بند کریں
شاعری مضامینمضامینسرسری دل کی واردات نہیں ( نوید صادق )

مضامین کے مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سرسری دل کی واردات نہیں ( نوید صادق )
محمد حسن عسکری کہتے ہیں کہ’’ مقدمہ شعر و شاعری‘‘ سے زیادہ تعریفیں کسی کتاب کی نہیں ہوئیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس کتاب سے زیادہ گالیاں بھی کسی کتاب کو نہیں پڑیں۔ صورتِ حال کچھ ایسی ہے کہ محمد حسن عسکری کی اس رائے سے اتفاق کرتے ہی بنتی ہے

نوید صادق

سرسری دل کی واردات نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد حسن عسکری کہتے ہیں کہ’’ مقدمہ شعر و شاعری‘‘ سے زیادہ تعریفیں کسی کتاب کی نہیں ہوئیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس کتاب سے زیادہ گالیاں بھی کسی کتاب کو نہیں پڑیں۔ صورتِ حال کچھ ایسی ہے کہ محمد حسن عسکری کی اس رائے سے اتفاق کرتے ہی بنتی ہے۔لیکن ہم اس بات کو ایک دوسرے زاویہ سے دیکھنے کی کوشش میں ہیں۔ بات کچھ یوں ہے کہ حالیؔ نے مقدمہ شعر و شاعری لکھ کر اپنی شاعری بالعموم اور غزل کے ساتھ بالخصوص بڑی زیادتی کی۔مقدمہ شعر و شاعری پر ہونے والی لے دے نے ان کی شاعری کو پسِ پشت ڈال دیا۔حالیؔ کے اس کارنامہ یعنی ’’مقدمہ شعر و شاعری‘‘ کی تصنیف کی تاریخ میں اہمیت بہت زیادہ ہے کہ اردو زبان کی تاریخ میں باقاعدہ پہلی تنقیدی کتاب بھی یہی ٹھیرتی ہے۔ ہمارے اس دعویٰ پر شاید کچھ لوگ ناک بھوں چڑھا رہے ہوں تو صاحبانِ علم و فن! بات کچھ یوں ہے کہ ’’مقدمہ شعر و شاعری‘‘ سے قبل کی جن تحریروں کو تنقید کے زمرے میں ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے وہ تذکرہ نگاری کی ذیل میں آتی ہیں۔ یہاں ان تذکرہ نگاروں کے نام گنوانے کی چنداں ضرورت یوں محسوس نہیں ہوتی کہ ہم حالیؔ کی تنقید سے کلیتاً پہلو تہی کرتے ہوئے حالیؔ کی شاعری اور وہ بھی غزل پر گفتگو کے چکر میں ہیں۔حالیؔ پر بہت گفتگو ہوئی، حالیؔ کی تنقید پر بہت لے دے ہوئی، حالیؔ کی نظم کو بھی اپنے اپنے انداز میں سراہا یا کوسا گیا ،حالیؔ کی غزل پر بھی اکا دکا مضامین پائے جاتے ہیں، عین شادی کے روز حالی کا پانی پت سے بھاگ کر دہلی آ جانا یہاں تک کہ حالی کے مفلر تک کو نہ بخشا گیا۔۔۔ تنقید نگاروں نے ہر پہلو سے حالیؔ کو پرکھنے، ٹٹولنے کی کوشش کی۔ لیکن ہر موضوع پر گفتگو میں دو باتوں کو بہت اہمیت دی گئی۔۔ ایک تو حالیؔ کی معرکہ آرا تصنیف ’’مقدمہ شعر و شاعری‘‘ اور دوسرے حالیؔ کا پانی پت سے بھاگ کر سرسید کے حلقہ ارادت میں شمولیت۔ یوں جو تجزیات درکار تھے یا جو نتائج متوقع تھے، کہیں راہ میں رہ گئے۔ حالیؔ کے ہاں سب سے زیادہ زیادتی اُن کے غزل کے ساتھ ہوئی۔ سلیم احمد نے حالیؔ کی غزل کو ان کے دل کی پیداوار اور ان کی نظم کو ان کے دماغ کی پیداوار قرار دیا ہے۔ سرِدست ہم نظم اور دماغ سے آنکھ بچا کر اُن کی غزل کا رُخ کرنا چاہیں گے۔
حالیؔ کی غزل کو زیادہ تر’’ مقدمہ شعر و شاعری‘‘ اور دیوانِ حالی کے مقدمہ کی روشنی میں دیکھنے کی کوشش کی گئی جسے کسی صورت مستحسن قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یار لوگوں کی اکثریت نے کہنے کو تو اس تصنیف کی نفی کی لیکن دوسری طرف حالیؔ کی غزل کو بھی انھی معیارات پر پرکھنے کی کوشش کی۔ حالیؔ کی غزل کو یہ کہہ کر بھی نظرانداز کرنے کی کوشش کی گئی کہ خود حالیؔ غزل کے دشمن تھے لیکن حقیقت کو پانے کی سعی یہاں بھی مفقود رہی۔ حالیؔ غزل سے برہم و بے زارنہیں تھے، غزل کے معاملے میں ان کی تنقید کا ہدف دراصل ذرا مبتذل قسم کی غزل تھی۔اس موضوع پر رشید احمد صدیقی مفصل تحریر فرما چکے ہیں جو اپنے وقت میں ایک مستحسن کاوش ٹھیرتی ہے۔ ہمارے جدیدتنقید نگاروں کو حالیؔ کا پانی پت سے بھاگنا اور اس سے کہیں بڑھ کر سرسید کے حلقہ ارادت میں شامل ہونا یاد رہا لیکن وہ ان کی غالبؔ اور شیفتہؔ سے عقیدت و ارادت کو یک سر فراموش کر گئے۔ میدانِ غزل میں غالبؔ اور شیفتہ ؔ کے مقام و مرتبہ پر گفتگو کا یہ محل نہیں کہ ہم اپنے آپ کو حالیؔ تک محدود رکھنا چاہتے ہیں۔ انصاف سے دیکھا جائے تو حالیؔ پر گفتگو کے دوران غالبؔ، سرسیدؔ اور شیفتہؔ کونکال باہر نہیں کیا جا سکتا کہ ان اکابرِ ادب و معاشرہ کا ذکر بار بار آنے کا احتمال برابر موجود ہے۔
حالیؔ کا پانی پت سے بھاگ جانا اور وہ بھی عین شادی کے روز ہمارے اردو ادب کے جدید ناقدین کے لیے ایک دل چسپ مشغلہ رہا ہے۔ان ناقدین شعر و ادب نے اس واقعہ کے بعد یہ نتیجہ نکالا کہ حالیؔ اب محبت اور عشق پر اشعار کہنے کے لائق نہیں رہے۔پھر سر سید احمد خان کا سایہ ۔۔۔۔ کہاں مولانا الطاف حسین حالی اور کہاں محبت۔ لیکن یہیں تو ہمارے ناقدین دھوکا کھا گئے۔ ایک ’’غزل، مفلر اور ہندوستان‘‘ والے سلیم احمد تھے جنھوں نے تھوڑی ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حالیؔ کی غزل کو ان کے دل کی واردات قرار دیا لیکن ان کی سوئی بھی

اے عشق! تو نے اکثر قوموں کو کھا کے چھوڑا
جس گھر سے سر اٹھایا، اُس کو بٹھا کے چھوڑا

پر اٹک گئی اور وہ مزید آگے نہ بڑھ سکے۔ یوں حالیؔ کی غزل پر بات تو درکنار، اسے سرے سے نظر انداز کر دیا گیا۔اسی قماش کا لطیفہ کلیاتِ خواجہ غلام فرید کے مقدمہ میں علامہ طالوت سے سرزد ہوا جب انھوں نے خواجہ صاحب کی زندگی کے پہلے اور آخری زمینی عشق کو چھپانے کی کوشش کی۔ خیر وہاں تو بات عقیدت و احترام کی نکل آتی ہے لیکن حالی پر لکھنے والوں کے ساتھ ایک ظلم یہ بھی ہوا کہ خود حالیؔ اور ان کے معاصرین وغیرہ میں سے کسی نے بھی ان کے ہاں کسی زمینی عشق کی کوئی روایت نقل نہیں کی۔ لیکن اگر نقاد روایات وغیرہ پر چلے گا تو پھر شعر سے کیا خاک نتیجہ نکالے گا۔موجود روایات کا شعر پر انطباق۔۔۔ اسے کم از کم تنقید نہیں کہا جا سکتا، ویسے آپ اس طرزِ تحریر و تجزیہ کو جو نام چاہیں دے لیں کہ آج کل اسی کا دور دورہ ہے۔ ہم قطعاً اس حق میں نہیں کہ حالیؔ کے ہاں کوئی ایسی ویسی بات ثابت کی جائے لیکن جب ہمارا سامنا اس قبیل کے اشعار سے ہوتا ہے:

عشق اُس وقت سے سر پر ترے منڈلاتا تھا
گودیوں میں تجھے تھا جب کہ کِھلایا جاتا

عشق سنتے تھے جسے ہم وہ یہی ہے شاید
خود بہ خود دل میں ہے اک شخص سمایا جاتا

چپ چپاتے اُسے دے آئے دل اِک بات پہ ہم
مال مہنگا نظر آتا تو چکایا جاتا

دل کے تیور ہی کہے دیتے تھے صاف
رنگ یہ دیوانہ اِک دن لائے گا

ٹپکتا ہے اشعارِ حالیؔ سے حال
کہیں سادہ دل مبتلا ہو گیا

بھلا حالیؔ اور الفت سے ہو خالی
یہ سب تم صاحبوں کا حسنِ ظن ہے

بات کچھ کچھ بنتی نظر آتی ہے۔ اور ہمارا یہ خیال کہ گوشت پوست کا انسان اپنی جبلت کے ہاتھوں مجبور ہے، مزید پختہ ہو جاتا ہے۔وہ معاشرہ جس میں عشق کو ایک تہذیبی قوت کے طور پر لیا جاتا ہو اُس میں یہی کچھ ہوتا ہے۔ محبت مختلف روپ بدلتی محبوب تک جا پہنچتی ہے اور خود بہ خود دل میں سمانے والے کو چپ چپاتے دل بھی ہینڈ اوو ر(Hand Over)کر دیا جاتا ہے۔صاف ظاہر ہے یہ دل میں سما جانے والا کوئی عام شخص تو ہو نہیں سکتا، سو اس کی کچھ کچھ تفصیل بھی اشعارِ حالی سے برآمد کی جا سکتی ہے:

جس کو غصے میں لگاوٹ کی ادا یاد رہے
آج دل لے گا اگر کل نہ لیا، یاد رہے

تھا کچھ نہ کچھ کہ پھانس سی اک دل میں چبھ گئی
مانا کہ اُس کے ہاتھ میں تیر و سناں نہ تھا

شان دیکھی نہیں گر تو نے چمن میں اُس کی
ولولہ تجھ میں یہ اے مرغِ چمن! کس کا ہے

زیر برقع تو نے کیا دکھلا دیا
جمع ہیں ہر سو تماشائی بہت

یہاں ’’تھاکچھ نہ کچھ‘‘ اور’’زیرِ برقع‘‘ کہہ کر بات کو گول کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ حالیؔ شعر کی تہذیب سے بخوبی آگاہ تھے اور ظاہر ہے یہ شعری تہذیب انھیں غالبؔ و شیفتہؔ کی ہم نشینی نے عطا کی تھی۔ اگر حالیؔ یہاں محبوب کا سراپا بیان کرنا شروع کر دیتے تو ان کا سلسلہ غالبؔ و شیفتہؔ کی جگہ جراتؔ و رنگینؔ وغیرہ سے جا ملتا۔ ’’کچھ کہنا‘‘ اور ’’کچھ چھپانا‘‘ حالیؔ کو بہ خوبی آتا تھا اور اکابرِ شعر اسی کو شعر کی بنیادی خوبی قرار دیتے ہیں:

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
اب ٹھیرتی ہے دیکھیے جا کر نظر کہاں

سرو یا گل آنکھ میں جچتے نہیں
دل پہ ہے نقش اُس کی رعنائی بہت

ہم جس پہ مر رہے ہیں وہ ہے بات ہی کچھ اور
عالم میں تجھ سے لاکھ سہی تو مگر کہاں

سات پردوں میں نہیں ٹھیرتی آنکھ
حوصلہ کیا ہے تماشائی کا

تماشائی میں تھوڑا حوصلہ پیدا ہوتا ہے اور حالیؔ اس سلسۂ تعارفِ محبوب کو تھوڑا آگے بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں، یوں بھی ہمارے سلیم احمد حالیؔ کی غزل کو دل کی واردات کہتے ہیں اور معاملاتِ دل میں دماغ کو جا نہیں رہتی۔سو حالی ؔ اپنے محبوب کی مدح سرائی میں آگے بڑھتے ہوئے کچھ مزید معلومات فراہم کرتے ہیں:

بناوٹ سے نہیں خالی کوئی بات
مگر ہر بات میں اک سادہ پن ہے

مگر اس سادہ پن کے حامل محبوب کی تیزی طراری بھی لایقِ دید ہے کہ اس کے سامنے دانائی وغیرہ ٹکے ڈھیر ہیں۔اس مقام پر پہنچ کر جراتؔ کا محبوب یاد آنے لگتا ہے لیکن یہاں تیزی طراری تو ہے لیکن جرات کے محبوب ایسابے باک پن نہیں کہ حالیؔ سے جس کی توقع کی جا سکے۔ حالیؔ پر بات کرتے ہوئے یہ بڑا مسئلہ ہے کہ ان کا مولوی ہونا دھیان سے نہیں جاتا لیکن ہم حالیؔ کی غزل یعنی حالیؔ کے دل سے ایک آدھ انچ بھی ادھر اُدھر نہیں ہونا چاہتے، سو حالیؔ کے محبوب میں وہ ساری خوبیاں، خامیاں موجود ہیں جو اُن سے پہلے اور بعد میں تہذیب یافتہ غزل میں نظر آتی ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ ہر شاعر ان خوبیوں، خامیوں کو اپنے مزاج کے مطابق پیرایۂ اظہار میں لاتا ہے۔ حالیؔ اپنے رنگ میں گویا ہوتے ہیں ۔ اُن کا محبوب ضدی ہے، سرکش ہے،اس قدر دل ربا و دل ستاں ہے کہ اس کے سامنے حور و غلماں کی بھی دال نہیں گلتی، اس کی محبت کا نشہ عاشق کو دنیا و مافیہا سے بے خبر کر دیتا ہے :

اُس سے نادان ہی بن کر ملیے
کچھ اجارہ نہیں دانائی کا

ہٹ پہ اُس کی اور پِس جاتے ہیں دل
راس ہے کچھ اُس کو خود رائی بہت

دیکھا جمالِ جاناں آنکھوں نے اور نہ دل نے
کیا جانے کس ادا سے کی اس نے دل ستانی

حور و غلماں کے لیے لائیں دل آخر کس کا
ہونے دیتا نہیں یاں عہدہ برا ایک ہی شخص

کس نشہ میں ہے چور خدا جانے اس قدر
حالیؔ نے جام منہ سے لگایا نہیں ہنوز

نیا ہے لیجیے جب نام اُس کا
بہت وسعت ہے میری داستاں میں

دوسری طرفٖ محبوب کی کیفیت کچھ یوں ہے کہ وہ بھی اپنے دل رفتہ کے لیے اپنے دل میں نرم گوشہ رکھتا ہے لیکن انا اور برتری کے زعم میں اقرار نہیں کرتا جب کہ بہانے بہانے یہ خود بیں محبوب بن سنور کر سامنے آتا ہے، گویا کہ دونوں طرف آگ لگی ہوئی ضرور ہے۔ تھوڑی یا زیادہ۔۔۔ اس کا فیصلہ مزید اشعار کے تجزیہ سے ممکن ہو سکتا ہے :

کچھ تو ہے قدر تماشائی کی
ہے جو یہ شوق خود آرائی کا

اس شعر میں حالیؔ نے عاشق کو تماشائی کہہ کر عجیب طرح کا لطف پیدا کر دیا ہے۔دوسری طرف عاشق کا یہ عالم ہے کہ ایک پل بھی محبوب کے دیدار کے بغیر کاٹنا مشکل ہو جاتا ہے، ہر گھڑی، ہر پل ، ہر چیز میں محبوب کا چہرہ نظر آتا ہے:

