BesveN Sadi Ka Ehd Saz Shair .... Munir Niazi

بیسویں صدی کا عہد ساز شاعر ۔۔۔۔ منیر نیازی

BesveN Sadi Ka Ehd Saz Shair .... Munir Niazi

وہ موضوعات جو ایک عام شاعر کے قلم کے بس کے نہیں ہوتے، منیرنیازی کے ہاں گہرے مشاہدے، شب و روز کے تفکر، عمیق تجربے اور زبان و بیان کی خوبیوں کے باعث قاری پر ایک سحر کی صورت طاری ہو جاتے ہیں

تحریر: نوید صادق
منیرنیازی کی شاعری رنگا رنگ خیالات اور انوکھے امیجز سے عبارت ہے۔وہ موضوعات کہ ایک عام شاعر کے قلم کے بس کے نہیں ہوتے، منیرنیازی کے ہاں گہرے مشاہدے، شب و روز کے تفکر، عمیق تجربے اور زبان و بیان کی خوبیوں کے باعث قاری پر ایک سحر کی صورت طاری ہو جاتے ہیں۔
اپنے گرد و پیش کی قدرتی اور مادی دنیا میں خوبصورتی کی تلاش، زبان اور زاویہ نظر میں اشیاء کی اصل کی تلاش اور اس کا بیان منیر نیازی کے بنیادی مسائل ہیں۔

وہ اپنی روایتی اقدار کوساتھ لے کر چلتے ہوئے اپنی اور اپنے عہد کی ذہنی اور نفسیاتی الجھنوں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ ان کے مشاہدہ کا انداز بالکل اس بچے کا سا ہے جو پہلی بار کائنات پر نظر ڈالتا ہے۔ اس وقت اس کی آنکھوںسے عیاں حیرت دیدنی ہوتی ہے۔

(جاری ہے)

تجسس کا انداز بھی اس بچے سا ہے جس نے ابھی ابھی اس کائنات میں آنکھیں کھولی ہیں۔
معاملاتِ محبت ہوں کی دنیاوی پیچیدگیوں اور الجھنوں سے خوف کا عالم، ماضی کی تلخ و شیریں حکایات ہوں اورا مروز کی مسائل سے بھری پُری زندگی یا فردا کے حسین خواب،رنج و الم سے بھری کیفیات کا بیان ہو کہ انانیت اور خودپرستی کا اشتہار اور وجوہات،زندگی کی رنگینیوں سے دلچسپی کے عوامل ہوںکہ موت کے لیے کشش،عصری اور سماجی معاملات ہوں کہ مابعدالطبعیاتی مسائل۔

۔۔ ان سب کی بابت منیر نیای کاایک اپنا نقطۂ نظر اور طریقِ بیان ہے۔روزمرہ کی زندگی اور فطرت و قدرت سے اپنے استعارے تراشنا ان کی شعری کائنات کا بنیادی وصف ہے۔ہر الجھن، ہر خواب، ہر عمل، ہر مسئلے پر ان کے عمیق مشاہدے اور گہرے غور و خوض کی چھاپ نظر آتی ہے۔وہ ہر شے میں ایک اور شے کی تلاش کے متمنی ہیں۔منیر نیازی کی شاعری کے مطالعہ کے دوران ایک ایسا شخص دھیان کی قرطاس پر ابھرتا ہے جو دنیا و مافیہا سے بے خبرکسی مراقبے میں ہے۔

لیکن منیر کے اس انداز پر مت جائیے گاکہ اُن جیسے باخبر لوگ کم کم ہی نظر پڑتے ہیں اور اس کا ثبوت ان کی شاعری ہے۔
منیر نیازی کے ہاں ماضی کا حوالہ بار بار ملتا ہے۔ وہ جگہ جگہ ماضی کے حوالے سے سوالات اٹھاتے نظر آتے ہیں۔تلمیحات کے استعمال سے عبرت دلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ ’’ماضی‘‘ کا رونا نہیں روتے۔ اِس پر نکتہ چیں دکھائی دیتے ہیں۔

کیا ہوا؟ کیوں ہوا؟ اور نتیجتاً یہ تجزیہ ’’حال‘‘ میں مثبت پیش رفت کی بنیاد بنتا ہے۔
منیر نیازی اپنے عصر کی صورتِ حال کی تصویر کشی کچھ اس انداز سے کرتے ہیںکہ ان کا کہا، ان کا لکھا قاری اور سامع کو اپنے دل کی آواز محسوس ہوتا ہے۔وہ بھرے پُرے شہروں میں انسان کی تنہائی پر نوحہ خواں ہیں۔لیکن یہ ماحول، یہ تاریکی۔۔۔۔۔۔شاعر پرامید ہے کہ نظام کائنات تبدیل ہو گا۔

