بند کریں
شاعری مضامینانتخاب کاشف مجید کی شاعری سے انتخاب

انتخاب کے مزید مضامین

پچھلے مضامین -
کاشف مجید کی شاعری سے انتخاب
کاشف مجید کی شاعری سے کاشف حسین غائر کا انتخاب ۔۔

کاشف مجید کے کچھ اشعار

پھر اس کو میں نے تمھاری طرف اچھال دیا
کسی ستارے پہ جب مہرباں ہوا ہوں میں

پیڑ کا سایہ مجھے اپنی طرف کھینچتا تھا
تیری دیوار پہ احسان کیا ہے میں نے

تمام شہر کی آنکھوں میں جاگنے والے
مری گرفت میں تیرا جمال آئےکبھی

اندھیرا جاتا ہے جب بھی الٹ پلٹ کےمجھے
تو روشنی مجھے ہموار کرنے آتی ہے

جو دل سے ہوتی ہوئی آ رہی ہے میری طرف
یہ لہر مجھ کو خبردار کرنے آتی ہے

جینے کی اداکاری کروں گا ترے آگے
میں اور طرح سے تجھے تسخیر کروں گا

اسی وقت نے کیسے رو اپنی تبدیل کی تھی
جب آیا تھا اپنے ہی شام و سحر رکھنے والا

میں اکیلا ہوں رتجگوں کےبیچ
خلق کی خواب سے بنی ہوئی ہے

تجھے بتاؤں گا اپنے خلوص کی قیمت
کبھی جب آؤں گا بازار کی طرف سے میں

اگر چہ خلق مرے ہاتھ چومتی ہے مگر
تمھارے جیسا ابھی تک کہاں ہوا ہوں میں

زندگی کی طرف بھی آؤں گا
ہجر کا رنج کھینچتا ہوا میں

ہمارا اور تمھارا ملال ایک سا ہے
اِدھر چراغ بجھا اور اُدھر ستارہ گیا

عجیب جنگ یہاں پر لڑی گئی جس میں
نہ کوئی زندہ بچا اور نہ کوئی مارا گیا

تُو خود تو بہت خوب، بہت خوب ہے لیکن
اک شخص نہایت ہی بُرا ہے ترے اندر

افسوس! مری سمت بھی دیکھا نہیں تو نے
میں وہ تھا جسے تجھ سے کوئی کام نہیں تھا

گلاب جس کے لیے ہیں اسے خبر کروں میں
وہ دن بھی آئے کہ اس کی طرف سفر کروں میں

لطف کی بات ہے خدا کو بھی
گھیر لیتے ہیں بے شمار خدا

شروع کارِ محبت تو کر کہیں سے بھی
کہ میرا کام چلے گا تری نہیں سے بھی

ابھی تو صرف اُتارے گئے ہو مسند سے
کبھی اٹھالیے جاؤ گےتم زمیں سے بھی

خود کو بھی یاد میں اب ایک زمانے سے نہیں
تم گریبان سے پکڑو مجھے، شانے سے نہیں

اک اور روپ میں اب کےطلوع ہوں گے ہم
غروب ہوتی ہوئی ساعتِ زماں سے اُدھر

اے دل، تر ےمنصب کو سمجھتے ہیں سو ہم نے
دنیا کو کبھی تیرے برابر نہیں رکھا

نہ پوچھ کیسے اسے زندگی گزارتی ہے
مری طرح جو مکمل بھی ہو ادھورا بھی

اور اب انھیں بھی ترے خدوخال یاد نہیں
جو ایک عمر رہے تیری داستان کے ساتھ

میں رہوں یا مری کہانی رہے
رفتگاں کی کوئی نشانی رہے

مجھ کو دکھ ہے مرے معبود تیرےہوتے ہوئے
اپنی تنہائی کا اعلان کیا ہے میں نے

(0) ووٹ وصول ہوئے

: مضامین سےمتعلقہ شعراء