تو نہیں ہوتا تو رہتا ہے اُچاٹ
دل کو یہ کیسی لگا دی تو نے چاٹ

رچ رہی ہے کان میں یاں لے وہی
اور مغنی نے کئی بدلے ہیں ٹھاٹ

پیغام دوست کا کوئی لایا نہیں ہنوز
جھونکا نسیمِ مصر کا آیا نہیں ہنوز

حالیؔ وصالِ محبوب کے خواہاں ہیں۔ حالیؔ کے ہاں وصل اپنے مکمل مفہوم میں سامنے آتا ہے۔ یہ وصال میرؔ کے وصال ایسا وصال نہیں کہ اس تڑپ، اس لگن کو پانے کے لیے میرؔ ایسے کشٹ کاٹنے پڑتے ہیں۔ لیکن حالیؔ کی خوبی یہ ہے کہ ان کے ہاں وصال کی خواہش حقیقت پسندی کے ماتحت نظر آتی ہے۔اس صورتِ کا مطالعہ حالیؔ کے ہاں دلچسپی سے خالی نہ ہو گا:

کیا کیا ہیں دل میں دیکھیے ارماں بھرے ہوئے
ہم میزباں نہیں جو کوئی میہماں رہے

موثر ہے بہت حالیؔ ترا وعظ
کل اُس کے سامنے بھی کچھ بیاں ہو

وصل کا اس کے دلِ زار تمنائی ہے
نہ ملاقات ہے جس سے نہ شناسائی ہے

یہاں حالیؔ دوسرے مصرعہ میں اپنے قاری سے ہاتھ کر گئے ہیں لیکن کیا کیا جائے کہ حالی ؔ غزل میں جس ابتذال پسندی کے خلاف تھے اس کا تقاضا یہی بنتا ہے کہ بات کہہ بھی دی جائے لیکن کچھ ان کہی بھی رہ جائے۔شعر مذکورہ میں قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ حالیؔ ملاقات کے نہیں وصل کے خواہاں ہیں جب کہ:

واں رسائی ہے صباکی اور نہ قاصد کو ہے بار
اُس سے آخر کس طرح پیدا تعارف کیجیے

یہاں اپنی کم مائیگی کا احساس بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔ زمینی حقائق بالکل کھول کر بیان کر دیے گئے ہیں۔ شعر دیکھئے:

کس سے پیمانِ وفا باندھ رہی ہے بلبل
کل نہ پہچان سکے گی گلِ تر کی صورت

اُن کو حالیؔ بھی بلاتے ہیں گھر اپنے مہماں
دیکھنا آپ کی اور آپ کے گھر کی صورت

وصل ہوتا بھی ہے تو کس طرح:

پردے بہت سے وصل میں بھی درمیاں رہے
شکوے وہ سب سنا کیے اور مہرباں رہے

وصل کے ہو ہو کے ساماں رہ گئے
مینہ نہ برسا اور گھٹا چھائی بہت

وصالِ دوست میں حائل دشواریوں کے بیان کے لیے انتہائی خوب صورت اور پُراثر پیرایہ اختیار کیا گیا ہے۔ خصوصاً دوسرا شعر شاید اپنی مثال آپ ہو۔ ’’وصل کے ہو ہو کے‘‘ جذبے کی شدت اور ساتھ ہی ساتھ بے بسی کا اچھوتا بیان ہے۔ اُس پر دوسرے مصرعہ میں’’مینہ ‘‘ اور گھٹا‘‘ خوبصورت اور بھرپور استعارات ہیں۔ شعر کیا ہے، ایک مکمل داستان ہے۔اس شعر کو چاہے قدیم اساتذہ کے اشعار کے سامنے رکھ لیجیے چاہے آج کے جدت پسندوں کے اشعارکے درمیان ۔۔۔ اس کی تاثیر اور چاشنی کم نہیں ہو گی۔
وصال میسر ہوتا ہے لیکن اس میں ایک پیاس، ایک کسک، ایک ادھورا پن رہ جاتا ہے( جدید شعرا کے ہاں وصال ہو کے نہ ہونے کی خوب صورت مثالیں فراقؔ کے ہاں بھی دیکھی جا سکتی ہیں)۔

وصلِ مدام سے بھی ہماری بجھی نہ پیاس
ڈوبے ہم آبِ خضر میں اور نیم جاں رہے

تصور میں کیا کرتے ہیں جو ہم
وہ تصویرِ خیالِ یار سے پوچھ

سجاد باقر رضوی لکھتے ہیں کہ عشقیہ شاعری ایک دن کے عشق کے تجربہ سے ساری عمر ہو سکتی ہے اور ساری عمر کے عشقیہ تجربے کے بعد بھی اگر شاعر کے پاس دوسری چیز یعنی اظہار کی قوت نہ ہو تو وہ اچھی شاعری نہیں کر سکتا۔اوپر درج آخری شعر شاید سلیم احمد کی نظر سے نہیں گزرا ورنہ اُن کے ہاں تعبیرِ شعر کی صورت کچھ مختلف ہوتی۔
اورپھر یہ وصال شاعر کے لیے مستقل جدائی، مسلسل روگ کے لیے ایک تازیانہ کا کام کرتا ہے۔

یا رب! اس اختلاط کا انجام ہو بخیر
تھا اُس کو ہم سے ربط مگر اس قدر کہاں

ابر و برق آئے ہیں دونوں ساتھ ساتھ
دیکھیے برسے گا یا برسائے گا

کیوں بڑھاتے ہو اختلاط بہت
ہم کو طاقت نہیں جدائی کی

بہت چین سے دن گزرتے ہیں حالیؔ
کوئی فتنہ برپا ہوا چاہتا ہے

کہتے ہیں کامیاب عشق اچھی شاعری کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ حالیؔ کے ہاں بھی مذکورہ کچے پکے وصال کے فوراً بعد جدائی کی صورت نکل آتی ہے۔بیٹھے بٹھائے فتنہ برپا ہوتا ہے اور محبوب شاعر سے جدا ہو جاتا ہے۔ یہاں بھی حالیؔ نے غزل کی تہذیب کے لحاظ میں تفصیل سے گریز کرتے ہوئے اس جدائی کے بعد کی کیفیات کو پیش کیا ہے۔ عین یہی وہ مقام ہے جہاں شاعر کو زمانے بھر کی لذتیں، رعنائیاں بے کار نظر آنے لگتی ہیں:

ایک دن راہ پہ جا پہنچے ہم
شوق تھا بادیہ پیمائی کا

اب وہ اگلا سا التفات نہیں
جس پہ بھولے تھے ہم، وہ بات نہیں

اُس کے جاتے ہی یہ کیا ہو گئی گھر کی صورت
نہ وہ دیوار کی صورت ہے نہ در کی صورت

گھر ہے وحشت خیز اور بستی اُجاڑ
ہو گئی ایک اک گھڑی تجھ بن پہاڑ

خیر ہے، اے فلک! کہ چار طرف
چل رہی ہیں ہوائیں کچھ ناساز

کرے گی بادِ بہار آ کے اب کسے سرسبز
رہا نہ باغ قدومِ بہار کے لایق

محبوب کے قرب میں گزرے لمحے تڑپاتے ہیں۔ محبوب سے جدائی کے لمحوں کی یاد خون کے آنسو رُلاتی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ محبوب کے غم کو کسی طورکم نہ کیا جا سکے گا۔

سماں کل کا رہ رہ کے آتا ہے یاد
ابھی کیا تھا اور کیا سے کیا ہو گیا

نہیں بھولتا اُس کی رخصت کا وقت
وہ رو رو کے ملنا بلا ہو گیا

یہ غم نہیں ہے وہ جسے کوئی بٹا سکے
غم خواری اپنی رہنے دے، اے غم گسار! بس

یاد میں تیری سب کو بھول گئے
کھو دیے ایک دکھ نے سب امراض

ڈھونڈتا ہے دلِ شوریدہ بہانے، مطرب!
درد انگیز غزل کوئی نہ گانا ہرگز

ہم کو بھی آتا تھا ہنسنا بولنا
جب کبھی جیتے تھے ہم اے بزلہ سنج!

محبوب کی جدائی جان لیوا محسوس ہوتی ہے،

روزِ وداع بھی شبِ ہجراں سے کم نہ تھا
کچھ صبح ہی سے شامِ بلا کا ظہور تھا

کبھی کبھی ایسی کیفیات بھی وارد ہوتی ہیں کہ انسان کا جی سب کچھ بھولنے کو چاہتا ہے، اور یہ آرزو رکھتا ہے کہ سب کچھ فراموش کر دے تو شاید سب ٹھیک ہو جائے، زندگی اپنی نہج پر آ جائے، لیکن حالیؔ نے انفرادیت کا ثبوت دیتے ہوئے اس صورتِ حال کو کچھ یوں بیان کیا ہے:

