بند کریں
شاعری مضامینانتخاب سراج الدّین ظفر۔ تعارف اور منتخب کلام تحریر : عرفان ستار

انتخاب کے مزید مضامین

- مزید مضامین
سراج الدّین ظفر۔ تعارف اور منتخب کلام
تحریر : عرفان ستار
یہ بات بہت سے احباب کے لیے نئی ہوگی کہ ہمارے عہد کے شاعر ِ بے بدل انور شعور باقاعدہ طور پر سراج الدین ظفر کے شاگرد ہیں۔ جس استاد کا شاگرد ایسا باکمال ہو اس کی عظمت میں بھلا کس کو شک ہو سکتا ہے؟

سراج الدین ظفر میرے بے حد پسندیدہ شاعر ہیں۔ ایک شعری مجموعہ 'غزال و غزل' ان کی اردو ادب میں ابدی حیات کا ضامن ہے۔ منفرد لہجہ کی بات چھڑ جائے، تو سراج الدین ظفر سے بہتر مثال شاید ہی مل سکے۔ عزیز حامد مدنی کی طرح ظفر بھی شاعروں کے شاعر ہیں۔ زبان و فن ِ شاعری پر جیسے گرفت ان کی ہے، پچھلے پچاس برسوں کی اردو غزل میں شاید ہی نظر آئے۔ بظاہر رندانہ نظر آنے والی ان کی شاعری جب اپنے بھید بھاوٗ کھولتی ہے، تو پڑھنے والا ششدر رہ جاتا ہے۔ بے بناہ شعریت، فنّی کاملیت، جمالیات، غنایت، تصوف، رمزیت، مضمون آفرینی،کیا ہے جو ان کے مختصر سے دیوان میں موجود نہیں۔ ایسا لہجہ اور قدرت ِ کلام کہ بس سبحان اللہ۔۔۔۔۔

یہ بات بہت سے احباب کے لیے نئی ہوگی کہ ہمارے عہد کے شاعر ِ بے بدل انور شعور باقاعدہ طور پر سراج الدین ظفر کے شاگرد ہیں۔ جس استاد کا شاگرد ایسا باکمال ہو اس کی عظمت میں بھلا کس کو شک ہو سکتا ہے؟

ذیل میں ان کا تعارف، اور پھر منتخب کلام۔

 

 

سراج الدین ظفر ۲۵ مارچ ۱۹۱۲ کو جہلم میں پیدا ہوئے۔ ایف سی کالج، لاہور سے بی اے، اور پھر پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کیا۔ انھیں بچپن سے ہوابازی کا شوق تھا، اور وہ غیر منقسم ہندوستان کے نوعمر ترین لائیسنس یافتہ پائلٹ تھے۔ 

پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز وکالت سے کیا، مگر جلد ہی انھیں پاک فضائیہ میں کمیشن مل گئی۔ پاک فضائیہ سے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ طباعت و اشاعت کے ممتاز ادارے فیروز سنز لمیٹڈ سے وابستہ ہوگئے۔

 

ظفر صاحب نے انگریزی، اردو، اور تاریخ کی کم و بیش چالیس درسی کتب تصنیف یا مرتب کیں جو برسوں پاکستان کے ہر حصے میں منظور شدہ درسی کتب کی فہرست میں شامل رہیں۔ 

 

 

غزال و غزل ان کا واحد شعری مجموعہ ہے جسے شائع ہوئے اب چالیس سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، اور اب بازار میں دستیاب نہیں۔ اس اعتبار سے یہ پوسٹ احباب کے لیے ایک خاصے کی چیز ہے۔ ظفر صاحب انگریزی میں بھی شاعری کرتے تھے اور ان کی نظمیں عالمی ادبی جریدوں میں جگہ پاتی رہی ہیں۔ شاعری کے علاوہ تاریخ، فلسفہ، علم ِ نجوم اور روحانیات سے خاص شغف رکھتے تھے۔

">سُبوئے جاں میں چھلکتا ہے کیمیا کی طرح

 

