ترا گلاب جیسا چہر ہ تری سمندر جیسی آنکھیں

ترا گلاب جیسا چہر ہ تری سمندر جیسی آنکھیں

بہت ہی عجب تاثیر والی ہیں تری آنکھیں

ترے آنکھ اٹھانے کا انداز بھی ہے کس قدر ظالم

تری عادت ہے یا جلوہ دکھا رہی ہیں تری آنکھیں

فرشتوں نے تو صرف ترا جرم ہی بنایا ہو گا

خدا نے اپنے ہاتھوں سے تراشی ہوں گی تری آنکھیں

بڑی حسین ہے ترے چہرے پہ مسکراہٹ کی ساحری

یکدم خشک ہو گئیں مرے رونے پہ تری آنکھیں

تم مانو گے تو نہیں مگر سچ یہی ہے بالآخر

کہ ترے دل کا آئینہ بن گئیں ہیں تری آنکھیں

ہائے اب کلیاں بھی گلابوں کو ہمر از نہیں کرتی

کلیوں کی خوشخرامی دیکھ طوفاں میں بھی ا نداز نہیں بدلتی

یہ قرطاس کا بوسیدہ قطعہ کون دے گیا

فصل خزاں میں یہ نکھرا ہوا پھول کون دے گیا

جو بھی ملا یہاں صرف خاطر غرض ہی ملا

آہ ان لوگوں کو یہ عادت حرص کون دے گیا

ترے قانون بھی نرالے ، ترا انصاف بھی نرالا

ستمگروں کو بچا کر ہم مظلوموں کو ہی سز ا کون دے گیا

بحر غم میں تو میں اکیلا ہی رواں تھا لیکن

میری ڈوبتی ہوئی کشتی کو سہارا کون دے گیا

وہ آئینے میں دیکھیں ادائیں ہم انہیں کیا سمجھائیں

تری بے وفائی چھوڑ کر تجھے تعریف حُسن کون دے گیا

تم لوگوں سے ان کا حال کیا پوچھتے ہو زبیر#

تم بھی بتاوٴ کہ تمہیں یہ شوق سخن کون دے گیا

داغ لگ گئے تھے اس کے دل پہ عادت جفا کے

میں تب ان ملاسے جب پاک ہوئے وہ اشک ندامت سے نہا کے!

سردار زبیر احمد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(2380) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments