بند کریں
شاعری مضامینمضامیناحمد ندیم قاسمی کی برسی پر خصوصی تحریر ( نوید صادق)

مضامین کے مزید مضامین

- مزید مضامین
احمد ندیم قاسمی کی برسی پر خصوصی تحریر ( نوید صادق)
احمد ندیم قاسمی کا کمال یہ ہے کہ وہ محض ایک بڑے شاعر، افسانہ نگار اور صحافی ہی نہیں بلکہ اپنے عہد کی ایک بڑی شخصیت بھی تھے

جنوری 1931ء میں مولانا محمد علی جوہر کی وفات پر روزنامہ ”سیاست “ کے سرورق پرایک نوجوان شاعر احمد شاہ کی پہلی نظم شائع ہوئی جس نے اربابِ فکر و فن کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ اس وقت احمد شاہ کی عمر محض پندرہ برس تھی۔ بعدازاں روزنامہ ”انقلاب“ اور روزنامہ” زمیندار“ میں شائع ہونے والی نظمیں احمد شاہ کی غیر معمولی شہرت کا باعث ہوئیں۔ احمد شاہ آگے چل کر احمد ندیم قاسمی ہوگئے اور روزنامہ سیاست سے شروع ہونے والا ادبی سلسلہ ایک بڑے شاعر، ایک بڑے افسانہ نگار، ایک اہم نقاد اور ایک جید صحافی کے روپ میں ہم تک پہنچا۔ 13 اگست 1947ء رات بارہ بجے قیامِ پاکستان کا اعلان ہوا تو ریڈیو پاکستان کی نشریات کا آغاز سجاد سرور نیازی کی آواز میں قاسمی صاحب کے لکھے قومی ترانوں ”پاکستان بنانے والے، مبارک ہو“ اور ”ہم مسلمان ہیں، ہم مسلمان ہیں“ سے ہوا۔ سجاد سرور نیازی اُس وقت ریڈیو پاکستان پشاور کے ڈائریکٹر تھے۔
اردو اور خصوصاً اردو ادب کا ایک سرسری سا جائزہ لیں تو ہمیں کئی پرکشش شخصیات نظر آتی ہیں، کئی بڑے ادیب ملتے ہیں۔ لیکن یہ دونوں خصوصیات کسی ایک انسان میں خال خال ہی ملتی ہیں۔ احمد ندیم قاسمی کا کمال یہ ہے کہ وہ محض ایک بڑے شاعر، افسانہ نگار اور صحافی ہی نہیں بلکہ اپنے عہد کی ایک بڑی شخصیت بھی تھے۔ انہوں نے نواردانِ سخن کی تربیت اور بھرپور پذیرائی کے ساتھ ساتھ خود اچھا اور بڑا اَدب بھی تخلیق کیا۔ قاسمی صاحب کی شخصی اور ادبی زندگی پر غور کیا جائے تو سمجھ نہیں آتی کہ کس پہلو پر بات کی جائے اور کسے نظر انداز کیا جائے۔
قاسمی صاحب اول اول ترقی پسند تحریک سے وابستہ رہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ وہ ساری زندگی اسی نظریہ پر کاربند رہے لیکن ان کی شاعری کا بغور مطالعہ ان کے کلیتاً ترقی پسند ہونے کی نفی کرتا ہے۔ دیکھا جائے تو قاسمی صاحب نے ڈٹ کر کسی بھی نظریہ کی وکالت نہیں کی اور اس کی بنیادی وجہ شاید یہ ہو کہ کسی ایک نظریہ پر کاربند رہنے والے عمر بھر اسی کا طواف کرتے رہتے ہیں۔ یوں ادبی تخلیقات میں تنوع مفقود ہو جاتا ہے۔ ایک ترقی پسند نظریہ ہی کو دیکھ لیں.... فیض احمد فیض سمیت دیگر ترقی پسند شعرا کا کلام اُٹھا کر دیکھ لیں۔ فیض صاحب کی ترقی پسندی پھر ایک معقول دائرے میں گردش کرتی نظر آتی ہے اور اس کی بنیادی وجہ ان کا دھیما لہجہ ہے، ورنہ دیگر ترقی پسند شعرا کے ہاں تو پیالی میں اٹھتے طوفان والی بات ہے۔ کوئی لاش دیکھ لی تو اس پر شعر کہہ مارا، کہیں گولی چلی تو اس کو موضوعِ سخن بنا لیا۔ اخبار میں فاقے کے باعث کسی کی موت کی خبر دیکھ لی، تو اس پر نظم کہہ ڈالی۔ ترقی پسند شاعری تھی کیا، ایک ابال، ایک وقتی جوش اور بس! شعر سوچنے پر مجبور کرتا ہے لیکن ترقی پسندی کے تحت کہے جانے والے اشعار کو اخباری خبر کی طرح پڑھا، سنا گیا اور خبر کی زندگی کتنی ہوتی ہے، ہم بہ خوبی جانتے ہیں۔ ترقی پسند ادب کا محض واقعاتی ادب بن جانے کا بنیادی سبب ترقی پسند شعراء کے مزاج میں سطحی پن کا غالب ہونا تھا۔ فیض صاحب کے ہاں ہمیں اس ترقی پسندی کی ایک Refined Formملتی ہے اور اسی باعث ان کی شاعری دل کو بھی لگتی ہے۔ لیکن احمد ندیم قاسمی کہ جن کو ترقی پسند نعت کہنے کے باعث ایک ترقی پسند ادیب کے درجے پر فائز کرتے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتے چلے آئے ہیں، کا معاملہ اور آگے تک چلتا نظر آتا ہے، ان کی شاعری میں، ابتدا کی چند تخلیقات چھوڑ کر، واقعاتی اور سطحی پن کہیں نظر نہیں آتا۔
قاسمی صاحب کی شاعری ایک سوچنے، سمجھنے والے انسان کی شاعری ہے۔ اسی لیے یہ شاعری قاری کو بھی سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ان کے اشعار ”سنتے ہی دل میں جو اتر جائیں“ جیسے کلیوں پر پورے نہیں اترتے کہ ان کے نزدیک شاعری محض تفریح کی کوئی چیز نہیں۔ شاعر نے معاشرے میں ایک مثبت کردار ادا کرنا ہوتا ہے اور شاعر کو یہ منصب ودیعت ہوا ہے۔ احمد ندیم قاسمی نے اپنے افسانوں، شاعری اور تنقید میں اس منصب کو بخوبی نبھایا۔
قاسمی صاحب کی شاعری اور افسانوں کا بنیادی موضوع انسان ہے۔ لیکن انسان کو اپنا موضوع بناتے ہوئے بھی وہ ترقی پسندوں کے انسان اور ان کے انسان کے مسائل سے کوسوں دور رہے کہ اُدھر سطحیت کا دور دورہ تھا اور اِدھر طبیعت میں ایک ٹھہراؤ، ایک متانت تھی، ایک مصلح اور ایک ذمہ دار معاشرے کا ذمہ دار فرد تھا۔ احمد ندیم قاسمی کا انسان محض احمد ندیم قاسمی نہیں، ان کے اپنے معاشرے، اپنے شہر اور اپنے ملک کا انسان نہیں، ان کا انسان تو پوری دنیا کا انسان ہے.... قدیم سے حال تک کا انسان۔ ان کا انسان جن مسائل سے دوچار ہے، وہ عام زندگی سے لے کر سیاسی، سماجی، اقتصادی اور نفسیاتی فکر کو محیط ہیں۔ اور پھر یہ انسانی مسائل فلسفے، تصوف اور مابعدالطبیعیاتی فکر تک جا پہنچتے ہیں۔ ان کا چیزوں کو دیکھنے اور بعدازاں ان کا تجزیہ کرنے کا ایک اپنا اور ازحد منفرد انداز ہے۔ ان کی آپ بیتی جگ بیتی بن کر قاری کے فکر میں ارتعاش پیدا کرتی ہے، اسے ہر معاملہ میں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔ ان کے افسانوں میں دیہی زندگی اور رائج معاشرت میں انسانی نفسیات کی بھول بھلیوں کے تجزیات بکثرت ملتے ہیں۔ احمد ندیم قاسمی انسان کو حسن، رنگ، صدا اور مسلسل ارتقا کہتے ہیں۔
