پہلے تک ہماری اُردو بس یوں ہی سی تھی ، لیکن اتنی بُری نہیں تھی، جتنی کہ اب ہے۔ ہم اُس زمانے میں گاہ بہ گا ہ اُردو میں متبادل الفاظ کا اضافہ کرتے رہتے تھے۔ مثلاً، ایسی جگہ جہاں بندروں کے جھُنڈ رہتے ہوں، ہم نے اُس جگہ کا نام ’بندر گاہ‘ رکھا تھا۔ دفتر میں ہمیں ڈیوٹی کے دوران اکثر خواب دکھائی دیتے تھے، اِسی لیے ہم دفتر کو ’خواب گاہ‘ کہتے تھے، جب کہ ہمارا ایک غیر ملکی دوست جو بڑا محنتی تھا، اپنے دفتر کو ’عبادت گاہ ‘ کہتا تھا۔ چڑیا گھر کا نام بھی ہم بدل دینا چاہتے تھے، کیوں کہ جب جب ہم چڑیا گھر گئے، وہاں ہم نے کوئی اور ہی مخلوق دیکھی۔ گھر تو چڑیا کا، پر قسم قسم کے جانور چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں کی شکل میں وہاں خیمہ زن تھے۔ لیکن برسوں ذہن لڑانے کے بعد بھی ہم چڑیا گھر کو کوئی اور نام نہ دے سکے۔ یوں بھی صرف نام بدل دینے سے کیا ہو جاتا؟ حیف صد حیف! ہمارا ملک بھی کبھی سونے کی چڑیا کا گھر تھا! صاحبو! اگر ہم اپنے کارنامے بیان کرنے لگیں تو آپ سے ہماری زبان پکڑی نہ جائے گی۔ زبان قینچی کی طرح چلے گی اور بات سے بات نکلتی جائے گی۔ یوں بھی زبان پر جتنا کہا جائے، کم ہے۔
بس یہ کہہ کر ہم اپنی زبان سمیٹ لیتے ہیں کہ آپ اپنے بچوں کو چاہے جس زبان میں تعلیم دیں، مگر اُردو کی شیریں ڈَلیاں بچپن سے ہی اُن کی زبان پر رکھتے جائیں، تا کہ وہ اُردو کی مٹھاس سے آشنا ہوں۔ اور جب وہ بڑے ہوں تواُن کی زبان سے پھول جھڑیں اور اُردو کی مہک سارے عالم کو یوں ہی مد مست کرتی رہے .... مدہوش کرتی رہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے