نیب ریفرنسز ،ْنواز شریف کی جانب سے پیروی کیلئے نئے وکیل جہانگیر جدون نے اپنا وکالت نامہ جمع کرادیا

مریم نواز کے وکیل طبیعت خرابی کے باعث عدالت میں پیش نہ ہوسکے امجد پرویز کو 19 جون کو حتمی دلائل کیلئے آخری موقع مل گیا وکیل صفائی خود تاخیری حربے استعمال کرتے ہیں اور باہر جا کر شور کرتے ہیں کہ ٹرائل میں تاخیر ہورہی ہے ،ْ ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب

جمعرات جون 14:36

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 جون2018ء) شریف خاندان کے خلاف احتساب عدالت میں زیرسماعت تین نیب ریفرنسز میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے پیروی کیلئے نئے وکیل جہانگیر جدون نے اپنا وکالت نامہ جمع کرادیا۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے جمعرات کو ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کی تو اٴْس موقع پر نواز شریف کی جانب سے جہانگیر جدون نے اپنا وکالت نامہ داخل کرادیا۔

نواز شریف کے خلاف نیب کے تینوں ریفرنسز، العزیزیہ اسٹیل ملز، فلیگ شپ انویسمنٹ اور ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں جہانگیر جدون ایڈووکیٹ سابق وزیراعظم کی وکالت کریں گے۔ اس سے قبل نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے سپریم کورٹ کی جانب سے احتساب عدالت کو ہدایات دینے پر کیس کی پیروی سے معذرت کرلی تھی۔

(جاری ہے)

سابق وزیراعظم اور مریم نواز کو عدالت نے جمعرات کو ایک دن کیلئے حاضری سے استثنیٰ دے رکھا تھا جبکہ مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ بھی پیش نہ ہوئے۔

معاون وکیل محمد اورنگزیب ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ امجد پرویز کی طبیعت خراب ہے جس کی وجہ سے وہ پیش نہیں ہوسکتے جس پر عدالت نے مریم نواز کے وکیل امجد پرویز کو 19 جون کو حتمی دلائل کے لیے آخری موقع دے دیا اور کیس کی مزید سماعت بھی اسی روز کے لیے ملتوی کردی گئی۔کمرہ عدالت میں اس وقت گرما گرمی دیکھنے میں آئی جب ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وکیل صفائی خود تاخیری حربے استعمال کرتے ہیں اور باہر جا کر شور کرتے ہیں کہ ٹرائل میں تاخیر ہورہی ہے۔

سردار مظفر عباسی نے کہا کہ یہ کوئی طریقہ کار نہیں، امجد پرویز نے خود دلائل کی تاریخ مقرر کی تھی، اگر وکلا کیس نہیں چلانا چاہتے تو ملزمان کو بلائیں، وہ خود اپنا کیس لڑیں، یہ ڈرامے کر رہے ہیں۔ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ اپنی مرضی کا وقت رکھ کر کہہ رہے ہیں کہ طبیعت خراب ہے جس پر معاون وکیل نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کس قسم کے الفاظ استعمال کیے جا رہے ہیں ،ْقانون کے ساتھ ہمارا ایک اخلاقیات کا پرچہ بھی ہوتا تھا جو آج نظر نہیں آرہیں۔

معاون وکیل نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ تعاون کیا، ایک دن طبیعت خراب ہو گئی تو کیا ہوا جس پر احتساب عدالت کے جج نے کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو روسٹرم پر بلوایا اور استفسار کیا کہ آپ کے وکیل کیوں پیش نہیں ہو رہے۔کیپٹن (ر) صفدر نے عدالت کو بتایا کہ میرے وکیل ڈی ہائیڈریشن کا شکار ہیں جن سے گزشتہ روز بات ہوئی اور ان کا کہنا تھا کہ افطاری کے بعد ان کی طبیعت خراب ہوگئی۔اس موقع پر جج محمد بشیر نے کہا کہ معاون وکیل کا کہنا ہے کہ افطاری سے پہلے طبیعت خراب تھی۔