وہ نہ صرف خود اپنے اور اپنے لوگوں کے مسائل کا دراک کرتا ہے بلکہ دوسروں تک اپنی آواز بھی پہنچاتا ہے۔اس کواپنے تمام روحانی اور مادی مسائل کا واحد حل اللہ رب العزت کے حضور گڑگڑانے اورحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات پر عمل پیرا ہونے میں سوجھتا ہے۔
منیر نیازی کی نظم " محبت اب نہیں ہو گی" ملاحظہ فرمائیے:
ستارے جو دمکتے ہیں
کسی کی چشمِ حیراں میں
ملاقاتیں جو ہوتی ہیں
جمالِ ابر و باراں میں
یہ نا آباد وقتوں میں
دلِ ناشاد میں ہو گی
محبت اب نہیں ہو گی
یہ کچھ دن بعد میں ہو گی
گزر جائیں گے جب یہ دن
یہ اُن کی یاد میں ہو گی
منیر نیازی کی غزل سے چند اشعار پیشِ خدمت ہیں:
میں جو منیرؔ اک کمرے کی کھڑکی کے پاس سے گزرا
اس کی چک کی تیلیوں سے ریشم کے شگوفے پھوٹے
جانتا ہوں ایک ایسے شخص کو میں بھی منیرؔ
غم سے پتھر ہو گیا لیکن کبھی رویا نہیں
مہک عجب سی ہو گئی پڑے پڑے صندوق میں
رنگت پھیکی پڑ گئی ریشم کے رومال کی
بارشوں میں اس سے جا کے ملنے کی حسرت کہاں
کوکنے دو کوئلوں کو، اب مجھے فرصت کہاں
سن بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیں
اُن اُمتوں کا ذکر جو رستوں میں مر گئیں
میں تو منیرؔ آئینے میں خود کو تک کر حیران ہوا
یہ چہرہ کچھ اور طرح تھا پہلے کسی زمانے میں
یاد بھی ہیں اے منیرؔ اس شام کی تنہائیاں
ایک میداں، اک درخت اور تو خدا کے سامنے
قدیم قریوں میں موجود تو خدائے قدیم!
جدید شہروں میں بھی تجھ کو رونما دیکھا
چار چپ چیزیں ہیں: بحر و بر ، فلک اور کوہسار
دل دہل جاتا ہے ان خالی جگہوں کے سامنے
اک اور دریا کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اُترا تو میں نے دیکھا
اک چیل ایک ممٹی پہ بیٹھی ہے دھوپ میں
گلیاں اجڑ گئی ہیں مگر پاسباں تو ہے
واپس نہ جا وہاں کہ ترے شہر میں منیرؔ
جو جس جگہ پہ تھا وہ وہاں پر نہیں رہا
ڈر کے کسی سے چھپ جاتا ہے جیسے سانپ خزانے میں
زر کے زور سے زندہ ہیں سب خاک کے اس ویرانے میں
فروغِ اسمِ محمد ہو بستیوں میں منیرؔ
قدیم یاد، نئے مسکنوں سے پیدا ہو

(3874) ووٹ وصول ہوئے

Related Articles

Related Articles

Your Thoughts and Comments

BesveN Sadi Ka Ehd Saz Shair .... Munir Niazi - Read Urdu Article

BesveN Sadi Ka Ehd Saz Shair .... Munir Niazi is a detailed Urdu Poetry Article in which you can read everything about your favorite Poet. BesveN Sadi Ka Ehd Saz Shair .... Munir Niazi is available to read in Urdu so that you can easily understand it in your native language.

BesveN Sadi Ka Ehd Saz Shair .... Munir Niazi in Urdu has everything you wish to know about your favorite poet. Read what they like and who their inspiration is. You can learn about the personal life of your favorite poet in BesveN Sadi Ka Ehd Saz Shair .... Munir Niazi.

BesveN Sadi Ka Ehd Saz Shair .... Munir Niazi is a unique and latest article about your favorite poet. If you wish to know the latest happenings in the life of your favorite poet, BesveN Sadi Ka Ehd Saz Shair .... Munir Niazi is a must-read for you. Read it out, and you will surely like it.