>کوئی شراب نہیں عشق ِ مصطفٰی کی طرح

وہ جس کے لُطف سے کِھلتا ہے غنچہءِ ادراک

وہ جس کا نام نسیم ِ گرہ کُشا کی طرح

طلسم ِ جاں میں وہ آئینہ دار ِ محبوبی

حریم ِ عرش میں وہ یار ِ آشنا کی طرح

وہ جس کا جذب تھا بیداریءِ جہاں کا سبب

>وہ جس کا عزم تھا دستور ِ ارتقا کی طرح

 

وہ جس کا سلسلہءِ جُود ابر ِ گوہربار

-">وہ جس کا دست ِ عطا مصدر ِ عطا کی طرح

 

خزاں کے حجلہءِ ویراں میں وہ شگفت ِ بہار

-">فنا کے دشت میں وہ شعلہءِ بقا کی طرح

 

وہ عرش و فرش و زمان و مکاں کا نقش ِ مُراد

وہ ابتدا کے مطابق، وہ انتہا کی طرح

بسیط جس کی جلالت، حمل سے میزاں تک

محیط جس کی سعادت خط ِ سما کی طرح

شرف ملا بشریّت کو اُس کے قدموں میں

یہ مُشت ِ خاک بھی تاباں ہوئی، سہا کی طرح

اُسی کے حسن ِ سماعت کی تھی کرامت ِ خاص

وہ اک کتاب، کہ ہے نسخہءِ شفا کی طرح

وہ حسن ِ لم یزلی تھا، تہہ ِ قبائے وجود

یہ راز ہم پہ کُھلا رشتہءِ قبا کی طرح

بغیر ِ عشق ِ محمد، کسی سے کُھل نہ سکے

رموز ِ ذات، کہ ہیں گیسوئے دوتا کی طرح

ریاض ِ مدح ِ رسالت میں راہوار ِ غزل

چلا ہے رقص کُناں، آہوئے صبا کی طرح

نہ پوچھ معجزہءِ مدحت ِ شہ ِ کونین

مرے قلم میں ہے جُنبش پر ِ ہُما کی طرح

جمال ِ رُوئے محمد کی تابشوں سے ظفر

دماغ ِ رِند ہُوا عرش ِ کبریا کی طرح

..........................................................

غزل

 

اِدھر وہ دیر قیامت میں تھی، کہ ہُو کرتے

اُدھر سے مغبچے دوڑے سبُو سبُو کرتے

مقابلے میں جو آتی تو ہم سے دست دراز

خراب گردش ِ دوراں کی آبرو کرتے

اِس انتظار میں زندہ عُروس ِ گل ہے کہ ہم

اِدھر بھی آئیں گے تنظیم ِ رنگ و بُو کرتے

ہمارے ہاتھ سے ہوتا لباس ِ زہد جو چاک

اِسے رگ ِ گُل ِ نو رستہ سے رُفو کرتے

خدا گواہ، کہ پروردگار ہوتے ہم

ذرا سی اور اگر جراتِ نُمو کرتے

بچے نہ دستِ زلیخائے نو بہار، کہ ہم

قدح بدست تھے کیا حفظ ِ آبرو کرتے

 

ہجوم ِ زہرہ وشاں تھا کہ عالم ِ اسرار

ہم آگئے ہیں کہاں سیرِ رنگ و بُو کرتے

وہ ہم نے پردہءِ اسرار پر کیے ہیں ستم

کہ عمر ِ خضر گزر جائے گی رُفو کرتے

ہم اُس جہاں میں تھے کل شب کسی کے ساتھ ، کہ لوگ

صبا کی طرح بھٹکتے، جو جستجو کرتے

شبِ بہار نہ تھی اِس قدر دراز، کہ ہم

تری بہار کا اندازہءِ نُمو کرتے

ہمارے دوش پہ کھلتی جو تیری زلف، تو ہم

نسیم ِ صبح کے لہجے میں گفتگو کرتے

اِدھر سے ہو گے گزرتی تو ہم بہار کے ساتھ

غزال بن کے غزالوں کی جستجو کرتے

سیاہیءِ رخِ اہل ِ ریا تھی بے درماں

ہزار کوثر و تسنیم سے وُضو کرتے

وہ صاف گو ہیں کہ ہم تو فقیہ ِ شہر سے بھی

پری وشوں کی ہی کرتے، جو گفتگو کرتے

بلائے جاں ہیں ظفر دلبران ِ حلقہءِ شب

بجا تھا ہم بھی اگر دلبری کی خُو کرتے

..............................................................................

 

غزل

 

ہم آہوان ِ شب کا بھرم کھولتے رہے

میزان ِ دلبری پہ انھیں تولتے رہے

عکس ِ جمال ِ یار بھی کیا تھا، کہ دیر تک

آئینے قُمریوں کی طرح بولتے رہے

کل شب ہمارے ہاتھ میں جب تک سُبو رہا

اسرار کتم ِ راز میں پر تولتے رہے

کیا کیا تھا حل ِ مسئلہءِ زندگی میں لطف

جیسے کسی کا بند ِ قبا کھولتے رہے

ہر شب شب ِ سیاہ تھی لیکن شراب سے

ہم اُس میں نور ِ صبح ِ ازل گھولتے رہے

ہوچھو نہ کچھ کہ ہم سے غزالان ِ بزم ِ شب

کس شہر ِ دلبری کی زباں بولتے رہے

کل رات ملتفت تھے اِدھر کچھ نئے غزال

ہم بھی نظر نظر میں انھیں تولتے رہے

تا صبح جبرئیل کو ازبر تھا حرف حرف

راتوں کو جو سُرور میں ہم بولتے رہے

اتنی کہانیاں تھی کسی زُلف میں کہ ہم

ہر رات ایک دفتر ِ نو کھولتے رہے

کل رات میکشوں نے توازن جو کھو دیا

خط ِ سُبو پہ کون و مکاں ڈولتے رہے

پہلے تو خود کو عشق میں حل ہم نے کر دیا

پھر عشق کو شراب میں ہم گھولتے رہے

روکا ہزار بزم نے ہنگام ِ مے کشی

ہم تھے، کہ راز ِ ارض و سما کھولتے رہے

کل شب تھا ذکر ِ حُور بھی ذکر ِ بتاں کے ساتھ

زُہد و صفا اِدھر سے اُدھر ڈولتے رہے

اپنا بھی وزن کر نہ سکے لوگ، اور ہم

روح ِ ورائے روح کو بھی تولتے رہے

سرمایہ ءِ ادب تھی ہماری غزل ظفر

اشعار ِ نغز تھے، کہ گُہر رولتے رہے

------------------------------------------------

 

غزل

ساغر اُٹھا کے زُہد کو رد ہم نے کر دیا

پھر زندگی کے جزر کو مد ہم نے کر دیا

وقت اپنا زرخرید تھا، ہنگام ِ مے کشی

لمحے کو طُول دے کے ابد ہم نے کر دیا

مے خانے سے چلی جو کبھی روٹھ کر بہار

آگے سُبو کو صورت ِ سد ہم نے کر دیا

دل پند ِ واعظاں سے ہُوا ہے اثر پذیر

اس کو خراب ِ صحبت ِ بد ہم نے کر دیا

دیکھا جو شب کو زاویہءِ سینہءِ بُتاں

اشکال ِ ہندسہ کو بھی رد ہم نے کر دیا

تسبیح سے سُبو کو بدل کر خدا کو آج

بالاتر از شمار و عدد ہم نے کردیا

رندی کا وہ کسی میں سلیقہ کہاں ہے اب

ضائع یہ ترکہءِ اب و جد ہم نے کر دیا

بادہ تھا یا عروس ِ فراست تھی جام میں

جو کہہ دیا بہک کے سند ہم نے کر دیا

زاہد کو خانقاہ میں ملتی کہاں شراب

لیکن کچھ اہتمام ِ رسد ہم نے کر دیا

تسخیر ِ شاہدان ِ گُل اندام کے لیے

ہر شب کو نذر ِ کاوش و کد ہم نے کر دیا

مصرعوں میں گیسوِوں کی فصاحت کا بھر کے رنگ

اپنی ہر اک غزل کو سند ہم نے کر دیا

تشبہہ دے کے قامت ِ جاناں کو سرو سے

اونچا ہر ایک سرو کا قد ہم نے کر دیا

پہنچے کسی کے عشق میں ماہ و نجوم تک

حد ِ سما کو شوق کی حد ہم نے کر دیا

پھر اُس عقیق ِ لب پہ سُبو رکھ دیا ظفر

پھر شمس کو سُپرد ِ اسد ہم نے کر دیا

غزل

فرش ِ گُل بچھوائیں، رنگ و بُو کی ارزانی کریں

آو بلقیسان ِ دوراں سے سلیمانی کریں

پھر پریشاں ہو کوئی زلف ِ سمن بُو، اور ہم

رات بھر تحقیق ِ اسباب ِ پریشانی کریں

واعظان ِ شہر ہیں سب آدمیّت کے مزار

لا صراحی، ان مزاروں پر گُل افشانی کریں

ہم سا رند ِ با کرامت کیا کوئی ہوگا، کہ ہم

دن کو درویشی کریں، راتوں کو سلطانی کریں

خلوت ِ شب میں جو درپے ہو زلیخائے بہار

ہم نہیں یوسف، کہ عُذر ِ پاک دامانی کریں

پھر بہار آئی، اُٹھو اے دختران ِ سبز رنگ

کُنج ِ ریحاں میں سُبو لبریز ِ ریحانی کریں

زاہدو، ہٹ جاو رستے سے، کہ ہم بادہ گسار

کوئی سامان ِ نجات ِ نوع ِ انسانی کریں

شرط ِ اوّل کشف کی یہ ہے کہ پیران ِ حرم

دیدہ و دل حُسن ِ نوخیزاں سے نورانی کریں

کیا کہیں کیا ہے ہماری بت پرستی کا جواز

کس طرح تشریح ِ کیفیات ِ وجدانی کریں

دفتر ِ اسرار ہے بزم ِ گُل اندامان ِ شہر

آو اس دفتر کی ہم اوراق گردانی کریں

دور میں ساغر ہے، ذہنوں کے دریچوں میں ظفر

آوٗ آویزاں چراغ ِ لعل ِ رمّانی کریں

آیا ہے وقت ِ خاص پھر اہل ِ نیاز پر

پہرے بٹھاوٗ جلوہ فروشان ِ ناز پر

سمجھیں گے مہ وشوں کو حقیقت پسند کیا؟

آو مری طرف، کہ سند ہوں مجاز پر

بزم ِ قدح وہ عالم ِ اسباب ہے جہاں

کرتے ہیں غزنوی کو مقرّر ایاز پر

کل رات محو ِ سنبُل و ریحاں تھی جب بہار

میرا بھی تھا کرم کسی زُلف ِ دراز پر

ہم پر کشود ِ زُلف ِ بُتاں سے کُھلے وہ راز

کُھلتے نہ تھے جو گوشہ نشینان ِ راز پر

یوں زندگی پہ میری نظر ہے، کہ جس طرح

اک جسم ِ مرمریں کے نشیب و فراز پر

وہ میں تھا، مہ وشوں سے سلامت گزر گیا

یہ تجربہ کرو نہ کسی پاک باز پر

دنیا میں کوئی زُہد سی بے وزن شئے نہیں

رکھ دیکھیئے ترازوئے سوز و گداز پر

روکا کبھی جو نالہ ءِ بے اختیار ِ شوق

ناگاہ ضرب ِ راز پڑی دل کے ساز پر

کھینچو کچھ اس طریق سے اے مغبچو شراب

لے آوٗ کھینچ کر اِسے سطح ِ جواز پر

آئے جو مدرسے میں قبا اُس کی زیر ِ بحث

سب راز آشکار ہوں جُویان ِ راز پر

کیا خوب کی ہے شوق نے خدمت مرے سُپرد

مامُور ہوں مساحت ِ زُلف ِ دراز پر

آئے فنا کا ذکر، تو گردش میں لا کے جام

پھینکو کمند خضر کی عُمر ِ دراز پر

دیکھے ہیں ماورائے حقیقت کے ہم نے خواب

سر رکھ کے آستانہ ءِ حُسن ِ مجاز پر

دنیا نہیں ہے بیش ِ دو سہ سجدہ ہائے شوق

پابندیاں نہ ہوں جو طریق ِ نماز پر

آدم کے بُغض و شر سے جو ہوجائے رُو شناس

ابلیس خود بضد ہو سجود ِ نیاز پر

مہ وش ہیں رقص میں ظفر اُٹھو، غزل کہو

بانہوں کے لوچ اور بدن کے گداز پر

اے اہل ِ نظر، سوز ہمیں، ساز ہمیں ہیں

عالم میں پس ِ پردہ ءِ ہر راز ہمیں ہیں

منسوب ہمیں سے ہیں گُل و مُل کی روایات

جو شوق بھی ہو، نقطہءِ آغاز ہمیں ہیں

اے شاہد ِ کونین اٹھا پردہ ءِ اسرار

اب خلوتیان ِ حرم ِ ناز ہمیں ہیں

اے جبر ِ مشیّت، بہمہ بے پروبالی

اب بھی ہے جنھیں ہمت ِ پرواز ہمیں ہیں

مے خوار سہی ہم، مگر اے زاہد ِ خود بیں

اس شہر میں اخلاص کی آواز ہمیں ہیں

یہ رتبہ ءِ عالی نہیں ہر ایک کا مقسوم

رندی کا ملا ہے جنہیں اعزاز، ہمیں ہیں

مے خانے میں چلتا نہیں اعجاز کسی کا

کچھ ہیں تو یہاں صاحب ِ اعجاز ہمیں ہیں

خوش ہیں، کہ نہیں اُس ستم آرا کا ستم عام

نازاں ہیں کہ اُس کے حدف ِ ناز ہمیں ہیں

دنیا سے جو نسبت تھی تو گم نام رہے یم

اب تجھ سے جو نسبت ہے تو ممتاز ہمیں ہیں

وہ انجمن ِ ناز ِ بُتاں ہو کہ سر ِ دار

جس سمت سے گزرے ہیں، سرافراز ہمیں ہیں

دیکھیں جو کسی اور طرف بھی وہ سر ِ بزم

مقصود ِ نگاہ ِ غلط انداز ہمیں ہیں

اے گیسُوئے برہم، جو سزا دے تو ہمیں دے

ہاں بے ادب ِ انجمن ِ ناز ہمیں ہیں

ہم ہوش میں جب تک تھے، تمہیں راز میں رکھّا

بے خود ہیں تو اب پردہ در ِ راز ہمیں ہیں

کل رات اُٹھائی تھی تری زُلف نے تمہید

اب شوق کا دیباچہ و آغاز ہمیں ہیں

تھا قفل زباں پر، مگر اب دید سے تیری

طُوطی کی طرح زمزمہ پرداز ہمیں ہیں

ہر چیز زمانے کی ہمیں سے ہے عبارت

سینے میں ہے کونین کے جو راز، ہمیں ہیں

تحریر جو خالق نے کیا لوح ِ ازل پر

اُس باب ِ پُراسرار کا آغاز ہمیں ہیں

جبریل جہاں بال کُشا ہو نہیں سکتا

اُس اوج پہ سرگرم ِ تگ و تاز ہمیں ہیں

اے شاہد ِ معنٰی صف ِ شیریں سخناں میں

ہے کوئی اگر شاعر ِ طنّاز، ہمیں ہیں

اے جان ِ ظفر، حافظ و سعدی کی قفا میں

اب وارث ِ مے خانہ ءِ شیراز ہمیں ہیں

(0) ووٹ وصول ہوئے

: مضامین سےمتعلقہ شعراء