بند کریں
شاعری مضامینمضامینظفر گورکھپوری ۔۔۔۔۔۔ ایک عہد، ایک شاعر

مضامین کے مزید مضامین

- مزید مضامین
ظفر گورکھپوری ۔۔۔۔۔۔ ایک عہد، ایک شاعر
ظفر گورکھپوری کو بچوں کے ادب کے حوالے سے یاد رکھا جائے گا

تحریر: جمیل قمر، ٹورونٹو ۔ کینیڈا       
خالد احمد کہا کرتے تھے کہ بات کہیں سے بھی شروع کی جا سکتی ہے۔ یہ نقطہ نظر اپنی جگہ بالکل درست ہے لیکن بات جہاں سے بھی شروع ہو‘ اپنے انجام تک پہنچنے سے پہلے وہ اپنا منطقہ ضرور تلاش کر لیتی ہے۔ کبھی کبھی انسان کا کام اس قدر وسعت اختیار کر جاتا ہے کہ اس عہد ساز تخلیق کار کی شخصیت کہیں دور کھڑی رہ جاتی ہے اور یوں اس تخلیق کار کا مجموعی اور مکمل احاطہ ایک مشکل مرحلہ بن جاتا ہے۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس تخلیق کار کی شخصیت بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے‘ بلکہ اسے یوں دیکھنا ہوگا کہ اس تخلیق کار کا کام اس قدر آگے نکل جاتا ہے کہ دیگر تمام چیزوں پر حاوی نظر آتا ہے۔ 5 مئی 1935ء کو ہندوستان کی ریاست اتر پردیش کے ضلع گورکھپور کی تحصیل بانس کے ایک گاؤں بید ولی بابو میں جنم لینے والے ظفر گورکھپوری کا شمار بھی ایسی شخصیات میں کیا جا سکتا ہے جن کا کام ان کی شخصیت سے کہیں آگے نکل گیا۔
 1949 ء میں جب ظفر گورکھپوری کا پہلا شعری مجموعہ شائع ہوا تو ترقی پسند تحریک کم و بیش ڈیڑھ دہائی کی ہو چکی تھی‘ دیگر شعرا کی طرح ظفر گورکھپوری بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہے اور یوں 1953ء میں انہوں نے بھی اس میں شمولیت اختیار کر لی۔ ترقی پسند تحریک نے جہاں بہت سے تخلیق کاروں کو متاثر کیا وہاں اس کی مخالفت میں اٹھنے والی آوازوں کی بھی کمی نہیں رہی۔ ڈاکٹر وزیر آغا کہا کرتے تھے کہ ادب کو کسی مخصوص نظریے کی لاٹھی سے ہانکنا دراصل اس تخلیق کے ساتھ نہ صرف زیادتی بلکہ تخلیق کے آگے بند باندھنے کے مترادف ہے۔ اس سب کے باوجود ظفر گورکھپوری نے ترقی پسند تحریک کو اپنی تخلیقات سے جلا بخشی لیکن کچھ ہی عرصے بعد انہوں نے اپنی راہیں جدا کر لیں۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ ”فراق بنے بھائی (سجاد ظہیر)، سردار کیفی، کرشن چندر، مہندر ناتھ، ظ انصاری اور مجروح وغیرہ کے ساتھ ملا تو صلاحیتوں کو اور جلا ملی، لیکن بہت جلد یہ سمجھ میں آ گیا کہ ادب کو کسی مخصوص نظریے کی تشہیر کا ذریعہ نہیں ہونا چاہیے اور نہ اسے ذات مختصر کے دائرے کا اسیر ہونا چاہیے۔ تب سے میں دونوں نظریات کے درمیان اپنی راہ نکالنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ شعر گوئی کی ابتدا نظم سے ہوئی تھی۔ دو دہائیوں سے کچھ زیادہ ہی عرصے تک نظمیں کہتا رہا۔ لیکن جانے کیوں ادھر چند برسوں سے غزل نے من موہ لیا ہے۔“ 