یاد اس کی دل سے دھو دے اے چشمِ تر! تو مانوں
اب دیکھنی مجھے بھی تیری روانیاں ہیں

ایک ہماری شاعری ہی کیا، تمام زبانوں کی شاعری اس طرح کے موضوعات سے بھری پڑی ہے۔ دیکھنا صرف یہ ہے کہ عاشق اس نوعیت کے غم سے نباہ کی کیا صورت نکالتا ہے۔رشید احمد صدیقی لکھتے ہیں:
’’جس شاعر پر فن یا موضوع قبضہ پا لے، میں اُسے بڑا شاعر نہیں سمجھتا، بڑا شاعر وہ ہے جو فن اور موضوع کو اپنے قبضے میں رکھے اور یہ اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک خود کو اپنے قابو میں نہ رکھ سکے۔‘‘

حالیؔ کے سلسلہ میں بھی ہم یہ کہیں گے کہ انھوں نے اپنے آپ کو قابو میں رکھا۔ اُن کی زندگی، ان کی شاعری ان کے قبضہ میں رہی۔ایسی توقعات صرف ایک مضبوط اعصاب کے انسان ہی سے کی جا سکتی ہیں۔سو حالیؔ معاملاتِ عشق و غزل میں اب اس مقام پر کھڑے ہیں کہ ان کے اعصاب کا امتحان ہے۔ شعر دیکھیے:

ضبط کیجے دردِ دل تو ضبط کی طاقت نہیں
اور کھلا جاتا ہے رازِ دل اگر اُف کیجیے

اپنی زندگی کو توازن کے راستے پر لانے کے لیے رستہ فراہم کیا جا رہا ہے، جواز فراہم کیا جا رہا ہے اور اس کے بعد:

یہی انجام تھا، اے فصلِ خزاں!
گل و بلبل کی شناسائی کا

ہوئے تم نہ سیدھے جوانی میں حالیؔ!
مگر اب مری جان! ہونا پڑے گا

گو کہ کبھی کبھار اک ٹیس اٹھتی ہے:

عہدِ وصال دل نے بھلایا نہیں ہنوز
عالم مری نظر میں سمایا نہیں ہنوز

دل سے خیالِ دوست بھلایا نہ جائے گا
سینے میں داغ ہے کہ مٹایا نہ جائے گا

وہ عشق ہے نہ جوانی، وہ تو ہے اب، نہ وہ ہم
پہ دل پہ نقش ہے اب تک تری ادا ایک ایک

اندر سے آواز اٹھتی ہے کہ اب ہم کسی قابل نہیں رہے، کوئی ولولہ، کوئی امنگ، کوئی ترنگ باقی نہیں رہی:

کام کا شاید زمانہ ہو چکا
دل میں اب اٹھتی نہیں کوئی اُمنگ

حالی سے مل کے ہو گے تم افسردہ دل بہت
اگلے سے ولولے وہ اب اس میں کہاں رہے

جب دیکھیے حالی کو پڑا پائیے بے کار
کرنا اُسے باقی یہی اک کام ہے گویا

ہر چند یہ زعم اپنی جگہ موجود ہے کہ:

ہم نے اول سے پڑھی ہے یہ کتاب آخر تک
ہم سے پوچھے کوئی ہوتی ہے محبت کیسی

کوئی دل سوز ہو تو کیجے بیاں
سرسری دل کی واردات نہیں

قیس ہو، کوہ کن ہو یا حالیؔ
عاشقی کچھ کسی کی ذات نہیں

تاہم جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ، بڑا شاعر اپنے آپ کو، اپنے جذبات کو ، اپنی شاعری کو اپنے قابو میں رکھتا ہے اور یوں خود کو کسی ایک دکھ میں تحلیل نہیں ہونے دیتا۔یہی وجہ ہے کہ حالیؔ اپنے غم کو ایسے حزن میں تبدیل کر لیتے ہیں جو بظاہر غم کے خدوخال سے مرتب ہوتا ہے مگراس میں تفکر کا پہلو بھی در آتا ہے۔ مجموعی اعتبار سے دیکھا جائے تو حالیؔ کے حزن کا محور غمِ ملت ہے جو قومی فکر میں ڈھل کر اجتماعی غم کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔ یہاں حالیؔ کا غمِ عشق یا غمِ ذات انھیں مصلحِ قوم کی حیثیت میں سامنے لاتا ہے۔ اس پہلو سے دیکھا جائے تو حالیؔ کی شخصیت اور اُن کے فن کا یہ رُخ انھیں سر سید احمد خان کی تعمیری فکر سے ہم آہنگ کرتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ ہم آہنگی یوں ہی نہیں، سر سید کی تحریکِ اصلاح نے حالیؔ کی تعمیرِ شخصیت میں بھی خاص کردار ادا کیا تھا۔اس لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ اگر حالیؔ سرسید سے نہ ملتے تو شاید ان کا غم حزن میں اور پھر یہ حزن معاملاتِ قومی تک نہ پہنچ پاتا۔ شاید وہ اپنے آپ کو اپنے ذاتی غموں میں فنا کر ڈالتے اور یہ کہنے کا حوصلہ نہ رکھتے:

بلبل کی چمن میں ہم زبانی چھوڑی
بزمِ شعرا میں شعر خوانی چھوڑی
جب سے دلِ زندہ تو نے ہم کو چھوڑا
ہم نے بھی تری رام کہانی چھوڑی

مگر اس گریز کے باوجود حالیؔ کی یہ رام کہانی کہیں اُن کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔وہ ہزار کہتے رہیں:

مال ہے نایاب پر گاہک ہیں اکثر بے خبر
شہر میں کھولی ہے حالیؔ نے دکاں سب سے الگ

اگرچہ ’’سب سے الگ‘‘ ہونے کا احساسِ تفاخرحالی کی شخصیت کا ایک خاص رُخ ہے۔ اس رُخ کو اُن کی غیرتِ قومی، اقدار کی حمایت، اصلاحِ نفس، ارتفاعِ فکر اور انسانی دردمندی ایسے جذبات نے جلا بخشی ہے۔اس حوالے سے ان کی وہ غزلیں جنھیں انھوں نے قدیم رنگِ غزل کا نمونہ قرار دیا ہے، اور وہ غزلیں بھی جو ان کی اپنی تعیین کے ساتھ جدید ہیں، سب کی سب حالی کی شاعرانہ شخصیت ہی کی نمائندہ ہیں۔ ’’قدیم‘‘ کا اطلاق ان کے نزدیک ’’بلبل کی ہم زبانی‘‘ پر ہوتا ہے جسے بظاہر انھوں نے چھوڑ دیا مگر ’’جدید‘‘ میں بھی ان کا وہی عشق کارفرما ہے جسے انھوں نے تہذیب کے دائرے میں لانے کی کوشش کی ہے جب کہ عشق کسی ’’قدیم ‘‘ و ’’جدید‘‘ کا محتاج نہیں، چناں چہ ’’دلِ زندہ‘‘ نے آخر تک انھیں نہیں چھوڑا بلکہ پورا ساتھ نبھایا۔حالی بے شک قوم کے غم میں گھلتے رہیں مگر ان کے دل کی واردات بظاہر ختم ہونے پر بھی ایک کسک بن کر ان کے شاعرانہ د ل کے کسی گوشے سے جاگ اُٹھتی ہے۔ اس لیے کہ:

سرسری دل کی واردات نہیں

اس اعتبار سے حالی کی غزل لائق مطالعہ و قابلِ ستایش رہی ہے اور رہے گی ۔اگرچہ ہم نے اس مقالہ میں حالیؔ کی غزل میں صرف اس حصہ کو موضوع بنایا ہے جسے عاشقی سے تعلق ہے کیوں کہ حالیؔ کے ہاں اس موضوع کی عدم موجودگی اور عدم دل چسپی کو بنیاد بنا کر ہمارے بعض جدید تنقید نگاروں نے حالیؔ کو نیچا ہی دکھایاہے۔ جب کہ حالیؔ کی شاعری بالخصوص غزل میں جہاں کلاسیکی شعریت کا پرُکشش اِجمال نظر آتا ہے وہاں اُن کی حیثیت ایک ایسے مجتہد کے طور پر ضرور دکھائی دیتی ہے جس نے جدید شاعری اور نئی غزل کا راستا اُستوار کیا ۔

(0) ووٹ وصول ہوئے

: مضامین سےمتعلقہ شعراء