بند کریں
شاعری مضامینانتخاب زوللفقار عادل کے مجموعہ سے چند منتخب اشعار (ابرار احمد)

انتخاب کے مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
زوللفقار عادل کے مجموعہ سے چند منتخب اشعار (ابرار احمد)
ذوالفقار عادل نے زبان کو ایسے برتا ہے کہ تراکیب اور روایت سے زیادہ جڑت نہ ہونے کے با وصف ایک منفرد اور اپنا لب و لہجہ دریافت کر دکھایا ہے .مکالمے کی فضا ، عصری حقیقتوں کے درمیان فرد کی تنہائ اور بے بسی اور جدید زندگی میں در پیش الجھنیں اس کی غزل میں کچھ اس طور ڈھل کر آئ ہیں کہ غزل کی بہ طور صنف ظاہری حدود کی طرف دھیان ہی نہیں جاتا

شرق مرے شمال میں .. ذوالفقار عادل کا مجموعہ کلام میرے لیے ایک منفرد اور خوش کن خبر لے کر آیا کہ ابھی تازہ کاری سے معمور نہایت عمدہ غزل لکھی جا رہی ہے

مشاعرہ بازی کے زمانے میں غزل پر یہ افتاد آ پڑی ہے کہ ہر کوئی فوری پزیرائی کے حصول میں بیماری کی حد تک مبتلا ہے .ایسے میں شہرت سے بے نیاز ہو کر سچے باطنی تجربے کو شعر میں اس درجہ کامیابی سے ڈھال دکھانا ایک ایسا کمال ہے جس سے کھری اور تازہ شاعری کا سفر اور مستقبل دونوں کی بابت اطمنان ہوتا ہے

ذوالفقار عادل نے زبان کو ایسے برتا ہے کہ تراکیب اور روایت سے زیادہ جڑت نہ ہونے کے با وصف ایک منفرد اور اپنا لب و لہجہ دریافت کر دکھایا ہے .مکالمے کی فضا ، عصری حقیقتوں کے درمیان فرد کی تنہائ اور بے بسی اور جدید زندگی میں در پیش الجھنیں اس کی غزل میں کچھ اس طور ڈھل کر آئ ہیں کہ غزل کی بہ طور صنف ظاہری حدود کی طرف دھیان ہی نہیں جاتا

تفصیل سے لکھنا اس کتاب کا حق ہے جو ہماری تنقید کا فریضہ ہے ..میں اسے دل کی گہرائیوں سے اس مجموعہ کی اشاعت پر مبارک باد پیش کرتا ہوں.. ایک مشورہ .. اس شاعر کو ذرا صبر اور ارتکاز سے پڑھا جانا ضروری ہے ..سرسری انداز سے گزرنا اس غزل کی تفہیم میں رکاوٹ ہو گا میری ناقص راے میں

 

 

.......ہم سفر تھا غبار راہ فنا

ابر سمجھے جسے کئی ہم سے

 

چیخ نہیں سکا کبھی ، آگ نہیں لگا سکا

جلتا رہا ہوں رات دن ، آتش اعتدال میں

اپنی جگہ سے ہٹ کے دیکھ ، پھر وہ جگہ پلٹ کے دیکھ

میں جو نہیں تو اب وہاں ، کیا ہے ترے خیال میں

 

دل سے گزر رہا ہے کوئی ماتمی جلوس

اور اس کے راستے کو کھلا کر رہے ہیں ہم

اک ایسے شہر میں ہیں جہاں کچھ بچا نہیں

لیکن اک ایسے شہر میں کیا کر رہے ہیں ہم

اب تک کوئی بھی تیر ، ترازو نہیں ہوا

تبدیل اپنے دل کی جگہ کر رہے ہیں ہم

 

سرکار ! ہر درخت سے بنتے نہیں ہیں تخت

قربان آپ پر مرے اوزار اور میں

لے کر تو آ گیا ہوں مرے پاس جو بھی تھا

اب سوچتا ہوں تیرا خریدار ، اور میں

 

تم مجھے کچھ بھی سمجھ سکتے ہو

کچھ نہیں ہوں تو غنیمت سمجھو

یہ جو پانی کی خموشی ہے ، اسے

ڈوب جانے کی اجازت سمجھو

 

بیٹھے بیٹھے پھینک دیا ہے آتش دان میں کیا کیا کچھ

موسم اتنا سرد نہیں تھا جتنی آگ جلا لی ہے

 

ہاتھ میں کل جو ہاتھ تھا ، نبض پہ آ گیا ہے آج

وقت کے عارضے میں ہوں ، گزرا ہوا سمجھ مجھے

کالے لباس کا مجھے ایسا بھی تجربہ نہیں

ہنستا بھی ہوں اگر کبھی ، روتا ہوا سمجھ مجھے

 

ہر کردار کے پیچھے پیچھے چل دیتا ہے قصہ گو

یونہی بیٹھے بیٹھے اپنا کام بڑھاتا رہتا ہے

 

جتنا اڑا دیا گیا

اتنا غبار تھا نہیں

پانی میں عکس ہے میرا

پانی مگر میرا نہیں

پھر وہ غزال دم بخود

مرتا رہا مرا نہیں

 

میرے لیے تو ہے یہاں

شہر سے بے گھری مراد

باد چہار سمت سے

مجھ میں کھلا گل تضاد

 

ان آنکھوں سے دو اک آنسو ٹپکے ہوں تو یاد نہیں

ہم نے اپنا وقت گزارا ہر ممکن خاموشی سے

 

یہ کس نے ہاتھ پیشانی پہ رکھا

ہماری نیند پوری ہو گئی ہے

 

پھول کہاں سے آے تھے ، اور کہاں چلے گئے

وقت نہ تھا کہ دیکھتا ، پودوں کی دیکھ بھال میں

 

جانے کس وقت نیند آئ ہمیں

جانے کس وقت ہم تمھارے ہوے

 

دیواروں کو ، دروازے کو ، آنگن کو

گھر آنے کی عادت زندہ رکھتی ہے

 

وابستہ میز پوش کے پھولوں کی زندگی

مہمان سے ہے ، میز سے ہے ، میزباں سے ہے

 

دل نمو دار ہوا ہے دل میں

آنکھ اک آنکھ سے بھر آئ ہے

 

بیٹھے بیٹھے اسی غبار کے ساتھ

اب تو اورنہ بھی آ گیا ہے ہمیں

 

صاحب ! تمہیں خبر ہی کہاں تھی کہ ہم بھی ہیں

ویسے تو اب بھی ہیں ، کوئی مر تو نہیں گئے

 

وہ سفینے کہاں گئے ہوں گے

ڈوبتے ڈوبتے خیال آیا

 

کتاب .. شرق مرے شمال میں

 

انتخاب .. ابرار احمد

(0) ووٹ وصول ہوئے

: مضامین سےمتعلقہ شعراء