تین دہائیوں تک محکمہ تعلیم میں معلم کے طور پر خدمات انجام دینے والے ظفر گورکھپوری جب 3 جولائی 1993ء کو سبکدوش ہوئے تو اس کے بعد انہوں نے ادب کی خدمت کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا اور 29 جولائی 2017ء کو 83 سال کی عمر میں انتقال تک اسی پر کاربند رہے۔ انہیں بچوں کے ادب کے حوالے سے بھی یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے بچوں کیلئے نظمیں اور کہانیاں لکھیں جس سے اردو میں بچوں کے ادب کا دامن مزید وسیع ہو گیا۔
وہ بچپن میں ہی اپنے خاندان کے ساتھ گاؤں سے ممبئی جیسے بڑے شہر میں آ بسے تھے۔ شہر کے تیز رفتار ماحول میں پروان چڑھنے والے ظفر گورکھپوری ساری زندگی اپنے اندر سے گاؤں کا لمس جدا نہ کر پائے۔ اسی فطری پن کے باعث ان سے بے ساختہ شاعری تخلیق ہوئی۔ ان کے اشعار میں مٹی سے جڑت اور فطرت سے ہم آہنگ ہونے کے جذبہ نے انہیں استعاراتی طور پر بے حد مضبوط بنیاد فراہم کی۔ مٹی‘ ندی‘ کنارہ‘ چڑیاں اور اسی طرح کے دوسرے استعارے اس پر دال ہیں۔
ظفر گورکھپوری کے شعری مجموعہ ”ہلکی، ٹھنڈی، تازہ ہوا“ میں شمس الرحمان فاروقی نے انہیں شہر میں رہنے والا دیہات کا شاعر قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا ”یہ الگ بات ہے کہ بہت سے جدید شاعروں نے چھوٹے ہی شہروں میں رہ کر جدید زندگی کو محسوس کیا اور اس طرح محسوس کیا کہ شاعری اور شاعروں میں چھوٹے بڑے شہر کی یہ تفریق بے معنی ہوگئی۔“ شمس الرحمان فاروقی کی اس بات کا ثبوت مجید امجد ہیں جنہوں نے ایک چھوٹے سے قصبے میں بیٹھ کر اردو ادب کے آفاق کو روشن تر کر دیا اور ان کے کئے گئے کام پر اردو ادب ہمیشہ نازاں رہے گا۔ تاہم ظفر گورکھپوری کے بہ قول شہر کی تیز زندگی میں بھی دیہی انداز اور فطری رنگوں کو محسوس کرنے کا سہرا ان کی اہلیہ کے سر ہے۔ مذکورہ بالا شعری مجموعہ کا انتساب ظفر صاحب نے اپنی اہلیہ محترمہ کے نام کرتے ہوئے لکھا ہے ”کتاب النساء کے نام، جو گاؤں کی بیٹی ہے اور جس نے مجھے مٹی سے جوڑے رکھا۔“ انسانی زندگی اور اس کا بیان غیر محسوس سادگی اور پروقار طریقے سے ظفر گورکھپوری کی شاعری کا حصہ ہے۔ انہوں نے زندگی کے اتار چڑھاؤ کے نہایت عمیق جائزہ کے بعد بہت سہل انداز میں بہت بڑی حقیقتوں کو روشناس کرایا ہے:
زمین پاؤں سے باندھے رکھو‘ اسی میں ہے خیر
کہیں سے کب وہ کدھر ہانک دے‘ ہوا ہی تو ہے!