احمد ندیم قاسمی اپنی ذات میں ایک ادبی تحریک، ایک ادبی ادارہ تھے۔ ان کی زندگی میں ان پر بہت کام ہوا لیکن اس ”بہت“ میں ہمیشہ ان کی شخصیت غالب رہی، ان کے فن کی طرف زیادہ توجہ نہیں کی گئی۔ اسی بات کو وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو ان کے فن پر جس قدر بحث ہوئی اس میں ان کا افسانہ غالب رہا، شاعری پر کام ہوا تو ترقی پسندی کا لیبل لگا کر ان کی نظموں کو موضوعِ بحث بنایا گیا۔ ان کی غزل کی طرف مناسب انداز میں توجہ نہیں کی گئی۔ لیکن ان کی وفات کے بعد تو یہ سلسلہ بھی اختتام پذیر ہو گیا۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ قاسمی صاحب کی نظم، غزل، افسانہ، تنقید اور کالم نگاری ایسی نہیں کہ انہیں اتنی جلدی فراموش کر دیا جائے۔ اور گزرتے وقت کے ساتھ نقاد خود اس طرف مائل ہوں گے کہ وقت بہت بڑا منصف ہے۔ قاسمی صاحب کی غزل سے چند اشعار کے ساتھ بات ختم کرنا چاہوں گا:
ہر شاخ ہے برگ و بر سے خالی
اشجار اُگا رہا ہوں کب سے
دیوار میں رخنہ پڑ گیا تھا
اِک خشت جما رہا ہوں کب سے
لہر اُٹھتی ہے نہ دریا میں بھنور پڑتے ہیں
کوئی چارہ نہ رہا پار اُترنے کے سوا
پھول ہی پھول ہیں ہر سمت ندیم
راہ دشوار ہوئی جاتی ہے
آندھیوں میں چراغ لے کے چلوں
اور عناصر کو دنگ دنگ کروں
ابھی ”کُن“ کہتے کہتے رہ گیا ہوں
محبت میں عجب عالم ہوا ہے
تھک کے ٹیلوں پہ اُتر آئی ہیں پیاسی چڑیاں
جیسے صحراؤں میں چشمے ہوں اُبلنے والے
ہر شے اپنی اپنی زباں میں اظہارِ حالات کرے
صبح کو چڑیا پیڑ پیڑ سے شب بسری کی بات کرے
انسان کو انسان سمجھنا بھی تو سیکھو
اچھا ہے سو اچھا ہے، برا ہے سو برا ہے
کوئی کوہکن ہو کہ قیس ہو، کوئی میر ہو کہ ندیم ہو
سبھی نام ایک ہی شخص کے، سبھی پھول ایک ہی ڈال کے
گو ہم کو خدا نہ ہاتھ آیا
امکان کے بیج بو گئے ہم
جو شاخ تنے کی نفی کر دے
اس شاخ پہ کیا گلاب آئے
سونی سونی گلیاں ہیں، اُجڑی اُجڑی چوپالیں
جیسے کوئی آدم خور، پھر گیا ہو گاؤں میں
کاش ندیم خدا کو کوئی یاد دلا دے
برسوں پہلے میں نے ایک تمنا کی تھی
رات عجیب رات تھی، ہم تھے خدا کی ذات تھی
چاند بھی زَرد زَرد تھا، تارے بھی خال خال تھے
شاعر ہو کہ حکمراں کہ صوفی
اِس دور میں سب کا رنگ فق ہے
عصرِ رواں کا تقاضا شاید رستہ تکنا ہے، ورنہ
مل جاتے یا مر جاتے تھے لوگ قدیم افسانوں میں
مر جاتا ہوں، جب یہ سوچتا ہوں
میں تیرے بغیر جی رہا ہوں
توہینِ گناہ کر رہا ہے
زاہد ہے بلا کا لاابالی
مت مانگ دعائیں، جب محبت
تیرا میرا معاملہ ہے
اتنا مانوس ہوں سناٹے سے
کوئی بولے تو برا لگتا ہے

(0) ووٹ وصول ہوئے