شہر میں رہتے ہوئے گاؤں کی پرسکون‘ فطری اور حسن پرور زندگی انہیں ہر لمحہ اپنی جانب کھینچتی رہی جسے انہوں نے اپنے استعاراتی نظام کا مستقل حصہ بنائے رکھا
پتھریلے کناروں سے پٹکتا رہا سر کو
دریاؤں کے ہمراہ بھی تنہا رہا پانی

زنجیر نے موجوں کی اسے باندھ رکھا تھا
رہ رہ کے مری سمت لپکتا رہا پانی

مٹی کی کبھی گود میں‘ چڑیوں کے کبھی ساتھ
بچوں کی طرح کھیلتا‘ ہنستا رہا پانی

وہ اپنے آپ کو محرومیوں اور دنیا کی ناانصافیوں سے ماورا نہیں جانتے بلکہ ایک عام انسان کی طرح زندگی کرنے کے متمنی نظر آتے ہیں‘ ان کی شاعری میں اس کا اظہار دو آتشہ ہو جاتا ہے اور وہ بے ساختہ پکار اٹھتے ہیں:
مٹی! تجھ کو نذر کئے ہیں ہم نے اپنے سارے خواب
اپنے ہاتھوں دفنائے ہیں کیسے پیارے پیارے خواب

کیسی کیسی چین کی پریاں پل میں ہو جاتی ہیں راکھ
پلکوں اوپر رکھ جاتے ہیں ہر شب کچھ انگارے، خواب

پتھر کی بے رحم زمیں پر ہاتھ سے گر کر ٹوٹ گیا
کانچ کے برتن ہی تو ٹھہرے آخرکار ہمارے خواب

اُن سے مل کر کچھ تو ہلکا ہو جاتا ہے جی کا بوجھ
باتیں کرنے آ جاتے ہیں اکثر سانجھ سکارے خواب

آنکھ کے دروازے تک آئے، پُرسہ دے کر لوٹ گئے
اس کے سوا اور کرتے بھی کیا، بے بس اور بے چارے خواب

دل کا تٹ، آنکھوں کا پانی، زخم کا سبزہ، درد کی دھوپ
ڈیرہ ڈالتے اور کہاں پر آخر یہ بنجارے خواب

اسی طرح ان کی ایک اور غزل دیکھئے:
تارے چھپ جائیں کہیں‘ آسماں کالا ہو جائے
بچہ سوتے میں ہنسے اور اجالا ہو جائے

خواب یوں آنکھوں میں ہے‘ جیسے کرن گنگا میں
اور جب سامنے آئے تو ہمالہ ہو جائے

کچھ بھی کر سکتا ہے‘ پتھر بھی اٹھا سکتا ہے
زندگی جس کے لیے زہر کا پیالہ ہو جائے

شاید انساں کو کوئی راستہ ملبے سے ملے
اچھا ہوگا کہ یہ دنیا تہہ و بالا ہو جائے

ایک مٹھی جو یہ سبزہ ہے‘ اسے نم رکھو
جانے کس وقت یہ سورج کا نوالہ ہو جائے

اے ظفر شعر مرا ابر کی مانند اٹھے
اور کسی نخلِ برہنہ کا دوشالہ ہو جائے

ان کے شعری مجموعوں میں ”تیشہ“، ”آر پار“، ”زمیں کے قریب“، ”وادی سنگ“ اور ”گوکھرو کے پھول شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ”ناچ ری گڑیا“ (بچوں کی نظمیں) اور ”سچائیاں“ (بچوں کی کہانیاں) بچوں کے ادب کیلئے ان کے کئے گئے کام کی یاد دلاتی رہیں گی۔ ظفر گورکھپوری کی تصنیف ”وادی سنگ“، ”ناچ ری گڑیا“ اور ”سچائیاں“ پر اردو اکادمیوں کی جانب سے انہیں انعامات سے بھی نوازا گیا۔ علاوہ ازیں ڈرامہ نویسی میں بھی ان کا ایک اہم مقام ہے، ”عقل حیران و پریشان“، ”سمراٹ اشوک“، ”ایک تھا کنکر“، ”ایک تھا موتی“، ”دوبھائی“ اور ”نیا انصاف“ وغیرہ ان کے سرخیز قلم کا ہی نتیجہ تھے۔
ظفر گورکھپوری کی شاعری زندگی کے تمام عناصر، تمام ذائقوں اور تمام موسموں سے معمور ہے۔ موضوعات کے ہنگام اور سیلاب میں رہتے ہوئے بھی انہوں نے اپنی راہ الگ اور منفرد رکھی، انہیں آنسو کو آفتاب بنانے کا ہنر خوب خوب آتا تھا اور یہی حسن ان کی انفرادیت کی دلیل ہے۔
نظر ہے‘ اور تغیر کا سلسلہ ہی تو ہے
کہاں پہ آ کے بدل جائے‘ زاویہ ہی تو ہے

تمام سمتوں کی آگاہیاں ضروری ہیں
کہ یک بہ یک کہاں مڑ جائے‘ راستہ ہی تو ہے

ترا خیال سلامت کہ یہ سرِ صحرا
بس اک حسین سے تھوڑا سا واسطہ ہی تو ہے

زمین پاؤں سے باندھے رکھو‘ اسی میں ہے خیر
کہیں سے کب وہ کدھر ہانک دے‘ ہوا ہی تو ہے

زمانہ نت نئے منظر دکھاتا رہتا ہے
رہے گا کتنے دنوں یاد‘ حادثہ ہی تو ہے

کچھ تشبیہات اور استعارات صرف ظفر گورکھپوری سے منسوب کئے جا سکتے ہیں۔ ان کا شعر ان کی فکری اور فنی ریاضت کا اعلان کرتا ہے۔ آئیے ان کے چند اشعار سے لطف کشید کریں:
شہر میں دل کے سروکار کہیں چلتے ہیں
دشت اپنوں کو سمجھتا ہے‘ وہیں چلتے ہیں

خود جہاں اپنی حرارت سے فروزاں ہوں چراغ
وہاں احکام ہواؤں کے نہیں چلتے ہیں

بوجھ جو سانسوں پہ ہے‘ کم نہیں ہونے والا
شہر میں حبس زیادہ ہے‘ کہیں چلتے ہیں

میں وہاں راہ کی‘ رفتار کی کیا بحث کروں
اپنے پیروں سے جہاں لوگ نہیں چلتے ہیں

پار کر جاؤں گا اک روز یہ صحرائے گماں
میں نہیں چلتا‘ مرے پائے یقیں چلتے ہیں

زندگی! تجھ سے زیادہ وہ سمجھتے ہیں تجھے
رکھ کے دن رات جو چھاتی پہ زمیں‘ چلتے ہیں

راستے اچھے‘ ہوا اچھی‘ سفر بھی دلچسپ
پہلے قدموں پہ تو آ جائے یقیں‘ چلتے ہیں

ان کےاشعار پڑھ کر ہمارے جذبات اور احساسات و نظریات میں سنجیدگی پیدا ہوتی ہے، ان کی  شاعری کی کئی پرتیں ان کے کلام کو بار بار پڑھنے سے ہر بار پہلے سے زیادہ کھلتی ہیں اور ذہن روشن ہوتا ہے۔
نظر آتا نہیں لیکن اشارہ کر رہا ہے
کوئی تو ہے جو میرا کام سارا کر رہا ہے

اس آبادی میں کچھ ہوں گے جنہیں پیاری ہے دنیا
بڑا حصہ تو مجبوراً گوارا کر رہا ہے

نہ پوچھو دل کی‘ آنسو خشک ہیں اور درد کم کم
یہ دیوانہ کسی صورت گزارا کر رہا ہے

زمیں کی کوکھ چھلنی کر رہا ہے رات دن جو
وہ اپنے آپ کو بھی پارہ پارہ کر رہا ہے

مژہ سے ٹوٹ کر گرنے کا منظر سب نے دیکھا
خبر بھی ہے جو مٹی میں ستارہ کر رہا ہے

مجھے یوں بے سہارا کر کے اس کو کیا ملے گا
مگر کچھ سوچ کر ہی بے سہارا کر رہا ہے

کڑی ہے دھوپ‘ رک جاؤ ذرا آموں کے نیچے
ظفر صاحب! تمھیں کوئی اشارہ کر رہا ہے

ان کی شاعری میں استعاروں کی دلکشی ایک نیا منظر سجا دیتی ہے، شعر کا یہی انداز جدیدیت کا طرہ سجا کر ہماری نظروں کے سامنے محوِ رقص ہوتا دکھائی دینے لگتا ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے